عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی عزوجل NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 3041 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



فقیر غفرلہ کے مشاہدہ میں یہ بات آئی کہ بعض علم و فہم سے نا آشنا لوگ انٹرنیٹ پر غلط عقائد کو پھیلا رہے ہیں، لہٰذا فقیر اس طرف متوجہ ہوا کہ اس بارے میں مستند تحقیقات عوام الناس کے سامنے پیش کی جائیں لہٰذا اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر مشہور زمانہ کتاب بہار شریعت کے پہلے حصہ سے پیش کئے جاتے ہیں ملاحظہ فرمائیں اور اپنے عقائد کے متعلق آگاہی حاصل کریں اور اگر کہیں کوئی غلط فہمی ہو تو اس کی اصلاح فرما لیں اور میرے لئے دعائے مغفرت فرما دیں۔۔

عقائد متعلقہ ذات و صفات الٰہی جل جلالہ

عقیدہ: اللہ ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ ذات میں \\\' نہ صفات میں \\\' نہ افعال میں \\\' نہ احکام میں\\\' نہ اسما میں\\\' واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود ضروری ہے اور عدم محال۔ قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے۔ ازلی کے بھی یہی معنی ہیں باقی ہے یعنی ہمیشہ رہے گا اسی کو ابدی بھی کہتے ہیں ۔ وہی اس کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت و پرستش کی جائے۔

عقیدہ: وہ بے پرواہ ہے کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اس کا محتاج ہے۔
عقیدہ: اس کی ذات کا ادراک عقلاً محال کہ جو چیز سمجھ میں آتی ہے عقل اس کو محیط ہوتی ہے اور اس کو کوئی احاطہ نہیں کرسکتا البتہ اس کے افعال کے ذریعہ سے اجمالاً اس کی صفات پھر ان صفات کے ذریعہ سے معرفت ذات حاصل ہوتی ہے۔
عقیدہ: اس کی صفتیں نہ عین ہیں نہ غیر یعنی صفات اسی ذات ہی کا نام ہو ایسا نہیں اور نہ اس سے کسی طرح کسی نحو وجود میں جدا ہوسکیں کہ نفس ذات کی مقتضیٰ ہیں اور عین ذات کو لازم۔
عقیدہ: جس طرح اس کی ذات قدیم ازلی ابدی ہے صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہیں۔
عقیدہ: اس کی صفات نہ مخلوق ہیں نہ زیر قدرت داخل
عقیدہ: ذات و صفات کے سوا سب چیزیں حادث ہیں یعنی پہلے نہ تھیں اور پھر موجود ہوئیں۔
عقیدہ: صفات الٰہی کو جو مخلوق کہے یا حادث بتائے گمراہ بد دین ہے۔
عقیدہ: جو عالم میں سے کسی شے کو قدیم مانے یا اس کے حدوث میں شک کرے کافر ہے۔
عقیدہ: نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا نہ اس کے لئے بی بی۔ جو اسے باپ یا بیٹا بتائے یا اس کے لئے بی بی ثابت کرے کافر ہے بلکہ جو ممکن بھی کہے گمراہ بد دین ہے۔
عقیدہ: وہ حی ہے یعنی خود زندہ ہے اور سب کی زندگی اس کے ہاتھ میں ہے۔ جسے جب چاہے زندہ کرے اور جب چاہے موت دے۔
عقیدہ: وہ ہر ممکن پر قادر ہے کوئی ممکن اس کی قدرت سے باہر نہیں۔
عقیدہ: جو چیز محال ہے اللہ عزوجل اس سے پاک ہے کہ اس کی قدرت اسے شامل ہو۔ کہ محال اسے کہتے ہیں جو موجود نہ ہوسکے اور جب مقدور ہوگا تو موجود ہوسکے گا پھر محال نہ رہا۔ اسے یوں سمجھو کہ دوسرا خدا محال ہے یعنی نہیں ہوسکتا تو یہ اگر زیر قدرت ہو تو موجود ہوسکے گا تو محال نہ رہا اور اس کو محال نہ ماننا وحدانیت کا انکار ہے یو نہی فنائے باری محال ہے۔ اگر تحت قدرت ہو تو ممکن ہوگی اور جس کی فنا ممکن ہو وہ خدا نہیں تو ثابت ہوا کہ محال پر قدرت ماننا اللہ عزوجل کی الوہیت سے ہی انکار کرنا ہے۔
عقیدہ: ہر مقدور کے لئے ضروری نہیں کہ موجود ہوجائے البتہ ممکن ہونا ضروری ہے کہ اگرچہ کبھی موجود نہ ہو۔
عقیدہ: وہ ہر کمال و خوبی کا جامع ہے اور ہر اس چیز سے جس میں عیب و نقصان ہے پاک ہے یعنی عیب و نقصان کا اس میں ہونا محال ہے۔ بلکہ جس بات میں نہ کمال ہو نہ نقصان وہ بھی اس کے لئے محال۔مثلاً جھوٹ\\\'دغا\\\' خیانت\\\' ظلم\\\'جہل\\\' بے حیائی وغیرہم عیوب اس پر قطعاً محال ہیں اور یہ کہنا کہ جھوٹ پر قدرت ہے بایں معنی کہ وہ خود جھوٹ بول سکتا ہے محال کو ممکن ٹھہرانا اور خدا کو عیبی بتانا بلکہ خدا سے انکار کرنا ہے۔ اور یہ سمجھنا کہ محالات پر قادر نہ ہوگا تو قدرت ناقص ہوجائے گی\\\' باطل محض ہے کہ اس میں قدرت کا کیا نقصان۔ نقصان تو اس محال کا ہے کہ تعلق قدرت کی اس میں صلاحیت نہیں ۔
عقیدہ: حیات\\\' قدرت\\\' سننا\\\' دیکھنا\\\' کلام\\\' علم\\\' ارادہ اس کے صفات ذاتیہ ہیں مگر کان\\\' آنکھ\\\' زبان سے اس کا سننا دیکھنا کلام کرنا نہیں کہ یہ سب اجسام ہیں اور اجسام سے وہ پاک۔ ہر پست سے پست آوازکو سنتا ہے ہر باریک سے باریک کو کہ خوردبین سے محسوس نہ ہو وہ دیکھتا ہے۔ بلکہ اس کا دیکھنا اور سننا انہی چیزوں پر منحصر نہیں ہر موجود کو دیکھتا اور ہر موجود کو سنتا ہے۔
عقیدہ: مثل دیگر صفات کے کلام بھی قدیم ہے حادث و مخلوق نہیں۔ جو قرآن عظیم کو مخلوق مانے ہمارے امام اعظم و دیگر ائمہ ثلاثہ نے اسے کافر کہا بلکہ صحابہ کرام سے اس کی تکفیر ثابت ہے۔
عقیدہ: اس کا کلام آواز سے پاک ہے اور یہ قرآن عظیم جس کو ہم اپنی زبان سے تلاوت کرتے\\\' مصاحف میں لکھتے ہیں اسی کا کلام قدیم بلا صوت ہے اور یہ ہمارا پڑھنا لکھنا اور یہ آواز حادث یعنی ہمارا پڑھنا حادث ہے اور جو ہم نے پڑھا قدیم اور ہمارا لکھنا حادث ہے اور جو لکھا قدیم ہمارا سننا حادث ہے اور جو ہم نے سنا قدیم ہمارا حفظ کرنا حادث ہے اور جو ہم نے حفظ کیا قدیم یعنی متجلی قدیم ہے اور تجلی حادث۔
عقیدہ: اس کا علم ہر شے کو محیط یعنی جزئیات \\\'کلیات\\\' موجودات\\\' معدومات\\\' ممکنات\\\' محالات\\\' سب کو ازل میں جانتا تھا\\\' اور اب جانتا ہے اور ابد تک جانے گا۔ اشیاء بدلتی ہیں اور اس کا علم نہیں بدلتا۔ دلوں کے خطروں اور وسوسوں پر اس کو خبر ہے اور اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں۔
عقیدہ: وہ غیب و شہادت سب کو جانتا ہے۔ علم ذاتی اس کا خاصہ ہے۔ جو شخص علم ذاتی غیب خواہ شہادت کا غیر خدا کے لئے ثابت کرے کافر ہے۔ علم ذاتی کے یہ معنی کہ بے خدا کے دیئے خود حاصل ہو۔
عقیدہ: وہی ہر شے کا خالق ہے ذوات ہوں خواہ افعال\\\' سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔
عقیدہ: حقیقتاً روزی پہنچانے والا وہی ہے ملائکہ وغیرہم وسائل و وسائط ہیں۔
عقیدہ: ہر بھلائی برائی اس نے اپنے علم ازلی کے موافق مقدور فرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا کہ اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا۔ زید کے ذمہ برائی لکھی اس لئے کہ زیدبرائی کرنے والا تھا۔ اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ اس کے لئے بھلائی لکھتا\\\' تو اس کے علم یا اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کردیا۔ تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبیﷺنے اس امت کا مجوس بتایا۔
عقیدہ: قضا تین قسم ہے:

(1) مبرم حقیقی، کہ علم الٰہی میں کسی شے پر معلق نہیں
اور (2) معلق محض، کہ صحف ملائکہ میں کسی شے پر اس کا معلق ہونا ظاہر فرمادیا گیا ہے
اور (3) معلق شبیہ بہ مبرم، کہ صحف ملائکہ میں اس کی تعلیق مذکور نہیں اور علم الٰہی میں تعلیق ہے۔

وہ جو مبرم حقیقی ہے اس کی تبدیلی ناممکن ہے اکابر محبوبان خدا اگر اتفاقاً اس بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں تو انہیں اس خیال سے واپس فرما دیا جاتا ہے. ملائکہ قوم لوط پر عذاب لے کر آئے۔ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا الکریم و علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کہ رحمت مخصہ تھے ان کا نام پاک ہی ابراہیم ہے یعنی رحیم مہربان باپ، ان کافروں کے بارے میں اتنے ساعی ہوئے کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے۔ ان کا رب فرماتا ہے یُجَادِلُنَا فِیْ قَومِ لُوْطٍ (١٢ ھود :٧74٤)ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ (ترجمہ کنزالایمان)

یہ قرآن عظیم نے ان بے دینوں کا رد فرمایا جو محبوبان خدا کی بارگاہ عزت میں کوئی عزت و وجاہت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اس کے حضور کوئی دم نہیں مارسکتا حالانکہ ان کا رب ل ان کی وجاہت اپنی بارگاہ میں ظاہر فرمانے کو خود ان لفظوں سے ذکر فرماتا ہے کہ ہم سے جھگڑنے لگا قوم لوط کے بارے میں۔

حدیث میں ہے شب معراج حضور اقدس انے ایک آواز سنی کہ کوئی شخص اللہ کے ساتھ بہت تیزی اور بلند آواز سے گفتگو کر رہا ہے حضور اقدس ﷺنے جبرئیل امین سے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ عرض کی موسیٰ علیہ السلام فرمایا کیا اپنے رب پر تیز ہوکر گفتگو کرتے ہیں؟ عرض کی ان کا رب جانتا ہے کہ ان کے مزاج میں تیزی ہے۔ جب آیہ کریمہ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی (پ ٣30٠ الضحیٰ 5٥)نازل ہوئی کہ بے شک قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤگے (ترجمہ کنزالایمان)۔

حضور سید المحبوبین ﷺنے فرمایا اِذَا اِلَّا اَرْضٰی وَوَاحِدٌ مِّنْ اُمَّتِیْ فِی النَّارِ ایسا ہے تو میں راضی نہ ہوں گا اگر میرا ایک امتی بھی آگ میں ہو۔ یہ تو شانیں بہت رفیع ہیں جن پر رفعت عزت وجاہت ختم ہے صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیہم۔

مسلمان ماں باپ کا کچابچہ جو حمل سے گرجاتا ہے اس کے لئے حدیث میں فرمایا \\\'\\\'کہ روز قیامت اللہ عزوجل سے اپنے ماں باپ کی بخشش کے لئے ایسا جھگڑے گا جیسا قرض خواہ کسی قرضدار سے یہاں تک کہ فرمایا جائے یٰۤاَ یُّہَا السِّقْطُ الْمَرَاَغمُ رَبَّہ،اے کچے بچے اپنے رب سے جھگڑنے والے اپنے ماں باپ کا ہاتھ پکڑلے اور جنت میں چلا جا خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا مگر ایمان والوں کے لئے بہت نافع اور شیاطین الانس کی خباثت کا دافع تھا کہنا یہ ہے کہ قوم لوط پر عذاب قضائے مبرم حقیقی تھا۔ خلیل اللہ علیہ السلام اس میں جھگڑے تو انہیں ارشاد ہوا یٰۤااِبْرٰہِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ ہٰذٰا اِنَّہُمْ اٰتِیْہِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ ( ١٢ ھود ٧76٦) اے ابراہیم اس خیال میں نہ پڑ بےشک تیرے رب کا حکم آ چکا اور بےشک ان پر وہ عذاب آنے والا ہے کہ پھیرا نہ جائے گا (ترجمہ کنزالایمان)۔

اور جو ظاہر قضائے معلق ہے اس تک اکثر اولیاء کی رسائی ہوتی ہے ان کی دعا سے ان کی ہمت سے ٹل جاتی ہے۔

اور وہ جو متوسط حالت میں ہے جسے صحف ملائکہ کے اعتبار سے مبرم بھی کہہ سکتے ہیں اس تک خواص اکابر کی رسائی ہوتی ہے۔ حضور سیدنا غوث اعظم رحمتہ اللہ علیہ اسی کو فرماتے ہیں \\\'\\\' میں قضائے مبرم کو رد کردیتا ہوں\\\'\\\' اور اسی کی نسبت حدیث میں ہیں ارشاد ہوا اِنَّ الدُّعَا یَرُدُّ القُضَآءَ بَعْدَ مَا اُبْرِمَ بے شک دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے۔

مسئلہ: قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے ان میں زیادہ غور و فکر کرنا سبب ہلاکت ہے۔ صدیق و فاروق رضی اللہ عنہمااس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے ما و شما کس گنتی میں۔ اتنا سمجھ لو کہ اللہ عزوجل نے آدمی کو مثل پتھر اور دیگر جمادات کے بے حس و حرکت نہیں پیدا کیا\\\' بلکہ اس کو ایک نوع اختیار دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ بھلے برے نفع نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کردیئے ہیں کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اسی قسم کے سامان مہیا ہوجاتے ہیں اور اسی بنا پر اس پر مواخذہ ہے۔ اپنے آپ کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی ہیں۔

مسئلہ: برا کام کر کے تقدیر کی طرف نسبت کرنا\\\' اور مشیت الٰہی کے حوالہ کرنا بہت بری بات ہے بلکہ حکم یہ ہے \\\'\\\'جو اچھا کام کر اسے منجانب اللہ کہے اور جو برائی سرزد ہو اس کو شامت نفس تصور کرے۔\\\'\\\'

عقیدہ: اللہ عزوجل جہت و مکان و زمان و حرکت و سکون و شکل وصورت و جمیع حوادث سے پاک ہے۔
عقیدہ: دنیا کی زندگی میں اللہ عزوجل کا دیدار نبی ﷺکے لئے خاص ہے اور آخرت میں ہرسنی مسلمان کے لئے ممکن بلکہ واقع رہا قلبی دیدار یا خواب میں یہ دیگر انبیاء علیہم السلام بلکہ اولیاء رحمہم اللہ کے لئے بھی حاصل ہے۔ ہمارے امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو خواب میں سو بار زیارت ہوئی۔
عقیدہ: اس کا دیدار بلا کیف ہے یعنی دیکھیں گے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ کیسے دیکھیں گے۔ جس چیز کو دیکھتے ہیں اس سے کچھ فاصلہ مسافت کا ہوتا ہے\\\' نزدیک یا دور وہ دیکھنے والے سے کسی جہت میں ہوتی ہے اوپر یا نیچے دہنے یا بائیں آگے یا پیچھے۔ اس کا دیکھنا ان سب باتوں سے پاک ہوگا پھر رہا یہ کہ کیونکر ہوگا یہی تو کہا جاتا ہے کہ \\\'\\\'کیونکر\\\'\\\' کو یہاں دخل نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ جب دیکھیں گے اس وقت بتادیں گے۔ اس کی سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں تک عقل پہنچتی ہے وہ خدا نہیں اور جو خدا ہے اس تک عقل رسا نہیں اور وقت دیدار نگاہ اس کا احاطہ کرے یہ محال ہے۔
عقیدہ: وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے کسی کو اس پر قابو نہیں اور نہ کوئی اس کے ارادے سے اسے باز رکھنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آئے نہ نیند۔ تمام جہان کا نگاہ رکھنے والا\\\' نہ تھکے\\\' نہ اکتائے\\\' تمام عالم کا پالنے والا\\\' ماں باپ سے زیادہ مہربان\\\' حلم والا\\\' اسی کی رحمت ٹوٹے ہوئے دلوں کا سہارا اسی کے لئے بڑائی اور عظمت ہے۔ ماؤں کے پیٹ میں جیسی چاہے صورت بنانے والا\\\' گناہوں کا بخشنے والا\\\' توبہ قبول کرنے والا\\\' قہر و غضب فرمانے والا۔ اس کی پکڑ نہایت سخت ہے جس سے بے اس کے چھڑائے کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ وہ چاہے تو چھوٹی چیز کو وسیع کردے اور وسیع کو سمیٹ دے۔ جس کو چاہے بلند کردے اور جس کو چاہے پست۔ ذلیل کو عزت دے دے اور عزت والے کو ذلیل کردے۔جس کو چاہے راہ راست پر لائے اور جس کو چاہے سیدھی راہ سے الگ کر دے جسے چاہے اپنا نزدیک بنالے اور جسے چاہے مردود کردے۔ جسے جو چاہے دے اور جو چاہے چھین لے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے یا کرے گا عدل و انصاف ہے۔ ظلم سے پاک و صاف ہے۔ نہایت بلند و بالا ہے۔ وہ سب کو محیط ہے اس کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ نفع و ضرر اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ مظلوم کی فریاد کو پہنچتا اور ظالم سے بدلہ لیتا ہے۔ اس کی مشیت اور ارادہ کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ مگر اچھے پرخوش ہوتا ہے اور برے سے ناراض۔ اس کی رحمت ہے کہ ایسے کام کا حکم نہیں فرماتا جو طاقت سے باہر ہے۔ اللہ عزوجل پر ثواب یا عذاب یا بندے کے ساتھ لطف یا اس کے ساتھ وہ کرنا جو اس کے حق میں بہتر ہو اس پر کچھ واجب نہیں۔ مالک علی الاطلاق ہے جو چاہے کرے اور جو چاہے حکم دے۔ ہاں اس نے اپنے قلم سے وعدہ فرمالیا ہے کہ مسلمانوں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور بمقتضائے عدل کفار کو جہنم میں۔اور اس کے وعدہ وعید بدلتے نہیں۔ اس نے وعدہ فرمالیا ہے کہ کفر کے سوا ہر چھوٹے بڑے گناہ کو جسے چاہے معاف فرمادے گا۔
عقیدہ: اس کے ہر فعل میں کثیر حکمتیں ہیں خواہ ہم کو معلوم ہوں یا نہ ہوں اور اس کے فعل کے لئے غرض نہیں کہ غرض اس فائدہ کو کہتے ہیں جو فاعل کی طرف رجوع کرے۔ نہ اس کے فعل کے لئے غایت کہ غایت کا حاصل بھی وہی غرض ہے اور نہ اس کے افعال علت و سبب کے محتاج۔ اس نے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق عالم اسباب میں مسببات کو اسباب سے ربط فرمادیا ہے۔ آنکھ دیکھتی ہے\\\' کان سنتا ہے\\\' آگ جلاتی ہے\\\' پانی پیاس بجھاتا ہے\\\' وہ چاہے تو آنکھ سنے کان دیکھے\\\' پانی جلائے\\\' آگ پیاس بجھائے\\\' نہ چاہے تو لاکھ آنکھیں ہوں دن کو پہاڑ نہ سوجھے\\\' کروڑ آگیں ہوں ایک تنکے پر داغ نہ آئے کس قہر کی آگ تھی جس میں ابراہیم ں کو کافروں نے ڈالا۔کوئی پاس نہ جاسکتا تھا گو پھن میں رکھ کر پھینکا جب آگ کے مقابل پہنچے\\\' جبرئیل امین حاضر ہوئے اور عرض کی \\\'\\\'ابراہیم کچھ حاجت ہے؟\\\'\\\' فرمایا \\\'\\\'ہے مگر تم سے نہیں۔ عرض کی پھر اسی سے کہئے جس سے حاجت ہے فرمایا عِلْمُہُ بِحَالِی کَفَانِی عَن سُؤاَلِیْ اظہار احتیاج خود آنجاچہ حاجت است\\\'\\\' ارشاد ہوا یٰنَارُ کُونِیْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰی اِبْرٰاہِیْم (پ ١٧ الانبیاء ٦٩)اے آگ ٹھنڈی اور سلامتی ہوجا ابراہیم پر۔ اس ارشاد کو سن کر روئے زمین پر جتنی آگیں تھیں سب ٹھنڈی ہوگئیں کہ شاید مجھی سے فرمایا جاتا ہو\\\' اور یہ تو ایسی ٹھنڈی ہوئی کہ علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس کے ساتھ \\\'\\\'وَسَلٰمًا\\\'\\\' کا لفظ نہ فرما دیا جاتا کہ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی ہوجا تو اتنی ٹھنڈی ہوجاتی کہ اس کی ٹھنڈک ایذا دیتی۔