مضمون ’’ بابا رتن ہندی بحیثیت صحابی رسول‘‘ آخری قسط کا منصفانہ جائزہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 5456 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک مہینہ قبل ایک ساتھی کی زبانی یہ سننے کو ملا کہ ہندوستان کے کسی ماہنامہ میں بابا رتن ہندی کو جس کی وفات ۶۳۲؁ھ میں ہوئی صحابی ثابت کیا گیا ہے سن کر بڑا تعجب ہوا، کیونکہ ہم حدیث اور علوم حدیث کی کتابوں میں یہی پڑھتے آیے ہیں کہ آخری صحابی رسول ﷺ ابو طفیل عامر بن واثلہ لیثی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں جن کی وفات ۱۱۰ ھ ؁ میں ہوئی ، اس جدید تحقیق نے میرے دل میں یہ اشتیاق پیدا کیا کہ ضرور اس مضمون کا مطالعہ کیا جائے، پھرکچھ دنوں بعد مولانا شاہد رامپور ی ازہری کے ذریعہ ماہنامہ ’’کنز الایمان ‘‘دستیاب ہوا ساتھ ہی اس بات سے با خبر کیا کہ اسی ماہنامہ میں مضمون ’’بابا رتن ہندی بحیثیت صحابی رسول‘‘ شایع ہوا ہے،تو میں نے اولا اسی مضمون کا مطالعہ شروع کیا اور جب میں اختتام کوپہونچا تو یہ احساس ہوا کہ یہ مضمون یقینی طور پر کافی محنت اور ورق گردانی کے بعد منظر عام پر آیا ہے جس کی عکاسی حوالا جات کر رہے ہیں،مگر میرا دل اس جدید تحقیق پر مطمئن نہ ہوسکا اور ہو بھی کیسے سکتا تھا اس لئے کہ اکابر علمائے حدیث کی آراء وتحریریں اس مضمون کے بر خلاف تھیں ، تو میں نے ضروری سمجھا کہ ان حضرات کی آراء کو دلائل سے مزین کرکے حقیقت کو قارئین پر آشکارا کروں ۔
اس میں دورائے نہیں کہ مضمون ’’بابا رتن ہندی بحیثیت صحابی رسول‘‘ کسی کے صحابی ہونے اور نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اصول حدیث اور متن حدیث پر مشتمل ہے مگر مضمون میں متن پر زیادہ زور ہے اور تقریبا اصول حدیث سے بے اعتنائی برتی گئی ہے۔ متن حدیث صحیح ہے یانہیں ، اور جرح و تعدیل کب معتبر ہے کب نہیں ،جرح کرنے والا اگر مجرح کا معاصر ہو تو اس کا کیا اثر پڑے گا ،خاص طور سے جب کہ آپس میں کوئی چپقلش یا حسد کی بو آتی ہو ، یا یہ کہ جارح بعض مسائل میں اختلاف کی وجہ سے افراط و تفریط کا شکار ہو ، ان کے علاوہ اور بہت ساری چیز یں ہیں جن کے حل کے لئے علماء حدیث اور ان کے اقوال کی طرف لازما رجوع کرناچاہئے جنھوں نے بہت ہی شر ح و بسط کے ساتھ علم حدیث کے اصول و قواعد کو واضح کر دیا ہے ،اور کبھی بھی کسی شخص کی جرح وقدح کے لئے فقط ایک عالم کے قول پراکتفاء نہیں کرنا چاہئے ورنہ کبھی بھی علم حدیث خاص کر علم رجال میںحق واضح نہ ہوسکے گا۔ لہذا ضروری ہے کہ اس طرح کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ان کی بارگاہ عالی میں زانو ئے ادب تہہ کیا جائے تا کہ صحیح ڈھنگ سے مرض کا تعین ہو اور اس کے مطابق دوا کا انتخاب کر کے بہتر طریقہ سے علاج کیا جا سکے ۔ انہیںجہابذہ حدیث کے اقوال وقوانین کی روشنی میں’’ بابا رتن ہندی بحیثیت صحابی رسول‘‘کی آخری قسط پر کچھ معروضات پیش خدمت ہیں ۔
ہمارے معروضات دو حصوں پر مشتمل ہیں پہلا حصہ رد جس میں ہم مقالہ نگار کے دلائل کا جائزہ لیںگے،اوردوسراحصہ اثبات ، جس میں ’’حدیث عمر الامۃ‘‘ کاصحیح مفہوم اور بابا رتن ہندی کے کذاب ہونے کو اقوال علمائے حدیث کی روشنی میں پائے ثبوت تک پہونچائیں گے ،اور اواضح کریںگے کہ محدثین کرام نے جو سمجھاہے وہی صحیح ہے،نہ کہ وہ جو مقالہ نگار نے زبردستی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
رد اورمقالہ نگار کے دلائل کا جائزہ:
صاحب مقالہ بعض علماء جنھوں نے با با رتن ہندی کے صحابی ہونے کا انکار کیا ہے ان کے حوالہ جات نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں :ــــ’’ لیکن ان میں سے کسی کا قول مضبوط نہیں کہ لگ بھگ سب کی بنیاد امام ذہبی کے قول پر ہے اور سب کی بات میں تزلزل ہے‘‘ ۔
صاحب مقالہ نے میری سمجھ سے بابا رتن ہند ی کو صحابی ثابت کرنے کے لئے اپنے مقالے میںپ انچ دلیلیں پیش کی ہیں شاید انھیں دلیلو ں پر توکل کرکے مذکورہ بالاقول کرنے کی جرات کی ہے ۔ (۱) بابارتن ہندی کی صحابیت کا انکار کرنے والے امام ذہبی رحمہ اللہ ہیں اور باقی علماء اس معاملے میں ان کے متبع ہیں اور امام ابن سبکی نے ا ن پر بہت لعن و طعن کر کے تشنیع و تحقیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، یہاں تک فرمادیا: لا یعتمد علیہ، ولا ینبغی ان یوخذ من قولہ،کیونکہ وہ اہل سنت کے متعلق کلام کرنے میں بہت افراط و تفریط سے کام لیتے تھے لہذا جب اتنے بڑے عالم نے کہہ دیا تو اب ان کے قول کاا عتبارنہیں ،لہذا ان کی اتباع کرنے والے دیگر علما کا بھی اعتبار نہیں (۲) اولیا و ابدال با با رتن ہندی کے صحابیت کی تصدیق کر چکے ہیں لہذا تنہاایک امام ذہبی رحمہ اللہ کے قول کو ان کی تصحیح پر کیسے ترجیح دیاجا سکتا ہے ؟ (۳) چند صحابیوں کی درازی عمر کے ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’یہ تمام حضرات حجاز مقدس سے باہر تھے اس لئے اس حدیث سے ان پر کوئی اعتراض نہیں پڑے گا،اسی طرح بابا رتن ہندی بھی عہد رسالت ہی میں ہندوستان چلے آیے تھے،اس لیے آپ بھی قیدسے باہر سمجھے جائیںگ‘‘۔(۴) ’’ پھر اگر درازی عمر ہی پر اعتراض ہو توحضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر تقریبا تین سو سال ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تمام حضرات حجاز مقدس سے باہر تھے اس لئے اس حدیث شریف سے ان پر کوئی اعتراض نہیں پڑے گا ، اسی طرح بابا رتن ہندی بھی عہد رسالت ہی میں ہندوستان چلے آیے تھے،اس لیے آپ بھی قیدصدی سے باہر سمجھے جائیںگے‘‘۔(۵) اور اگر کوئی بضد ہو اور حدیث کو عموم پر ہی محمول کرتا ہو تو کوئی حرج نہیں،کیونکہ حضور اکرم ﷺنے بابارتن ہندی کی درازی عمر کے لئے چھ مرتبہ دعاء فرمائی،ہر بارمیں سوسال کی آپ کو عمر ملی‘‘۔ پھر حدیث ذکر کی: وقال لی عند خروجی الخ۔۔۔۔۔ آیئے دیکھتے ہیں ان کی مذکورہ بالا بنیادوں میں کتنا قرار اور کتنا تزلزل ہے۔
پہلی دلیل کتنی کمزور اور ناقص ہے مندرجہ ذیل نکات کی روشنی میں انشاء اللہ واضح ہوجائے گااور یہ بھی روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ امام ابن سبکی رحمہ اللہ کی جرح ونقد امام ذہبی رحمہ اللہ کے قول کے انحطاط کا باعث نہیں بن سکتا ،لہذا وہ معتمد علیہ ہونگے ۔
پہلا نکتہ: امام ابن سبکی رحمہ اللہ کی جرح ونقد کا اعتبار امام ذہبی رحمہ اللہ کے حق میں مقبول نہیں ہوگا۔ کیونکہ اگر چہ دونوں کے درمیان استاذ اور شاگردی کا رشتہ ہے مگرچونکہ دونوں ایک دوسرے کے معاصر ہیں اور ساتھ ساتھ ان کے درمیان صفات باری تعالیٰ وغیرہ کے مسئلہ میں سخت اختلاف بھی ہے ،اس لیے امام ابن سبکی رحمہ اللہ کی جرح امام ذہبی رحمہ اللہ کے بارے میں معتبر نہیں ہوگی ۔امام ابو محمد عبدا للہ بن وہب قرشی ’’المبسوطۃ ‘‘میں فرماتے ہیں :
انہ لا یجوز شھادۃ القاری علی القاری ۔یعنی العلماء ۔ لانھم اشد الناس تحاسد اوتباغضا،وقالہ سفیان الثوری ومالک بن دینار۔ ترجمہ: ایک عالم کی دوسرے عالم کے خلاف گواہی معتبر نہیں ، کیونکہ ان کے اندر بغض و حسدبہت زیادہ پایا جاتا ہے ، اور اسی کے قائل سفیان ثوری اور مالک بن دینار رحمہمااللہ بھی ہیں ۔(۱) یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہم عصر کی جرح ایک دوسرے کے حق میں قابل قبول نہیں ہوگی،محدث کبیر ابو غدۃ حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اسی کو علمائے متاخرین یوں فرماتے ہیں : لا یسمع کلام الاقران بعضھم فی بعض۔(۲)
اور امام ابو الحسنات ابو الحسن لکنو ی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر کوئی عالم جرح عداوت یا تعصب یا نفرت کی وجہ سے کرے تو اس کی جرح غیر قابل قبول بلکہ مردود ہو گی، پھر مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں : ولہذا : لم یقبل قول الامام مالک فی ’’محمد بن اسحاق‘‘صاحب المغازی : انہ دجال من الدجاجلۃ لما علم انہ صدر من منافرۃ باھرۃ ۔ ترجمہ: اس لئے امام امالک رحمہ اللہ کا قول ’’محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کے بارے میں قبول نہیں کیا گیاکہ : وہ دجالوں میں سے ایک دجال ہے کیونکہ انہوں نے ان کے حق میں شدید نفرت کی وجہ سے ایساکلام کیاہے۔ (۳)
پھر مزید کچھ مثالیں دینے کے بعد فرماتے ہیں : ومن ثم قالوا: لا یقبل جرح المعاصر علی المعاصر ای اذا کان بلا حجۃ لان المعاصرۃ تفضی غالبا الی المنافرۃ ۔ ترجمہ: ائمہ حدیث فرماتے ہیں : معاصر کی معاصر کے خلاف جرح قبول نہیں کی جائے گی جبکہ بغیر دلیل کے ہو ، کیونکہ معاصرت عموما نفرت کا باعث بنتی ہے(۴)
معاصرت اور ان دونوں کے درمیان صفات باری تعالیٰ کے تعلق سے شدید اختلاف کی وجہ سے ہی امام ابن سبکی رحمہ اللہ کے نقد کوعلماء کرام نے رد کردیا ،یا یہ کہکرغیر مقبول قراردے یا کہ امام ابن سبکی رحمہ اللہ نے جس تعصب اور بے جا نقد کو امام ذھبی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے ان کوغیر معتبر بنانے کی کوشش کی ہے وہ خود بھی اسی بلاء میں ملوث ہیں بلکہ ان سے دو چار ہاتھ آگے ہی ہیں۔ چنانچہ امام صنعانی رحمہ اللہ ’’صاحبــ سبل السلام‘‘ اپنی کتاب ’’ توضیح الافکار لمعانی تنقیح الانظار ‘‘ میں ان کے قول پر تعقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : قلت لا یخفی ان ابن السبکی شافعی حاد اشعری وان الذھبی امام کبیر الشان ، حنبلی الاعتقاد ، شافعی الفروع و بین ھاتین الطائفتین الحنابلۃ والاشعریۃ فی العقائد : فی الصفات و غیرھا تنافر کلی فلایقبل السبکی علی الذہبی بعین ما قالہ فیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔فلم یبقی للباحث طمانینۃ الی قول احد بعد قول ابن السبکی : انہ لا یقبل الذھبی فی مدح حنبلی ولا ذم اشعری وقد صار الناس عالۃ علی الذھبی و کتبہ، ولکن الحق انہ لا یقبل علی الذھبی ابن السبکی لما ذکرہ ھو ، ولما ذکرہ الذھبی من انہ لا یقبل الاقران بعضھم علی بعض۔
ترجمہ: واضح ہے کہ ابن سبکی رحمہ اللہ شافعی ہونے کے ساتھ متشدد اشعری ہیں اور ذہبی رحمہ اللہ بڑے امام ، اعتقاد میں حنبلی ہیں اور فروعیات میں شافعی کی پیروی کرتے ہیں ، اوران دو نوں جماعتوں کے درمیان خدا کی صفات وغیرہ میں کے اعتقاد کے تعلق سے پورے طور سے بعد ہے۔۔۔۔۔۔ امام ابن سبکی رحمہ اللہ کا امام ذہبی رحمہ اللہ کے بارے میں ایسا قول کرنے کے بعد کہ : امام ذہبی کا قول کسی حنبلی کی تعریف یا کسی اشعری کی مذمت میں قبول نہیں کیا جائے گا ،کوئی معتبر آدمی نہیں رہ گیا کہ جس کی طرف باحث رجوع کرکے اپنے دل کو اطمینان بخشے ، اور حال یہ ہے کہ لوگ امام ذہبی اور ان کی کتابوں پر پورہ اعتماد کرنے لگے ہیں ، بہر حال حق یہ ہے کہ: خود امام سبکی رحمہ اللہ کے قائدہ کی بنیاد پر ان کی جرح اور امام ذہبی رحمہ اللہ کے اصول کی بنا پر کہ معاصر کی جرح ایک دوسرے کے خلاف معتبر نہیں ، امام ذہبی رحمہ اللہ کے خلاف قابل قبول نہ ہو گی(۵)
امام سخاوی رحمہ اللہ امام سبکی رحمہ اللہ کے نقد کو امام ذہبی کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :فالذی نسب الذہبی لذلک ہو تلمیذہ التاج السبکی وہو علی تقدیر تسلیمہ،انما ہو فی افراد مما وقع التاج السبکی اقبح منہ ۔
ترجمہ: جس افراط و تفریط کی طرف امام سبکی نے اپنے شیخ کو منسوب کیا ہے اگر اس کو تسلیم بھی کر لیا جائے ، تو و ہ تو خودبھی بعض افراد کے بارے میں افراط و تفریط کے شکار ہوئے ہیں جو ان سے زیادہ قبیح ہے(۶) اس کی مثالیں مذکوہ کتاب میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
قاضی شوکانی امام سبکی رحمہ اللہ پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ومن جملۃ ما قالہ السبکی فی الحافظ الذھبی : انہ کان اذا اخذ القلم غضب حتی لا یدری مایقول وھذا باطل ، فمصنفاتہ تشھد بخلاف ھذہ المقالۃ ، وغالیھا الانصاف والذب عن الافاضل و اذ جری قلمہ با لو قیعۃ فی احد ، فان لم یکن من معاصریہ فھو انما روی ذلک عن غیرہ، وان کان من معاصریہ فالغالب انہ لا یفعل ذلک الا مع من یستحقہ وان وقع ما یخالف ذلک نادر ا فھذا شان البشر وکل احد یوخذ من قولہ و یترک الا المعصوم ، والا ھویۃ تختلف ،والمقاصد تتباین وربک یحکم بینھم فیما کانوا فیہ یختلفون ۔
ترجمہ: اور امام سبکی رحمہ اللہ کی تنقید میں سے امام ذہبی رحمہ اللہ پر یہ بھی ہے : امام ذہبی رحمہ اللہ جب لکھنے کا ارادہ کرتے تو غصہ میں آجاتے اور کیا لکھتے وہ خود نہیں سمجھ پاتے تھے ۔یہ قول باطل ہے، جس کے بطلان پر ان کی کتابیں شاہد عدل ہیں ، ان کی کتاب کا اکثر حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ علماء کے حق میں انصاف سے کام لیتے تھے اور ان سے خرابیوں کو دور کرتے تھے، اور اگر ان کا قلم کسی کے بارے میں نقد کے لئے اٹھا اور خطا واقع ہوئی تووہ ان کاہم عصر نہیں ہو گا اور دوسرں کا قول ان کے بارے میں ذکر کرنے کی وجہ سے ایسا ہوا، اور اگر ان کے معاصر میںسے ہے تو نقد کرنے کے لئے انہیںپر قلم اٹھایا اور وہی لکھا جس کا وہ مستحق تھا، اور اگر کبھی غلطی سے خلاف حق جرح ہوگئی تو یہ تو بشر کی فطرت سے ہے ،اور معصوم کے سوا ہر شخص کے بعض قول لئے جاتے ہیں اوربعض چھوڑ دیئے جاتے ہیں، اور خواہشات ہر ایک کی مختلف ہوتی ہیں اور تمہارا رب ان کے اختلاف کا فیصلہ کرے گا (۷)
اور دوسری جگہ امام سخاوی فرماتے ہیں: بالغ السبکی فی کلامہ مع ان الذھبی عمدتہ فی جل التراجم و کونہ ھو ـای السبکی ـ قدزاد التعصب علی الحنابلۃ کما اسلفتہ فشارکہ فیما زعمہ من التعصب و دعوی الغیبۃ ۔ ترجمہ: امام سبکی رحمہ اللہ نے امام ذہبی رحمہ اللہ پر نقد کرنے میں مبالغہ کیا ہے حالانکہ وہ اکثر تراجم میں عمدہ ہیں، اور ابن سبکی تو خود حنابلہ کے ساتھ تعصب سے پیش آئے ہیں ، لہذا امام ذھبی کے بارے میں تعصب اور بے جا نقد کا دعوی کرتے کرتے خود اس میں گرفتار ہو گئے (۸)
دوسرا نکتہ:اور اگر بر سبیل تنزل یہ مان لیا جائے کہ امام سبکی رحمہ اللہ کی نقد و جرح امام ذہبی رحمہ اللہ کے حق میں معتبرہے ، اگر چہ وہ ایک دوسرے کے معاصر ہیں اور بعض مسائل میں سخت اختلاف بھی رکھتے ہیں ،اس صورت میں بھی جب ہم ان کے اقوال کی طرف نظر کرتے ہیں تو یہ واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے کہ امام سبکی رحمہ اللہ کی جرح وقدح کو دلیل بناکر امام ذہبی رحمہ اللہ کے قول کو رد کرنا اور پھر بابا رتن ہندی کو صحابی ثابت کرنے کی کوشش کرنا درست نہیں، کیونکہ یہ جرح و قدح صرف اہل سنت و صوفیاکے ساتھ خاص ہے اور یہ مسئلہ نہ تو اہل سنت سے تعلق رکھتا ہے اونہ ہی صوفیاء کے ارد گرد گھومتا ہے بلکہ یہ مسئلہ تو کسی کے صحابی ہونے اور نہ ہونے پر ہے ۔ جس میں کسی فریق کی وجہ سے کسی کے صحابی ہونے کا انکارکرنا خطرے سے خالی نہیں اور ایسی امید ایسے امام علم و فن سے نہیں کی جاسکتی ۔
امام ابن سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لہ علم و دیانۃ ، وعند ہ علی اھل السنۃ تحامل مفرط فلا یجوز ان یعتمد علیہ(۹) ترجمہ: اگر چہ امام ذہبی رحمہ اللہ کا علم اور ان کی دیانتداری مسلم ہے مگر ساتھ ہی ان کے کلام میں اہل سنت پر زیادتی بھی موجود ہے اس لئے ان کی جرح و تعدیل پراعتماد نہیں کیا جائے گا ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں : واما تاریخ شیخنا الذھبی غفراللہ لہ ۔ فانہ علی حسنہ و جمعہ ۔ مشحون بالتعصب المفرط لا واخذہ اللہ، فقد اکثر الوقیعۃ فی اھل الدین ، اعنی الفقراء الذین ھم صفوۃ الخلق الخ۔۔۔۔۔ ترجمہ: اور ہمارے شیخ امام ذہبی رحمہ اللہ کی ’’تاریخ الاسلام ‘‘اگر چہ عمدہ کتاب ہے مگر وہ کتاب بے جا تعصب سے بھری پڑی ہے ، اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے انہوں نے صوفیائے کر ام جو صفوۃ الخلق ہیں ان پر بہت بے جا نقدکیا ہے(۱۰)
اور تیسرے مقام پر فرماتے ہیں : والذی افتی بہ انہ لا یجوز الاعتماد علی کلام شیخنا الذھنی فی ذم الاشعری ولا شکر حنبلی واللہ المستعان ۔ ترجمہ: اور فتوی یہ ہے کہ جب ہمارے شیخ امام ذہبی رحمہ اللہ کا کلام کسی اشعری کی مذمت یا کسی حنبلی کی تعریف میں ہو تو ان کے کلام پر اعتماد نہیں کیا جائے گا(۱۱)
اور اگر ان اقوال سے استدلال درست مان بھی لیا جائے اور مذکورہ مسئلہ کو اہل سنت کا مسئلہ قرار دیدیا جائے پھر بھی اگرہم ان کے اقوال کی طرف غائرانہ نظرڈالتے ہیں اور پھر امام ذہبی رحمہ اللہ کے مصنفات کی طرف نظر کرتے ہیں تو حقیقت ان کے اقوالـ ـ جن کو وہ جرح سمجھتے ہیں کے خلاف نظر آتی ہے۔ آخران تینوں اقوال کا نچوڑ یہی ہے کہ امام ذہبی رحمہ اللہ اہل سنت ،صوفیاء کرام پر کلام کرکے ان پر حد سے زیادہ شدت برتی ہے، لہذاان کا قول معتبر نہیں ہو گا ۔ حالانکہ یہ حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ امام ہبی نیک اور متقی آدمی تھے ، صوفیاء اور صلحاء سے محبت رکھتے تھے ، ان کے محبت کی دلیل یہ ہے کہ اگر چہ انہیں بعض صوفیاء کے افعال پر ا عتراض ہوتا مگر وہ ان کے بارے میں حسن ظن کا حکم دیا کرتے تھے۔
چنانچہ جب صوفی شیخ ابن الفارض کا ترجمہ لکھا، اس وقت فرمایا: حدث عن القاسم بن عساکر ینعق بالاتحادالصریح فی شعرہ وھذہ بلیۃ عظیمۃ فتدبر نظمہ و لا تستعجل ولکن حسن الظن بالصوفیۃ۔ ترجمہ: ابن عساکرسے روایت کی گئی ہے کہ وہ یعنی (ابن الفارض) اپنے شعر میں صریح اتحاد کا ذکر کرتے ہیں اور یہ بلائے عظیم ہے ، تو پہلے ان کے اشعار کو غور سے پڑھو اور حکم لگانے میں جلدی نہ کرو بلکہ صوفیاء کرام کے تعلق سے حسن ظن رکھو ۔ (۱۲)
اور ان کے اہل سنت و جماعت اور صوفیاء کرام سے محبت کی دلیل یہ بھی ہے کہ ان کی کتابوں میں صوفیاء کرام اور صلحاء کا ذکر بہت بہتر طریقہ سے ہے ان کی جابجا امام ذہبی رحمہ اللہ تعریف و توصیف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، ان کی کرامت اور خوابوں کا ذکر کرتے ہیں ، ان حضرات کے ذکر خیر سے ان کی کتابیں مملوء ہیں یہ یقینا ان کے صلاح قلب اور دین حق میں خیر خواہی کی دلیل ہے ۔
ان کی محبت کوصوفیاء اور اہل سنت سے آشکارہ کرنے کے لئے اور ان سے تعصب کی تہمت اتارنے کے لئے مثال کے طور پر مندرجہ ذیل زاہدوں اور صلحاء کے تراجم دیکھنا ضروری ہے جن کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ شرح و بسط کے ساتھ ترجمہ لکھ کر ان سے اپنی محبت والفت کا اظہار کیا ہے :
(أ)عظیم تابعی اویس قرنی یمانی رحمہ اللہ ۔(۱۳)
(ب) تابعی جلیل ابو مسلم خولانی، دارانی، دمشقی رحمہ اللہ ۔ (۱۴)
(ج) جلیل تابعی محمد بن واسع بصری رحمہ اللہ تعالی۔ (۱۵)
ان کے علاوہ اور بہت سارے تابعین کرام اور بعد کے صوفیاء کرام کا طویل ذکر ان کی مذکورہ دونوں کتابوںمیں ملے گا خاص کر جب دوسرے تراجم کی طرف نسبت کر کے دیکھا جائے تو یقینا صوفیاء کرام کے مناقب اور اولیاء کرام کی کرامات ذکر نے میں امام ذہبی رحمہ اللہ کو فوقیت حاصل ہے ۔ لہذا یہ کہنا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ ان کے تراجم میں تشدد کر تے تھے صحیح نہیں۔
تیسرا نکتہ :اگر مزید تنزلی کی جائے اور مان لیا جائے کہ آپ کے مطابق ان کی جرح معتبر ہے اور ان کی دلائل و اقوال بھی ذہبی رحمہ اللہ کے بارے میں بالکل صحیح اور واقع کے مطابق ہے ، تو پھر غور کرنے کی ضرورت ہے کیا صرف ایک یا دو مجرح کی وجہ سے ان کے قول کو رد کر دیا جائے گا اگر چہ ان کی توثیق و توصیف میں علماء و محدثین کی ایک طویل فہرست ہو ، یقینا ایسا نہیں ہو گا بلکہ جمہور کا قول لیا جائے گا کیونکہ یہ اصول حدیث کے موافق ہے خاص طور سے جبکہ مجرح کی دلیل مضبوط نہ ہو ۔
ہمارے ا ستاذ رضا بن زکریا بن محمدصاحب قبلہ فرماتے ہیں : ان کان عدد المعدلین اکثر قدم التعدیل لان کثرۃ المعدلین تقوی حالھم وقلۃ الجارحین تضعف خیرھم ( ای یقدم الاکثر عددا) ترجمہ: اگر معدلین کی تعداد زیادہ ہو تو ان کو مجرحین پر مقدم رکھا جائے گا کیونکہ ان کا زیادہ ہونا ان کی حالت کو تقویت بخشتا ہے اور مجرحین کا کم ہونا ان کی خبر کو ضعف کی طرف لے جاتا ہے ۔(۱۶)
اور اگر تھوڑا غور کیا جائے تو خود امام ابن سبکی رحمہ اللہ کا قاعدہ اس بات پرشاہد عدل ہے کہ ان کا قول امام ذہبی رحمہ اللہ کے حق میں مقبول نہ ہوگا ،خصوصا جبکہ اس کا سبب آپسی اختلافات ہوں، یا عصبیت کی بنا پر اس کا صدور ہو اہو ، اور قرینہ شاہد عدل ہے کہ ان کی جرح وقدح انہیں چیزوں کی وجہ سے تھی جیسا کہ ثابت ہو چکا۔
چنانچہ فرماتے ہیں : الجارح لا یقبل منہ الجرح وان فسرہ فی حق من غلبت طاعاتہ علی معاصیہ ، ومادحوہ علی ذامیہ ، ومزکوہ علی جارحیہ ، اذا کانت ھناک قرینۃ یشھد العقل بان مثلھا حامل علی الوقیعۃ فی الذی جرحہ من تعصب مذھبی او منافسۃ دنیویۃ ، کما یکون بین النظراء او غیر ذلک۔
ترجمہ: جارح کی جرح اگر چہ مفسر ہو اس شخص کے حق میں جس کی طاعات اس کے معاصی پر اور اس کے مدح کرنے والے مذمت کرنے والے پر اور معدلین مجرحین پر غالب ہوں ، قبول نہیں کی جائے گی ، یہ اس صورت میں ہے جبکہ جارح مجروح کے حق میں مذھبی تعصب یا دنیوی تنافس کا شکار نہ ہو ا ہو ، جیسا کہ ہم عصر وغیر ہ کے درمیان ہوتا ہے۔ (۱۷)
امام ذہبی رحمہ اللہ کے تعلق سے مختصرا چند اقوال ذکر کرتا ہوں جس سے صاف واضح ہو جائے گا کہ وہ اس مذکورہ قاعدہ کی روشنی میں اس قابل ہیں کہ امام ابن سبکی رحمہ اللہ کے قول کو ان کے حق میں قبول نہ کیاجائے ۔
(۱)قال تلمیذہ الحافظ المحدث الفقیہ الاصولی المورخ تاج الدین السبکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٰ
واما استاذنا ابو عبد اللہ فبحر لا نظیر لہ، و کنز ھو الملجا اذا نزلت المعضلۃ، امام الوجود حفظا، وذھب العصر معنی و لفظا، و شیخ الجرح والتعدیل، ورجل الرجال فی کل سبیل، کانماجمعت الامۃ فی صعید فنظرھا، ثم اخذ یخبر عنھا اخبار من حضرھا، وھو الذی خرجنا فی ھذہ الصناعۃ،وادخلنا فی عداد الجماعۃ ،جزاہ اللہ عنا افضل الجزائ، وجعل حظہ من غرفات الجنان موفر الجزائ۔(۱۸)
(۲) وقال الحافظ السیوطی فی ترجمۃ الذھبی : ’’حکی عن شیخ الاسلام ابی الفضل بن حجر ، انہ قال شربت ماء زمزم لاصل الی مرتبۃ الذھبی فی الحفظ ۔ والذی اقولہ : ان المحدثین عیال الان فی الرجال وغیرھا من فنون الحدیث علی اربعۃ : المزی،والذھبی، والعراقی، وابن حجر ‘‘۔انتھی۔(۱۹)
(۳) وقال الحافظ ابن کثیر فی الثناء علی الذہبی:’’الشیخ الحافظ الکبیر مورخ الاسلام و شیخ المحدثین۔۔۔۔۔وقد ختم بہ شیوخ الحدیث وحفاظہ‘‘۔(۲۰)
(۴) وقال تلمیذ الذھبی ایضا العلامۃ المورخ الادیب صلاح الدین الصفدی ، فی ’’ الوافی بالوفیات ‘‘ ۲: ۱۶۳، فی ترجمتہ : ’’ ۔۔۔۔حافظ لا یجاری ، ولا فظ لا یباری ، اتقن الحدیث و رجالہ ،و نظر عللہ واحوالہ وعرف تراجم الناس ، وازال الابھام فی تواریخھم والالباس،ذھن یتوقد ذکاوہ، ویصح الی الذھب نسبتہ وانتماوہ ، جمع الکثیر، و نفع الجم الغفیر ، واکثر من التصنیف ، ووفر بالاختصار مؤونۃ التطویل فی التالیف۔
اجتمعت بہ واخذت عنہ ، وقرات علیہ کثیر امن تصانیفہ ، ولم اجد عندہ جمود المحدثین ، ولاکودنۃ النقلۃ بل ھو فقیہ النظر ، لہ دربۃ باقوال الناس ومذاھب الائمۃ من السلف وارباب المقالات ۔ واعجبنی منہ ما یعانیہ فی تصانیفہ ، من انہ لا یتعدی حدیثا یوردہ حتی یبین ما فیہ من ضعف متن، او ظلام اسناد، اوطعن فی رواتہ، و ھذا لم ار غیرہ یراعی ھذہ الفائدۃ فیما یوردہ ‘‘۔انتھی(۲۱)
امام ذہبی رحمہ اللہ کے مزید اوصاف جاننے کے لیے مندرجہ ذیل کتب کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے:
(۱) البدر الطالع ۲:۱۱۰،۱۱۲(۲)تاریخ ابن الوردی ۲:۲۴۹(۳)الدرر الکامنۃ ۳:۴۲۶،۴۲۷ (۴)الدارس فی اخبار المدارس ۱:۷۸،۷۹(۵)ذیول العبرۃ ۲۶۷،۲۶۸ (۶) شذرات الذہب ۶:۱۵۳،۱۵۷ (۷) طبقات الاسنوی ۱:۵۵۸،۵۵۹(۸) طبقات القراء ۲:۷۱(۹) طبقات ابن ہدایۃ اللہ :۲۳۲ (۱۰) فہرس الفہارس ۱:۳۱۲،۳۱۴ (۱۱) فوات الوفیات ۲:۳۷۰،۳۷۲ (۱۲) مرآۃ الجنان ۴:۳۳۱،۳۳۳ (۱۳) مفتاح السعادۃ ۱:۲۶۱:۲،۳۵۸،۳۵۹ (۱۴) النجوم الزاہرۃ ۱۰:۱۸۲(۱۵) نکت الہمیان ۲۴۱،۲۴۴ (۱۶) الوافی بالوفیات ۲:۱۶۳،۱۶۸۔
ان تمام نکات سے یہ بات اجاگر ہوکر سامنے آگئی کہ ابن سبکی رحمہ اللہ کی نقد ذہبی رحمہ اللہ کے حق میں جارح نہیں، نیز یہ کہ ذہبی رحمہ اللہ کی شخصیت علمائے حدیث کے نزدیک مسلم ہے ،یہاں تک کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے آب زمزم پیا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے حفظ میں امام ذہبی رحمہ اللہ کے مرتبہ تک پہونچا دے۔ لہذا حافظ ذہبی رحمہ اللہ بابا رتن ہندی کی تکذیب میں محق ہیں،مزید برآں وہ اس رائے میں تنہا نہیں بلکہ ان کی تائید میں ان کے ایک ہم عصر عالم جلیل کا قول بھی موجود ہے:
امام ذہبی رحمہ اللہ کے ایک ہم عصر فقیہ ،محدث ابو عبد اللہ معین الدین محمد بن جابر الودیاشی نے بھی با با رتن ہندی کو صحابی نہیں مانا ، چنانچہ تینک جنھوں نے معمر ین کذابوں کے تعلق سے دو شعر کہے تھے ، ان کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے بھی ایک شعر کہا اور اس میں رتن ہندی کو ذکر کر کے ان کے اشعار کے ساتھ ذم کر کے ان کے اشعار کو تقویت بخشی۔
چنانچہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : انشدنی الودیاشی یعنی بہ ابا عبد اللہ معین الدین محمد بن جابر بن محمد بن قاسم بن احمد بن محمد بن حسان القیسی الفقیہ المحدث المصری الرحال المکی قال تینک البیتین فیشفع یعنی بھما۔۔۔حدیث بن نسطور ویسر ویغنم۔۔۔وافک اشج الغرب ثم خراش۔۔۔ونسخۃ دینار واخبار رتبۃ۔۔۔ابی ھدبۃ القیسی شبہ فراشی۔۔۔ قال الذہبی:فعززہما یعنی الودیاشی بقولہ۔۔۔رتن ثامن والماردینی۔۔۔ تاسع ربیع بن محمود وذلک فاشی۔ ولم یصرح الذہبی فی ربیع الوضع۔(۲۲)
دوسری دلیل : ’’یہ ہے کہ جب لوح محفوظ کا مطالعہ کرنے والے اولیا وابدال آپ کی صحابیت کے بارے میں تصدیق فرمائیں تو محض ایک امام ذہبی صاحب کے قول کی بنیاد پر آپ کی صحابیت کاانکار کرنا مناسب نہیں ‘‘۔ص۳۲۔ دوسر جگہ فرماتے ہیں: آپ کی صحابیت کی اور آپ سے اخذ حدیث وتصحیح سند کرنے والے حضراتا کے اسمائے گرامی۔ص۳۶۔
مقالہ نگار کا صرف یہ کہدینا کافی نہیں کہ اولیا کرام و ابدال نے آپ کی صحابیت کی تصدیق فرمائی، بلکہ ضروری ہے کہ دلائل و براہین کی روشنی میںاپنے قول کو ثابت کرتے ،اور پورے مقالے میں ایسا کچھ نہیں ، ہاں کچھ لوگوں کی بابا رتن ہندی سے اخذ حدیث کے تعلق سے ذکر ہے اگر صاحب مقالہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی توثیق و تعدیل ہے تو یہ جمہورعلمائے محدثین و دیگر علما کے قانون کے خلاف ہے، کیونکہ صرف اخذ حدیث مروی عنہ کے موثق ہونے کی علامت یا دلیل نہیں ہو سکتی، انشاء اللہ ذیل کی عبارت سے واضح ہو جائے گا ۔
حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:وکذا لیس تعدیلا مطلقاعلی القول الصحیح الذی قال بہ اکثر العلماء من المحدثین وغیرہم روایۃ العدل الحافظ الضابط فضلا عن غیرہ عن الراوی علی وجہ التصریح باسمہ لانہ یجوز ان یروی عمن لا تعرف عدالتہ، بل و عن غیر عدل فلا تتضمن روایتہ عنہ تعدیلہ ولا خبرا عن تصدیقہ۔(۲۳)
اور اگر اصولیین اور بعض محدثین کا اعتبار کیا جایے تو بھی ان کا روایت کرنا مروی عنہ کے لیے معدل نہیں ہو سکتیں، کیونکہ جن کے بارے میں اخذ حدیث و تصحیح سند کا ذکر کیا گیا ہے ان کے بارے معلوم نہیں کہ وہ عدول سے روایت کرنے کا التزام کرتے تھے یا نہیں؟اور حالات یہی بتاتے ہیں کہ التزام نہیں کرتے تھے، کیونکہ ان لوگوں نے ایسے شخص سے روایت کی ہے جس کے بارے میںاکثر علمائے عظام کذاب ہونے کا قول کر چکے ہیں۔
والثابت التفصیل، فان علم انہ لایروی الا عن عدل کانت روایتہ عن الراوی تعدیلا لہ والا فلا، وہذا ہو الصحیح عند الاصولیین کالسیف الآمدی الخ۔۔۔۔۔۔۔(۲۴)
لہذا مولانا کی یہ دلیل بھی با با رتن ہندی کی صحابیت ثابت کرنے کے حق میں قابل قبول نہیں ہوگی۔
تیسری دلیل: مقالہ نگار نے حدیث کا مفہوم بیان کرنے کے لئے چار طرح کے اقوال نقل کئے ہیں(۱) حدیث کے الفاظ ’’علی وجہ الارض‘‘ کا مفہوم پوری دنیا کو شامل ہے (۲) ان الفاظ سے مراد صرف’’ مدینہ‘‘ ہے جو ’’قیل ‘‘سے ذکر کیا گیا ہے (۳) ان سے مراد عرب ہے (۴) مذکورہ الفاظ سے مراد حجاز ہے اور اس میں وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کو دیکھا ہے۔ پھرخلاصہء حدیث میںحدیث کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں’’یعنی جتنے لوگ حجاز مقدس پر رہنے بسنے والے ہیں ان میں سے کسی کی بھی سو سال سے زیادہ عمر نہیں ہوگی ، البتہ ا س صدی کے بعد والوں کی عمر حجاز میں بھی سو سال سے زیادہ ہو سکتی ہے‘‘۔ مذکورہ بالا اقوال سے لگتا ہے کہ ان کے پاس اپنے موقف کے ثابت کرنے کے لئے کئی ایک دلیلں ہیں ، حالانکہ حقیقت کچھ اور ہے انشاء اللہ ذیل میں بیان سے واضح ہو جائے گا۔
صاحب مقالہ کی مذکورہ بالاعبارت سے واضح ہے کہ ان کو یہ تسلیم ہے کہ حدیث کے الفاظ ’’علی وجہ الارض ‘‘ کی وسعت حجاز کو شامل ہے وبس۔ لہذا پہلا قول تو ان کے لئے دلیل بن ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ پوری روئے زمین کو شامل ہے، اور علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ کا ’’قیل ‘‘سے ذکرکیا ہوا قول بھی دلیل نہیں بن سکتا کیونکہ اس کا قائل ’’علی وجہ الارض ‘‘‘ حدیث کے الفاظ سے صرف’ ’مدینہ‘‘ مراد لے رہا ہے ۔ نیز اس قول کے قائل پر ابن حجر رحمہ االلہ رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اور حق تو یہ ہے کہ’’ الارض ‘‘میں الف لام عموم کے لئے ہے اور تمام بنی آدم کو شامل ہے۔ وابعد من قال ان اللام فی الارض عھدیۃ والمراد ارض المدینہ والحق انھا للعموم وتتناول جمیع بنی آدم (۲۵) او رآگے لکھتے ہیں: علامہ مازری فرماتے ہیں:’’حدیث شریف کے’’الارض‘‘ میں ’’الف لام‘‘ عھد کا ہے،اس سے عرب کی سرزمین مراد ہے ‘‘ اور آگے لکھتے ہیں: حضرت شاہ سید محمد علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی فرماتے ہیں :’’ اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ ایک صدی کے بعد کوئی میرا دیکھنے والا نہ رہے گا، مراد اس کی زمین حجاز سے ہے‘‘۔ یعنی حجاز میں جس نے حضور کو دیکھا ہے وہی اس حدیث کے حکم میں شامل ہے باقی لوگ صدی سے زیادہ زندہ رہ سکتے ہیں ۔ آیئے پہلے حجاز وعرب کی وسعت کو سمجھتے ہیں۔ حجاز: مکہ اور اس سے متعلق مدینہ تک جو تہامہ اور نجد کے درمیان ہے اسے حجاز کہتے ہیں۔ محمد ابراہیم سلیم فرماتے ہیں: الحجاز:’’مکۃ و ما یتعلق بہا الی المدینۃما بین تھامۃ و نجد‘‘۔(۲۶) اور عرب: مکہ و مدینہ کے علاوہ یمن وغیرہ کو بھی شامل ہے، حجاز اور عرب کے حدود بیان کرنے سے واضح ہوگیا کہ یہ دلیل یعنی علامہ مارزی رحمہ اللہ کا قول بھی قابل استدلال نہیں ہے۔ کیونکہ صاحب مقالہ پہلے ہی مان چکے ہیں کہ حدیث کی وسعت حجاز کو شامل ہے وبس، اور عرب حجاز کے علاوہ دوسرے ملکوںمثلا یمن وغیرہ کو بھی شامل ہے۔ بہر کیف اس بیان سے واضح ہو گیا کہ مقالہ نگار کے موقف کے موافق فقط ایک قول ہے جس کو بنیاد بنا کر با با رتن ہندی کو صحابی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو جمہور علماء کے قول کے خلاف ہے لہذا حضرت شاہ سید محمد علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی صاحب کے قول سے بھی اپنا موقف ثابت کرنا درست نہ ہو گا ۔
(۴) چوتھی دلیل: مقالہ نگارتحریرکرتے ہیں :’’ پھر اگر درازی عمر ہی پر اعتراض ہو توحضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر تقریبا تین سو سال ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تمام حضرات حجاز مقدس سے باہر تھے اس لئے اس حدیث شریف سے ان پر کوئی اعتراض نہیں پڑے گا ، اسی طرح بابا رتن ہندی بھی عہد رسالت ہی میں ہندوستان چلے آیے تھے،اس لیے آپ بھی قیدسے باہر سمجھے جائیںگے‘‘۔ اولا: عرض کروں، اعتراض صرف عمر کی درازی پر نہیں ہے بلکہ صریح حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہے ، نیز قرائن اس بات پر واضح دلالت کرتے ہیں کہ بابا رتن ہندی یا تو کذاب تھا یا اس کا نام گڑھ کے اس کی طرف حدیثیں منسوب کر دی گئیں ۔ کیونکہ کوئی صحابی ہو اور اس کی شہرت نہ ہو، چلیں مان لیتے ہیں پہلی صدی میں مشہور نہیں ہوئے مگر دوسری صدی جس میں تدوین کا دور شروع ہوکر،تیسری ،چوتھی صدی میں اپنے آب و تاب پر پہونچ چکا تھا، علمائے عظام اس دور میں تابعین اور تبع تابعین سے علم حاصل کرنے کے لئے دور دور کا سفر کرنے لگے تھے ،اس وقت بھی انہیں شہرت حاصل نہیں ہوئی ،کیا اس سے عقلی طورپر تقریبا یہ بات یقین کو نہیں پہونچ جاتی کہ رتن ہندی نام کاکوئی صحابی نہیں تھا ،اور اگر کوئی ابو طفیل عامر بن واثلہ لیثی کے ۱۱۰ھــ؁ میں انتقال کے بعد دوسری ، تیسری ، چوتھی صدی میںاس نام کا پایا جاتا تو ضرور ان دنوں وہ مشہور ہوجاتا ، اور دنیا کے اطراف و اکناف سے لوگوں کا ان سے حدیث اخذ کرنے اور زیارت کرنے کا تانتا بند ھ جاتا ۔
ثانیا: شاید مقالہ نگار نے حدیث کا مطلب یہ سمجھ لیاکہ جس کی بھی عمر سو سال کی ہو جائے گی اس کا خاتمہ ہو جائے گاچاہے حدیث کے ورود سے پہلے اس کی عمر کا شمار کیا جایے یا اسی رات سے کاونٹ کیا جایے ، اسی لیے شاید صاحب مقالہ نے فرمادیا: ’’پھر اگر درازی عمر ہی پر اعتراض ہو توحضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر تقریبا تین سو سال ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تمام حضرات حجاز مقدس سے باہر تھے اس لئے اس حدیث شریف سے ان پر کوئی اعتراض نہیں پڑے گا‘‘ ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ مطلب وہ ہے جوصاحب مقالہ نے امام نووی کے قول میں ذکر کیا ہے فرماتے ہیں :’’ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جو جان بھی اس رات میں موجود ہو گی وہ اسی رات کے بعد سو سال سے زیادہ زندہ نہیں رہے گی ، پہلے چاہے اس سے زیادہ عمر ہو یا کم‘‘ ۔ اس عبارت کو غور سے پرھیں پھر سوچیں کیا وہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جن کا مقالہ میں ذکر کیا گیاہے ان میں سے کسی کی عمر اس مذکورہ حدیث کے ورود کی رات سے کا ونٹ کرنے میں سو سے زیادہ ہوئی ؟ واضح جواب ملے گا ۔نہیں ۔ تو پھر حدیث سے ان ذکر کردہ صحابۂ کرام پر اعتراض بھی نہیں ہو گا اگر چہ وہ حجاز ہی میں کیوں نہ ہوں، لہذا یہ کہنا بجا نہ ہوگا: ’’ پھر اگر درازی عمر ہی پر اعتراض ہو الخ۔۔۔۔۔اورساتھ ہی ان صحابہ کو مشبہ بہ بناکر یہ کہنا بھی درست نہ ہوگا : ’’اسی طرح طرح با با رتن ہندی عہد رسالت ہی میں ہندوستان چلے آیے تھے اس لئے آپ بھی قید صدی سے باہر سمجھے جائیںگے ‘‘ ۔
پانچوی دلیل:لکھتے ہیں:’’اور اگر کوئی بضد ہو اور حدیث کو عموم پر ہی محمول کرتا ہو تو کوئی حرج نہیں،کیونکہ حضور اکرم ﷺنے بابارتن ہندی کی درازی عمر کے لئے چھ مرتبہ دعاء فرمائی،ہر بارمیں سوسال کی آپ کو عمر ملیـ‘‘۔ پھر حدیث ذکر کی: وقال لی عند خروجی الخ۔۔۔۔۔
جس مزعومہ صحابی بابا رتن ہندی پر ان احادیث کا مدار تھا،مذکورہ بالا بیان سے جب اس کا صحابی ہونا باطل ہو گیاتو اس کی احادیث بھی باطل ہو گئیں،اور ان احادیث سے استدلال کرنا بھی باطل ہوگیا۔
حدیث عمر الامۃ کا صحیح مفہوم
محدثین کرام کی نظر میں
بخاری شریف کی حدیث ہے:
عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قال: صلی بنا رسول اللہ ﷺ لیلۃ صلاۃ العشاء و ہی التی یدعو الناس العتمۃ ثم انصرف فاقبل علینافقال ارئتکم لیلتکم ہذہ فان راس مائۃ سنۃ منہا لا یبقی ممن ہو علی ظہر الارض احد۔(۲۷)
اسی میں دوسری جگہ پر ہے:
عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قال: صلی رسول اللہ ﷺ صلاۃ العشاء فی آخر حیاتہ فلم سلم قام النبی ﷺ فقال: ارئتکم لیلتکم ہذہ فان راس مائۃ لا یبقی ممن ہو الیوم علی ظہر الارض احد۔ فوہل الناس فی مقالۃ رسول اللہ ﷺ الی ما یتحدثون من ہذہ الاحادیث عن مائۃ سنۃ و انما قال النبی ﷺ : ’’لا یبقی ممن ہو الیوم علی ظہر الارض‘‘ یرید بذلک انہا تخرم ذلک القرن۔ (۲۸)
یہ دونوں حدیثیں امت کی عمر کے بارے میں ہیں، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بھی انسان آج روئے زمین پر ہے وہ سو سال کے اندر اس دار فانی سے کوچ کر جائے گا،یہی مفہوم حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا، جیسا کہ دوسری حدیث شریف کی تفسیر میں ان کے بیان سے ظاہر ہے۔
علامہ زین الدین ابو الفرج ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حدیث شریف سے مراد یہ ہے کہ جتنے لوگ اس وقت زمین پر موجود تھے سب کا وجود سو سال کے اندر صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا ، اور حدیث کی یہی تفسیر بڑے بڑے صحابہ کرام مثلا حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ نے بھی فرمائی ہے۔
واما ما قالہ ﷺ ۔ من انہ لا یبقی علی راس مائۃ سنۃ من تلک اللییلۃ احد ، فمرادہ بذلک انخرام قرنہ و موت اھلہ کلھم الموجودین منھم فی تلک اللیلۃ علی الارض ، و بذلک فسرہ اکابر الصحابۃ لعلی بن ابی طالب و ابن عمر و غیرھما۔(۲۹)
اس عبارت سے ظاہر ہوا کہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ نے بھی حدیث کا مفہوم یہی سمجھا۔
اس حدیث کے تعلق سے کیا موقف ہونا چاہئے اس کے لیے صحابہ کرام کی آراء کافی تھیں، مگر چونکہ بات آگئی ہے تو چند علما کے اقوال ذکر کر دیتا ہوں تاکہ ظاہر و باہر ہوجائے کہ جمہور علمائے کرام نے بھی ان احادیث کا یہی مطلب سمجھا اور بتایا ،اور سوسال کے بعد اگر کسی نے صحابیت کا دعوہ کیا تو انہیں احادیث اور اقوال صحابہ رضی اللہ عنھم کے پیش نظر بغیر ادنی تدبرکے رد کردیا ، نیز اگر کسی کو غلط فہمی ہو گئی ہوکہ شاید صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے بعد رائے بدل گئی ہے تو وہ ان اقوال کی تابناک روشنی میں اپنی اصلاح کرلے۔ ذیل میں محدث زمانہ، حامل سنت ، حافظ دین و ملت کے کچھ اقوال پیش ہیں۔
امام شرف الدین نووی رحمہ ا للہ فرماتے ہیں : حدیث سے مراد یہ ہے کہ اس رات جو شخص بھی زمین پر با حیات تھا وہ سو سال سے زیادہ زندہ نہ رہے گا ، اگر چہ اس کی عمر مذکورہ رات سے پہلے زیادہ ہو یا کم۔
والمراد ان کل نفس منفوسۃ کانت اللیلۃ علی الارض لا تعیش بعدھا اکثر من مائۃ سنۃ سواء قل عمرھا قبل ذلک ام لا۔(۳۰)
جلالۃ العلم حافظ زین الدین عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص صحابیت کا دعوی کرے تو اسی کی صحابیت کو مامننے کے لئے ضروری ہے کہ ظاہری حالات اس کے موافق ہوں ، لہذا اگر کسی نے سو سال کے بعد صحابی ہونے کا دعوہ کیا تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا ، جیسا کہ سو سال کے بعد ابو الدنیا اشج و مکلبۃ بن ملکان اور رتن ہندی نے صحابی ہونے کا دعوی کیا ،مگر علمائے حدیث نے ’’ارایتکم لیلتکم ھذہ ‘‘ الخ، کے پیش نظر ان کی صحابیت کے دعوی کو رد کر دیا ، اور ان کی تکذیب پر متفق ہو گئے ۔
وعلی کل تقدیرفلابد من تقیید ما اطلقہ بان یکون ادعاوہ لذلک یقتضیہ الظاہر، اما لو ادعاہ بعد مائۃ سنۃ من وفاتہ ﷺ فانہ لا یقبل ذلک منہ کجماعۃ ادعوا الصحبۃ بعد ذلک کابی الاشج، ومکلبۃ بن ملکان ورتن الہندی فقد اجمع اہل الحدیث علی تکذیبہم و ذلک لما ثبت فی الصحیحین من حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ قال:’’صلی بنا رسول اللہ ﷺ ذات لیلۃ صلاۃ العشاء فی آخر حیاتہ فلما سلم قام فقال ارایتکم الخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وکان اخبارہ ﷺ بذلک قبل موتہ بشہر۔ (۳۱)
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس حدیث سے مراد وہ امت ہے جو اس وقت روئے زمین پر تھی ۔
فان مرادہ ممن ھو علی ظھرا لارض امتہ و القرائن تدل علی ذلک منھا قولہ: ’’ارایتکم لیلتکم ھذہ‘‘ وکل من علی وجہ الارض من المسلمین و الکفار امتہ اما المسلمون، فانھم امۃ اجابۃ واما الکفار فانھم امۃ دعوۃ وعیسی و الخضر علیھما السلام لیسا داخلین فی الامۃ واما الشیطان فانہ لیس من بنی آدم(۳۲)
امیر المومنین فی الحدیث علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس حدیث سے مرادیہ ہے کہ : حضور ﷺ کے فرمان کے وقت سے ایک سو سال کی تکمیل تک وہ صدی ختم ہو جائے گی اور کوئی باقی نہ رہے گا۔ اور استقرائے تام سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جس صحابی کے ذریعہ آپ ﷺ کا قول حق ثابت ہوا وہ ابو طفیل عامر بن واثلہ لیثی رضی اللہ عنہ تھے، اور اصحاب حدیث کااس پر اجماع ہے کہ سب سے آخر میں انتقال ہونے والے صحابی ابو طفیل عامر بن واثلہ لیثی رضی اللہ عنہ ہیں ۔
وقد بین ابن عمر فی ھذا الحدیث مراد النبی ﷺ وان مرادہ ان عند انقضاء مائۃ سنۃ من مقالتہ تلک ینخرم ذلک القرن فلا یبقی احدممن کان موجودا حال تلک المقالۃ، وکذلک وقع بالاستقراء فکان آخر من ضبط امرہ ممن کان موجودا حینئذ ابو الطفیل عامر بن واثلۃ، وقد اجمع اھل الاحدیث علی انہ کان آخر الصحابۃ موتا، وغایۃ ما قیل فیہ انہ بقی الی سنۃ عشر ومائۃ وھی راس مائۃ سنۃ من مقالۃ النبی ﷺ ۔(۳۳)
حافظ حدیث علامہ جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر کوئی مدعی ہو کہ میں صحابی ہوں اور اس کے اس دعوی کے صحیح ہونے کا امکان ہو تو اس کا صحابی ہونا تسلیم کر لیا جائے گا ، لیکن اگر کسی نے ایسے وقت میں دعوی کیا جس میں اس کا صحابی ہونا ممکن ہی نہ ہو مثلا کسی نے حضور ﷺ کے وفات کے بعد صحابی ہونے کا دعوی کیا تو حدیث ’’ارایتکم لیلتکم ھذہ ‘‘ کی وجہ سے اس کا دعوی قبول نہیں کیا جائے گا ۔
او قولہ ’’ھو ‘‘ انا صحابی’’اذا کان عدلا ‘‘اذا امکن ذلک فان ادعاہ بعد مائۃ سنۃ من وفاتہ ﷺ فانہ لا یقبل وان ثبتت عدالتہ قبل ذلک، لقولہ ﷺ فی الحدیث ’’اریتکم لیلتکم ھذہ فانہ علی راس مائۃ سنۃ لم یبق احد علی ظھر الارض ۔ یرید انخرام ذلک القرن ۔قال ذلک سنۃ وفاتہ ﷺ۔(۳۴)
اور اگر مزید حدیث کی وضاحت چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل محدیثین کرام کے اقوال کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔
موضوعات الصغانی لابی الفضائل الحسن بن محمد بن الحسن القرشی الصغانی، ص۳۱۔تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ لابی الحسن علی بن محمد بن العراقی الکنانی :۲ص۳۹۔موضوعات الفتنی لمحمد طاہربن علی الفتنی الہندی، ص۱۰۴۔کشف المشکل علی صحیح البخاری لابی الفرج ابن الجوزی ج۱ص۱۱۷۔ کشف الخفاء لاسماعیل بن محمد الجراحی العجلونی ج۲ص۴۱۵۔ الشذ الفیاح من علوم ابن الصلاح لابراہیم بن موسی بن ایوب البرہان الابناسی ج۲ص۴۹۷۔ المفصل فی اصول التخریج لعلی بن نایف الشہودج۲ص۵۔رحمہم اللہ تعالی۔
بابا رتن ہندی صحابی نہیں بلکہ کذاب:
مذکورہ بالا حدیث اور اجماع محدثین کی وجہ سے علمائے کرام نے بابارتن ہندی کو کذاب قرار دیا،اور اس کی حدیثوں کواپنی اپنی موضوعات میں شمار کیا۔ ذیل میں کچھ مصنفوں کے نام ذکر کئے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی موضوعات میں بابا رتن ہندی کو کذاب یا ان کی احادیث کو موضوع قرار دیا ہے۔
امام صغانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رتن ہندی کی حدیثیں موضوع ہیں ۔
’’واحادیث رتن الھندی موضوعۃ‘‘۔(۳۵)
ابو الحسن علی بن محمد الکنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : رتن الہندی وہی مشھور کذاب ہے جس نے چہ سو سال کے بعد صحابی ہونے کا دعوی کیا۔
’’رتن الھندی ذلک الکذاب المشھور ظھر بعد الستمائۃ فادعی الصحبۃ (۳۶)
فقیہ العصر علامہ ملا علی القاری بابا رتن ہندی کی ایک حدیث ذکر کرکے فرماتے ہیں کہ یہ رتنی موضوعات سے ہے۔
من اعان تارک الصلاۃ بلقمۃ فکانما قتل الانبیاء کلہم۔ موضوع رتنی۔(۳۷)
مزید برآں بابا رتن ہندی کیا تھا اور اس کی حدیثیں کس درجہ کی ہیں ،یہ جاننے کے لئے ذیل میں ذکر کردہ محدثین کے مولفات کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔
ذیل الموضوعات لجلال الدین السیوطی ص۸۱، الفوائد المجموعۃ لمحمد بن علی الشوکانی،ج۱ص۲۰۴،موضوعات الصغانی لابی الفضائل الحسن بن محمد بن الحسن القرشی، تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ لابی الحسن علی بن محمد بن العراقی الکنانی، تذکرۃ الموضوعات لمحمد طاہربن علی الفتنی الہندی، وغیرہم رحمہم اللہ تعالی۔
کچھ چیزیں تنقیح طلب ہیں ؟
مولانا فرماتے ہیں :
(۱) ’’امام ذہبی صاحب کے بارے میں تو اسماء الرجال کی بعض کتابوں میں یہ مصرح ہے کہ جب ان کی جرح و تعدیل کے ساتھ کسی امام کی جرح و تعدیل ٹکرا جائے تو اس کو ذہبی پر ترجیح دی جائے گی ‘‘یہ قول کس کا ہے اور کس کتاب میں ہے؟
(۲) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ حجاز سے باہر کب گئے ، کیا ان کے حجاز سے باہر وفات پانے سے یہ لازم آتا ہے کہ مذکورہ حدیث کے بیان کے وقت وہ حجاز میں نہ رہے ہوں؟
(۳)مقالہ نگار نے قال قال رسول اللہ ﷺکرکے رتن ہندی کی مرویات بغیر تحقیق کئے بہت سی ایسی کتابوں کا حوالہ دیکرذکر کی ہیں جس کے مصنفین نے اس کے کذاب یا صحابی نہ ہونے کا قول کیا ہے ، کیا صحیح ہے؟
فائدہ: مقالہ کی عبارت ہے ’’ و عندہ علی اھل السنۃتحمل مفرط ‘‘تحمل، نہیں بلکہ تحامل ہے ، چنانچہ محدث کبیر ابو عذۃ حنفی
عبارت کی تصحیح کے بعد فرماتے ہیں :وقع فی طبعۃ البابی : ’’تحمل‘‘ وہو تحریف(۳۸)
نوٹ: مقالہ نگار نے بابا رتن ہندی کی بعض مرویات اور ان سے اخذ حدیث کرنے والوں کے محض اسماء ذکر کرنے پر اکتفا کیا، چاہئے تو یہ تھا کہ جب وہ ایسے شدید مختلف فیہ شخص کی مرویات ذکر کر رہے تھے تو مکمل سند بیان کرتے اور اتصال سند کو علمائے حدیث کے اقوال کی ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔
فقیر الی اللہ طالب حدیث، فضائل ہند کی بعض روایتوںکی صحت سے متفق نہیں ہے ، ارادہ تو یہ تھا کہ اس پر تحقیق و دراسۃ کرتا مگر امتحان قریب ہو نے کی وجہ سے وقت کی قلت دامن گیر ہے، انشاء اللہ عز وجل اگر زندگی نے ساتھ دیا تو اس نیک کام کی تکمیل ہو گی۔
اسال اللہ ان یمنحنا الرشاد وان یباعد بیننا و بین مواطن الخطاء انہ علی ما یشاء قدیر وبا الاجابۃ جدیر۔


ماخذ ومراجع
(۱) قاعدۃ فی الجرح و التعدیل لابن السبکی من اربع رسائل فی علوم الحدیث ص۲۱،۲۲تحقیق: عبد الفتاح ابوغدۃ،مطبع:شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ،بیروت،لبنان۔
(۲) حاشیۃ المرجع السابق۔
(۳) الرفع والتکمیل فی الجرح و التعدیل ص۴۰۹،۴۱۰،۴۱۱:تحقیق: عبد الفتاح ابوغدۃ، مطبع:شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ،بیروت،لبنان۔
(۴) المرجع السابق ص۴۱۵۔
(۵) حاشیۃ قاعدۃ المورخین لابن السبکی من اربع رسائل فی علوم الحدیث ص ۷۸ تحقیق: عبد الفتاح ابوغدۃ،مطبع:شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ،بیروت،لبنان۔
(۶) الاعلان بالتوبیخ ص۱۰۱تحقیق: فرانز روز نزال،مطبع: دار الباز للنشر، مکۃ المکرمۃ۔
(۷) البدر الطالع ۲:۱۱۱مطبع:دارالمعرفۃ،بیروت۔
(۸)الاعلان بالتوبیخ ص۱۳۵تحقیق: فرانز روز نزال،مطبع: دار الباز للنشر، مکۃ المکرمۃ۔
(۹) قاعدۃ فی الجرح والتعدیل ص ۴۲تحقیق: عبد الفتاح ابوغدۃ، مطبع:شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ،بیروت،لبنان۔
(۱۰) قاعدۃ المورخین لابن السبکی من اربع رسائل فی علوم الحدیث ص ۶۶تحقیق: عبد الفتاح ابوغدۃ،مطبع:شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ،بیروت،لبنان۔
(۱۱) المرجع السابق ص۷۷۔
(۱۲) میزان الاعتدال: ۳:۲۱۴ تحقیق علی محمد البجاوی،دار المعرفۃ،البیروت۔
(۱۳) تاریخ الاسلام: ۲:۱۷۳ـ۱۷۵تحقیق:عمر عبد السلام، مطبع: دار الکتب العربی ۔سیر اعلام النبلاء ۴:۱۹ـ۳۳ تحقیق: مامون الصاغری۔
(۱۴) المرجع السابق:۲:۲۹۲ـ۲۹۸۔المرجع السابق:۴:۷ـ۱۴۔
(۱۵) المرجع السابق:۵:۲۵۹ـ۲۶۲۔ المرجع السابق:۶:۱۱۹ـ۱۲۳۔
(۱۶) الارشاد الی کیفیۃ دراسۃ الاسناد ص۱۷۷۔
(۱۷) قاعدۃ فی الجرح و التعدیل من اربع رسائل فی علوم الحدیث، ص۳۰ تحقیق: عبد الفتاح
ابوغدۃ،مطبع:شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ،بیروت،لبنان۔
(۱۸) طبقات الشافعیۃ الکبری ۹:۱۰۰،۱۰۱تحقیق: محمود محمد الطحانی وعبد الفتاح عبد الحلو۔
(۱۹) ذیل طبقات الحفاظ ص۳۴۸، احیاء التراث العربی۔
(۲۰) البدایۃ والنھایۃ:۱۴:۲۲۵مطبع: مکتبۃ المعارف البیروت، الطبعۃ السادسۃ۔
(۲۱) ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح و التعدیل للذہبی من اربع رسائل فی علوم الحدیث ص۱۵۸، تحقیق: عبد الفتاح ابو غدۃ،مطبع: شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ۔
(۲۲) الکشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث لابراھیم بن محمد ابن العجمی الحلبی، ص۱۷۶، تحقیق: صبحی السامرائی، مطبع: مطبعۃ العانی، بغداد۔
(۲۳) فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث:۱:۲۶۵، تحقیق: مجدی فتحی السید، مطبع: المکتبۃ التوفیقیۃ، مصر۔
(۲۴) المرجع السابق، ص۲۶۶۔
(۲۵) فتح الباری بشرح صحیح البخاری:۲:ص۸۹،مطبع: دار الحدیث،مصر۔
(۲۶) نسبک و معناہ، ص۳۶، مطبع: مکتبۃ ابن سینا، مصر۔
(۲۷) صحیح البخاری:۱:ص۵۵،باب السمر فی العلم، مطبع: دار ابن کثیر، بیروت۔
(۲۸) المرجع السابق:۱ص۲۱۶، باب السمر فی الفقہ۔
(۲۹) فتح الباری لابن رجب:۴ص ۸۲،کتاب الصلاۃ۔
(۳۰) المنھاج للامام النووی علی الصحیح مسلم:۸ص۳۱۶۔
(۱۳) التقیید و الایضاح، ص۳۰۰، مطبع: المکتبۃ السلفیۃ بالمدینۃ المنورۃ۔
(۳۲) عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری:۳ص ۳۴۳، باب السمر فی العلم۔
(۳۳) فتح الباری بشرح صحیح البخاری:۲، ص۸۹،مطبع: دار الحدیث،مصر۔
(۳۴) تدریب الراوی، ص ۴۸۱، تحقیق: محمد ایمن بن عبد اللہ الشبراوی، مطبع: دار الحدیث، مصر۔
(۳۵) موضوعات الصغانی ص۱۔
(۳۶) تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ:۱:۵۵، تحقیق: مجدی فتحی السید، مطبع: المکتبۃ التوفیقیۃ۔
(۳۷) المصنوع فی معرفۃ الحدیث الموضوع ص۱۶۱، تحقیق: عبد الفتاح ابو غدۃ، مطبع: شرکۃ دار البشائر الاسلامیۃ،بیروت۔
(۳۸)حاشیۃ قاعدۃ الجرح و التعدیل للسبکی من اربع رسائل فی علوم الحدیث ص۴۳۔