ھَذَا حَدِیْث حَسَن صَحِیْح NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 529 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



بعض اوقات امام ترمذی ایک ہی حدیث کو حسن صحیح کہہ دیتے ہیں حالانکہ حسن رتبہ کے اعتبار سے صحیح سے کم ہوتی ہے جیسا کہ تعریفات کے ضمن میں گذرچکا ،اس کے جواب میں امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(۱)۔۔۔۔۔۔جب کسی حدیث کی دویازائد اَسناد ہوں تو حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ کا معنی ہوتاہے کہ ایک سند کے اعتبار سے حسن ہے جبکہ دوسری کے اعتبار سے صحیح۔

(۲)۔۔۔۔۔۔اور اگر ایک ہی سند ہوتوایک قوم کے نزدیک اس کی شرائط کے مطابق وہ حدیث حسن جبکہ دوسری قوم کے نزدیک اس کی شرائط کے مطابق صحیح ہوتی ہے لیکن چونکہ امامِ مجتہد کو ناقل کی حالت میں تردد ہوتاہے اس لیے وہ حدیث کو ایک وصف سے متصف نہیں کرپاتااور کمالِ تقوی اور عدالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہہ دیتاہے کہ ھَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ یعنی حَسَنٌ أَوْ صَحِیْحٌ۔
-----------------------------------
نصاب اصول حدیث
مع
افادات رضویۃ
پیشکش
مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی )
(شعبہ درسی کتب)