مجاہد جنگ آزادی 1857ء علامہ فضلِ حق خیرآبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 643 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



#ولادتِ باسعادت: 1797ء

#والد ماجد کا نام: علامہ فضلِ امام خیرآبادی وہ عالم و فاضل اور صاحب تصنیف بزرگ تھے۔

#اساتذہ کرام:
1- علامہ فضلِ امام خیرآبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ
2- سراج الہند شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
3- شاہ عبد القادر دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ

#تلامذہ : آپ کے نامور تلامذہ (students) میں سے چند نام یہ ہیں؛
1- شاہ عبد القادر بدایونی رحمۃ اللّٰہ علیہ
2- مولانا خیرالدین دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ
3-مولانا ہدایت اللہ رامپوری رحمتہ اللہ علیہ
4-مولانا فیض الحسن سہارنپوری رحمۃ اللّٰہ علیہ
5-مولانا عبد الحق خیرآبادی رحمۃ اللّٰہ علیہ ہے

#بیعت: سلسلہ چشتیہ میں شاہ دھومن دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بیعت تھے

#علم و #فضل:
🌹 13 سال کی عمر میں مکمل عالم دین
🌹 آپ علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے،
🌹 علوم عقلیہ کے مسلم الثبوت استاد بلکہ مجتہد اور امام تھے,
🌹 معقولات و ادبیات کے بیک وقت امام تھے
🌹 شاعری میں عربی ، فارسی اور اردو ادب پر گہری نظر تھی

#حافظہ: حافظہ اس غضب کا تھا کہ چار ماہ اور کچھ دنوں میں قرآن مجید حفظ کر لیا۔

#جنگِ #آزادی 1857ء میں کردار:
آپ نے فتویٰ جہاد مرتب کیا اور تاریخ ذکاءاللہ کے مطابق اس فتویٰ کے بعد صرف دہلی میں 90ہزار سپاہی جمع ہو گئے اور پورا برصغیر الجہاد الجہاد کے نعروں سے گونج اٹھا جس فرنگی دیو استبداد کے بت کدوں میں ارتعاش پیدا ہو گیا۔

#فتنہ #وہابیت کی سرکوبی:
ہندوستان میں فتنہ وہابیت کے موجد اعلیٰ مولوی اسماعیل دہلوی کے خلاف علامہ فضلِ حق خیرآبادی نے تمام عمر علمی اور قلمی جہاد کیا اور اس گستاخ فتنہ کی سرکوبی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ مولوی اسماعیل دہلوی کی گستاخانہ کتاب تقویت الایمان کے رد میں \\\"تحقیق الفتاوی فی ابطال الطغوی \\\" لکھی اور امتناع النظیر جیسی معرکہ آرا تصنیف آپ کی ہے۔

#عشق رسول :
آپ علم و عشق کا پیکرِ حسن اور سچے عاشقِ رسول تھے ، آپ کی محفل میں گناہ گار تو آسکتا تھا مگر غدارانِ رسالت کے لیے آپ ننگی تلوار تھے گستاخانِ رسول سے آنکھ ملانے کو بھی جذبۂ عشق کی توہین سمجھتے تھے ، مرتبۂ رسالت کے سامنے وہ کسی مرتبے کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ۔ اسی لیے آپ کا قلم اسماعیل دہلوی جیسوں پر خنجر خونخوار برق بار بن کر لپکتا رہا اور برستا رہا۔ منصبِ رسالت اور عظمت نبوت کے بارے میں وہابیوں کے تشکیک و توہین کے کانٹوں کو صاف کرتا رہا اور آپ نے حقائق ِ حق کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔

#شہادت: 1861ء

#مزار پرانوار : جزائر انڈمان
۔

طالبِ دعا
ابوالبتول صفدر