اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 3034 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا
\\\\\\\\\\\\\\\"تباہی کا شکار غزہ میں حضور اکرم ﷺ کے جد اکبر آسودہ خاک ہیں\\\\\\\\\\\\\\\" !!!

سرکار دوعالم ﷺ کے والد گرامی نے بھی اس شہر کا سفر فرمایا :
غزہ کی پٹی اسرائیلی جارجیت کا شکار ہونے کی وجہ سے ان دنوں عالمی شہ سرخیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے۔تاہم بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد گرامی نے اس علاقے کا سفر اختیار کیا اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد اکبر آسودہ خاک ہیں۔

غزہ کی خاص تاریخی اور اسلامی اہمیت هے!
غزہ عالم اسلام کے عظیم فقیہ حضرت امام الشافعی رحمة الله عليه کی جائے پیدائش بھی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے غزہ سے قریباً 25 کلومیٹر دور عسقلان کے مقام پر بچپن کے دو برس گزارے اور بعد میں اپنے والدماجد کے ہمراہ مکہ ہجرت کر گئے تھے۔
الکنعانیون نے 3500 برس قبل غزہ کی بنیاد رکھی۔
فلسطین نیشنل انفارمیشن سینٹر کی بیان کردہ معلومات کے مطابق کنعانیوں نے اس جگہ کا نام \\\\\\\\\\\\\\\'ھزاتی\\\\\\\\\\\\\\\' رکھا۔ فراعنہ نے اس کے لیے \\\\\\\\\\\\\\\'غزاتو\\\\\\\\\\\\\\\' کا نام تخلیق کیا، پھر الاشوریین اور یونان نے اسے \\\\\\\\\\\\\\\'عزاتی\\\\\\\\\\\\\\\' اور \\\\\\\\\\\\\\\'فازا\\\\\\\\\\\\\\\' کا نام دیا جبکہ عبرانیوں نے اسے \\\\\\\\\\\\\\\'عزہ\\\\\\\\\\\\\\\' اور بالآخر عربوں نے اسے \\\\\\\\\\\\\\\'غزہ\\\\\\\\\\\\\\\' بنا دیا، جس کا مطلب \\\\\\\\\\\\\\\'ناقابل تسخیر\\\\\\\\\\\\\\\' بنتا ہے۔
فی زمانہ اسرائیلی ظلم و بربریت کے سامنے ڈٹ کر غزہ کے مظلوم عوام اس کی ناقابل تسخیر حیثیت پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔
عالم اسلام کے .غزه میں رفاعی اورشاذلی سلسلہ شریفہ دو معروف اولیاءکرام کامسکن بھی ہے جو مخلوق خدا کو الله الله سکھاتے ہیں.

عالم اسلام کے مشہورسیاح اورمراکشی عالم ابن بطوطہ رحمه الله تعالى نے بھی سنہ 1355 میں شمالی مصر کے شہر الصالحیہ سے نکل کر کئی دن غزہ میں گزارے۔ اپنے ایک سفر نامے میں وہ غزہ سے متعلق رقمطراز ہیں: \\\\\\\\\\\\\\\"ہم الصالحیہ سے چلتے چلتے غزہ پہنچے۔

یہ ملک شام کا پہلا پڑاؤ ہے، اس کے بعد مصر آتا ہے۔ اس میں بہت سی عمارتیں تھیں اور بازار سلیقے سے بنائے گئے تھے۔ غزہ میں بہت سی مساجد تھیں جن پر جنگلے لگے ہوئے تھے۔ یہاں جامع مسجد حسن میں نماز جمعہ ہوتی تھی، اس مسجد کو امیر المعظم الجاولی نے تعمیر کرایا۔ یہ مسجد مضبوط صناعی کی منہ بولتی تصویر تھی جس کا منبر سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا تھا۔

غزہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جد اکبر ہاشم بن عبد مناف کی آخری آرام گاہ
عربوں کے لیے غزہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فتح کیا تھا۔ اس شہر کا اسلام سے پہلے اور بعد کے متعدد واقعات میں مستند ذکر ملتا ہے۔

عرب تجارت کے سلسلے میں یہاں آیا کرتے تھے کیونکہ یہ علاقہ اہم تجارتی روٹ تھا۔ اس شہر کا ذکر دو مشہور سفروں میں ملتا ہے۔ اس سفروں کا ذکر قرآن کی سورہ قریش میں ملتا ہے۔ تجار قریش کا سردی میں یمن کا سفر اور گرمیوں میں ان کا غزہ اور شام کے اردگرد علاقوں کا سفر: \\\\\\\\\\\\\\\"ِلإِيلَافِ قُرَيْشٍ. إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ. فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ. الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآَمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ\\\\\\\\\\\\\\\"۔

گرمیوں میں غزہ کے ایک سفر کے دوران نبئ معظم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جد اکبر ہاشم بن عبد مناف رحلت فرما گئے۔ ہاشمی انہی سے نسبت رکھتے ہیں اور یہ عظیم شخصیت غزہ میں ہی آسودہ خاک ہیں۔
ان کی تربت \\\\\\\\\\\\\\\'جامع السید ہاشم\\\\\\\\\\\\\\\' میں ہے، جسے شہر کی \\\\\\\\\\\\\\\'الدرج\\\\\\\\\\\\\\\' کالونی میں مملوک نے بنوایا پھر السلطان عبدالحمید رحمة الله تعالى عليه نے سنہ 1850ء میں اسے از سر نو تعمیر کرایا تھا، اسی وجہ سے بعض اوقات علاقے کو \\\\\\\\\\\\\\\'غزہ ہاشم\\\\\\\\\\\\\\\' بھی کہا جاتا ہے۔(بشکریہ: محمد زاہد البکری الصدیقی)

اس اعتبار سے غزہ کی اپنی تاریخی و اسلامی حیثیت مسلم ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو اسلامی حکومتوں کا امین و نقیب سمجھنے والے بے حس و عیاش لوگوں کو آج غزہ کی تباہی و بربادی نظر نہیں آتی۔ عالمی برادری سے مسلسل احتجاج کے بعد رمضان الکریم کے اخیر عشرے میں آل سعود نے چند کروڑ کی امدااد کا اعلان کیا۔ اور عید سعید کے بعد مفتی اعظم سعودی عرب کہلانے والے شیخ عبدالعزیز نے فلسطینیوں کی حمایت و اسرائیل کے خلاف اھتجاجی مظاہروں کو غیر شرعی اور بدعت قرار دے کر, نہ صرف اسرائیل کی حمایت کی, بلکہ لہو لہان غزہ کے زخموں پر نمک پاشی کا کام بھی کیا ہے۔

بعد ازاں سعودی حاکم نے ایک بیان غالبا عالمی برادری میں بد نامی کے ڈر سے داغ دیا ۔ کہ فلسطینیوں پر حملے اور اسلامی برادری کی خاموشی ناقبل برداشت ہے۔ اس سے دشمن یہ نہ سمجھیں کہ ہم کزور ہیں۔ عالمی مسلم برادری کو اس سلسلے میں کوئی اقدام کرنا چاہیے۔ وغیرہ۔

مگر کیا صرف بیان بازی اور چند کروڑ مالیت کی مدد فراہم کرکے غزہ کی خوش حالی واپس کی جاسکتی ہے؟
کیا عبداللہ جناب کا بیان غزہ کے یتیموں کو سہارا دلا سکتا ہے؟
کیا مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز کا فتوی اسرائیل حامی نہیں؟

کیا ایسا فتوی صادر کرکے انہوں نے اسرائیل کی پشت کو تھپتھپانے کا کام نہیں کیا، کہ فلسطین کو تباہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں؟
ماضی قریب میں کئی مثالیں دیکھنے کو ملی اقوام متحدہ اور اسرائیل مسلم ممالک پر معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
آج عرب ممالک کے پاس طاقت ہے۔ صرف بیان بازی سے کچھ نہیں ہونے والا سعودی حاکم نے جس نیک عمل کی دعوت عالمی برادری سے کی ہے ان سے گزارش ہے کہ وہ اس میں پہل کریں، نیک کام دیری کیوں؟ ۔۔۔۔بس آپ اعلان کردیں کہ امریکہ اور اسرائیل اور سارے اسلام دشمن ممالک اسلامی ریاستوں اور مسلمانوں پر ظلم کو بند کریں ورنہ ان کو پیٹرول اور تیل کی کی سپلائی بند کردی جائے گی۔

جس طرح ان لوگوں نے مسلم ممالک پر معاشی پابندیان عائد کیں، آپ بھی ان پر پابندیاں لگائیں۔ آپ کے پاس بھی طاقت ہے آپ استعمال کیوں نہیں کرتے۔ بس عالمی برادری میں لاج بچانے سیاسی بیان بازی کردی جاتی ہے۔ اور سرکاری مفتی سے فتوے لکھوا کر اسرائیل کو خوش کردیا جاتا۔ اللہ مظلوم مسلمین عالم کی مدد فرمائے۔

ہم خون کی قسطیں تو بہت دے چکے لیکن
اے خاک وطن قرض ادا کیوں نہیں ہوتا