بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 499 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



بیاں تم سے کروں کس واسطے میں اپنی حالت کا
کہ جب تم پر عیاں ہے حال ہر دم ساری خلقت کا

خدائی بھر کے مالک ہو خدائی تم سے باہر ہے
نہ کوئی ہے نہ ہوگا حشر تک تم سی حکومت کا

نہ کیوں شاہ وگدا پھیلائیں جھولی آستانے پر
کہ رکھا حق نے تیرے سر پہ تاج اپنی نیابت کا

تو وہ ہے ظل حق نور مجسم پر تو قدرت
پسند آیا ترے صانع کو نقشہ تیری صورت کا

مرے والی ترے صدقہ میں ہم سے نابکاروں نے
لقب قرآن میں پایا خداسے خیر امت کا

انہیں کیا خوف ہو عقبی کا اور کیا فکر دنیا کی
جمائے بیٹھے ہیں جو دل پہ نقشہ تیری صورت کا

شرف بخشا انہیں مولیٰ تعالیٰ نے ملائک پر
صلہ پایا یہ جبریل امیں نے تیری خدمت کا

مدینے میں ہزاروں جنتیں ان کو نظر آئیں
نظارہ کرتو لیں اک بار رضواں میری جنت کا

رجاؤ یاس و امید و تمنا دل کے اندر ہیں
مرا سینہ نہیں گویا کہ گنجینہ ہے حسرت کا

نہ عابد ہیں نہ زاہد ہیں مگر ہم تیرے بندے ہیں
سہارا ہے ہمیں تیری حمایت کا شفاعت کا

رسول اللہ کا جو ہوگیا رب ہوگیا اس کا
فقط ذاتِ مقدس ہےوسیلہ حق کی قربت کا

بلندی فلک کا جب کبھی مجھ کو خیال آیا
کھچا نقشہ مری آنکھوں میں روضے کی زیارت کا

بجز دیدار جاسکتی ہے کیوں کر تشنگی اس کی
جو پیاسا ہے مرے مولاتری رویت کے شربت کا

وہ گیسوئے مبارک کیوں نہ جانِ مشک و عنبر ہوں
کہ جن کے واسطے شانہ بنا ہے دستِ قدرت کا

عبث ہے اس کو اہلِ بیت سے دعویٰ محبت کا
جو منکر ہوگیا صدیق اکبر کی خلافت کا

منافق جس قدر چاہیں کریں کوشش گھٹا نے کی
قیامت تک رہے گا بول بالا اہلسنت کا

ابو جہل لعیں عالم ہے جس کے کفر پر شاہد
تعجب کیا اگر دشمن تھا وہ شانِ رسالت کا

وہابی کلمہ پڑھ کر کرتے ہیں توہین مولیٰ کی
بروز حشر لے کر آئیں گے تمغہ عداوت کا

وہابی تخم بو جہل لعیں کا ایک پودا ہے
ثمر لاتا ہےمحبوب الہٰی کی عداوت کا

علوم غیب کا منکر تری تنقیص کا جویاں
وہابی بن گیا پتلا ضلالت کا خباثت کا

جمیل قادری کی یا نبی اتنی تمنا ہے
چھپا لے روز محشر اس کو دامن تیری رحمت کا