حُجِّیتِ حدیث NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1191 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



یاد رہے کہ جس طرح قرآن احکامِ شرع میں حجت ہے اسی طرح حدیث بھی۔اور اس سے بہت سے احکامِ شریعت ثابت ہوتے ہیں۔چنانچہ رب عزّوجلّ فرماتاہے:

وَمَاۤ اٰتٰکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ

ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔

یہاں سے معلوم ہوتاہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو کچھ عطافرمادیں وہ لے لیا جائے چاہے وہ قول کی صورت میں ہویاکسی اور صورت میں ۔٭ خُذُوْہُ٭ اس بات پر دلالت کرتاہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرمان پر عمل ضروری ہے۔ایک جگہ فرمایا:

ترجمہ کنزالایمان:اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے۔
(النجم: 3 - 4)

لہذا معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا احکامِ شریعت کے بارے میں فرمان وحیِ الہی ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے رب کا کوئی حکم جاری فرمانا۔ ایک جگہ یوں فرمایا:

ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔
(النساء 80)

سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کو رب نے اپنی اطاعت فرمایا اور ہر عاقل جانتا ہے کہ اطاعت حکم (قول)کی ہواکرتی ہے تومعلوم ہواکہ سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان (حدیث) حجتِ شرعی ہے کہ جس کی اطاعت کو رب نے اپنی اطاعت فرمایا۔حاصل یہ کہ حدیث حجت شرعی ہے اور اس کا حجت ہونا قرآن سے ثابت ہے۔
----------------
نصاب اصول حدیث
مع
افادات رضویۃ

پیشکش
مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی )
(شعبہ درسی کتب)