حضرت شیخ الاسلام اورفنِ خطابت حضرت مدنی میاں کچھوچھوی مدظلہ العالی NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 2914 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



حضرت شیخ الاسلام اورفنِ خطابت
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
از:صادق رضامصباحی
ای میل:sadiqraza92@gmail.com
پوسٹل ایڈریس:ماہ نامہ سنی دعوت اسلامی،فائن مینشن،فرسٹ فلور۱۳۲کامبیکراسٹریٹ،ممبئی ۔۴۰۰۰۰۳
===================================
(۱۳،۱۴،۱۵جنوری ۲۰۱۵ء کوبیلگام،کرناٹک میں ہوئے ’’کل ہندحضرت شیخ الاسلام سیمینار‘‘میں پڑھاگیا)
========================================
خطابت ورثۂ پیمبری ہے اورنہایت عظیم ترین فن ،ایسافن جس کی تاریخ دراصل حیرت ناکیوں اورفسوں کاریوں سے عبارت ہے ۔
خیال رہے کہ میں خطابت کی بات کررہاہوں تقریرکی نہیں کیوں کہ میرے فہمِ ناقص میں تقریر اور خطابت الگ الگ ہیں۔
ہاں تقریرکوخطابت کااردوملفوف کہاجاسکتاہے ۔ تقریراورخطابت کے درمیان ایک لطیف سافرق ہے جو دونوں کے درمیان ایک باریک سی لکیرکھینچ دیتاہے جس کااحساس صرف ذوق لطیف ہی کوہوسکتاہے ۔ ورنہ ہمارے ہمارے معاشرے میں توہر مقررکو خطیب الہند ،خطیب اہل سنت اورنہ جانے کس کس خطاب سے ملقب کیاجاتاہے اورجنابِ ’’خطیب ‘‘بھی اپنے تئیں خوش گمانی میں زندگی گزارتے ہیں۔
خطابت دراصل لہجے کے اتار چڑھائو، آواز کے زیروبم اوراحساسات کے مدوجزرکانام ہے۔چیخ وپکار ، گلے پھاڑنے اور دہاڑنے کا نام خطابت نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ تقریرتوہرکوئی کرسکتاہے مگرخطابت خوش نصیبوں کے ہی مقدرمیں لکھی ہوتی ہے۔
خطابت صحیح معنوں میں جادوگری ہے ،ساحری ہے ،پانی میں آگ لگادینے کاعمل ہے ،شہبازکوممولے سے لڑادینے کا ہنر ہے اورظالم مالک کے سامنے مزدورکوقوت حوصلہ عطاکرنے کافن ہے ۔دنیابھرمیں جب بھی، جتنے بھی ،جہاں کہیں بھی اورجوبھی انقلابات آئے ہیں ، خطاب کی ساحری اورجادوگری کی لہروں پرہی آئے ہیں۔قرآن کریم نے بالکل صحیح فرمایاہے :
ان البیان لسحرایعنی بیان (خطابت) جادو ہے۔

واقعہ یہی ہے کہ یہ جادوکی طرح اثرکرتی ہے ۔
انبیاے کرام کی تاریخ اٹھاکردیکھیں ۔یہ اپنے دورکے بہترین خطیب تھے۔اللہ عزوجل نے ان کے اندرخطابت کی سارح خوبیاں ودیعت فرمادی تھیں۔وہ جب ان قدرتی خوبیوں کو بروئے کارلاتے تھے تودلوں کی بنجر زمین پر کشت ایمان لہلہااٹھتی تھی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کامطالعہ کریں ۔ آپ افصح العرب والعجم تھے ۔ آپ جیسا خطیب بھلاچشم فلک نے کب دیکھاہوگا۔یہ آپ کی نطق کی ساحری اورگویائی کااعجازہی تھا کہ تیئس سال کی قلیل مدت میں صحراے عرب میں کم وبیش لاکھ چوبیس ہزارمردان خدااسلام قبول کرچکے تھے ۔

شیخ الاسلام حضرت مدنی میاں کچھوچھوی مدظلہ العالی کی شخصیت خطابت کے اسی تسلسلِ پیہم کانام ہے جس کاسراسلسلہ بسلسلہ ہمارے آقائے کائنات ارواحنافداہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک گویائی سے جاملتاہے ۔
حضرت مدنی میاں دورحاضر میں عنوان خطابت کاایک جلی عنوان ہیں اور اہل سنت کی ایک عظیم ترین علمی شخصیت جونہ صرف خطیب بلکہ ایک دانشور،محدث ، مفسر، عالم دین،مدبر،مفکراورشیخ طریقت کی حیثیت سے بھی برصغیرکے علماومشائخ کی صفِ اول میں شہ نشین ہیں۔

آج اہل سنت میں آپ کومقام امتیازواعتبارحاصل ہے ۔کچھ چھہ مقدسہ کے مبارک خانوادے خانقاہ اشرفیہ میں پروان چڑھنے والایہ شاہ زادہ، کسے معلوم تھا کہ ایک دن آسمان خطابت پرنیرتاباں بن کرچمکے گااوراس کی تابناکیوں سے نہ جانے کتنوں کے خانۂ دل میں ایمان کے قمقمے روشن ہواٹھیں گے ۔
حضرت شیخ الاسلام کی خطابت کی گوہر فشانیاں نصف صدی سے زائدعرصے پرمحیط ہیں۔ان کے خطابات سننے اوران کے خطبات کے مجموعے کے مطالعے کے بعد کہا جا سکتاہے کہ خطابت کی ساری خوبیاں حضرت کے اندر بدرجۂ اتم موجودہیں۔
خطبات برطانیہ،خطبات حیدرآباد،خطبات نظامیہ اور خطبات شہادت وغیرہ میرے اس دعوی کی دلیل کے لیے بہت کافی ہیں۔یہ خطبات محض خطبات نہیں بلکہ علم و فکر اورمعانی ومفاہیم کاایک بحرمواج ہے جوذہن وفکرکے ساحل سے ٹکرا رہا ہے ۔
خطبات برطانیہ کے مطالعے کے بعدمجھے حیرت ہوئی کہ اس میں ایسی یکسانیت اورربط وتسلسل ہے جوتحریروں کاخاصہ ہوتاہے ۔اس سے اندازہ ہوتاہے کہ حضرت شیخ الاسلام نے یہ خطبات محض وقت گزاری اورعقیدت مندوں سے نذرانہ بٹورنے کے لیے نہیں بلکہ پوری پلاننگ اور گہرے مطالعے کے بعدسامعین کے حوالے کیے ہیں۔
آج خطابت کے کئی معانی لے لیے گئے ہیں ان میں ایک تووہ ہے جسے توسیعی خطبہ کہاجاتاہے اس کے لیے کسی دانشورکومنتخبہ موضوع پرگفتگوکرنے کی دعوت دی جاتی ہے ۔زیادہ ترایساہوتاہے کہ مہمان دانشوراپناخطبہ تحریرکرکے تشریف لاتے ہیں اور پھر بعد میں یہ خطبہ یااس نوع کے خطبات کا مجموعہ مرتب ہوکرشائع ہوجاتاہے۔اس زمرے کی درجنوں کتابیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ بعض مقررین کی تقریروں کی ریکارڈنک کونقل کرکے تحریرکالباس پہنادیاجاتاہے ۔اس طرح کی بھی بہت ساری کتب مارکیٹ میں دعوت نظارہ دے رہی ہیں اوراپنے اپنے حلقے کو متاثرکررہی ہیں مگربلامبالغہ کہاجاسکتاہے کہ خطبات برطانیہ کارنگ وآہنگ ہی الگ ہے اوروہ ان سب میں جداگانہ ہے ۔اس میں نہ زیادہ تفصیل ہے اورنہ اجمال ۔ازدل خیزدبردل ریزدکی عملی تفسیرہیں یہ خطبات۔ خطبات برطانیہ کی فہرست سے اندازہ لگائیے کہ عوامی سطح کے یہ خطبات اپنے اندرکس قدرجہان معنی رکھتے ہیں۔یہ خطبات ویسے توعوام الناس کے لیے دیے گئے ہیں لیکن بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگوں کے لیے بھی ان میں معانی ومطالب کے حیرت انگیزدفینے موجودہیں:
پہلاخطبہ:نورمصطفی،دوسراخطبہ:عظمت مصطفی،تیسراخطبہ وسیلہ،چوتھاخطبہ:فضیلت رسول،پانچواں خطبہ:علم غیب ، چھٹا خطبہ : رحمت عالم،ساتواں خطبہ:رفعت مصطفی،آٹھواں خطبہ:محبت اہل بیت ،نواں خطبہ
عقائدِاہلِ سنت پرمشتمل خطبات کایہ مجموعہ نہ جانے کتنی امہات الکتب کاخلاصہ ہے

۔حضرت شیخ الاسلام کے سائنٹیفک طرز استدلال نے اس میں چارچاندلگادیے ہیں۔
میں یقین کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ حضرت شیخ الاسلام کے استدلالات اورسائنسی طرزتفہیم نے ان خطبات کوبہت بلندسطح پرپہنچادیاہے ۔حضرت شیخ الاسلام کے ان خطبات نے بتادیاہے کہ عقائداہل سنت محض نقلی اورسماعی نہیں ہیں کہ ہمارے اسلاف نے فرمادیاہے تواسے قبول ہی کرلیناچاہیے بلکہ یہ عقائدواحکام عقلی اورسائنسی بھی ہیں جوموجودہ ذہن وفکرکواپیل کرتے ہیں۔
اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جوسائنس سے منافی ہو۔ایک پڑھالکھا،جانب داردانشورسطح کاانسان اگران خطبات کوپڑھے گایاسنے گاتواس کاایمان واعتقادپختہ ترہوجائے گااورپھربدمذہبیت کو اس کے قریب گزرنے میں خطرہ محسوس ہوگا۔
آپ کویہ سن کرحیرت نہیں ہوناچاہیے کہ اتنے جامع ومانع،علمی،فکری اورسائنٹیفک خطبات سے اپنے سامعین کووہی محظوظ کراسکتا ہے جونہایت بالغ نظرعالم دین اوردانشورہو۔چالیس سال قبل دیے گئے یہ خطبات آج بھی بالکل تروتازہ لگتے ہیں اوران کے دامن پرکہنگی کاہلکاسادھبہ بھی نہیں معلوم ہوتا۔شیخ الاسلام کانہایت گہرا مطالعہ ،وسیع تجربہ اورغیرمعمولی مشاہدہ ان خطبات سے جھانکتا نظر آتاہے۔
خطابت کی جوخوبیاں ہوسکتی ہیںوہ سب کی سب حضرت شیخ الاسلام کے خطبات میں موجود ہیں ۔پہلے ان خوبیوں پرایک نظر ڈال لیں پھرآگے بڑھتے ہیں۔
موضوعاتی تنوع
کمال نظم
ادیبانہ حسن
صوتی آہنگ
ابلاغ عام
عنصر تخلیقیت
تحقیقی اور تخریجی مزاج
عدم رکاکت و ابتذال
احترام نفسیات
سائنٹیفک طرزاستدلال

موضوعاتی تنوع:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
موضوعات میں تنوع اوروسعت وہی پیداکرسکتاہے جس کی شخصیت ہمہ گیر،جس کی نظروسیع اورجس کامطالعہ غیر معمولی ہو لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ حالات زمانہ پربھی عمیق نگاہ رکھتاہو ۔بلامبالغہ حضرت شیخ الاسلام کی شخصیت ان خصوصیات سے جگمگارہی ہے۔ان کے خطبات ان خوبیوں سے حددرجہ مالاما ل ہیں ۔ اس بوقلمونی نے خطبات کوایک الگ رنگ وروغن عطاکردیاہے جس سے سامعین کے اذہان کے بنددریچے کھلتے چلے جاتے ہیں۔حضرت شیخ الاسلام حالات کے اعتبارسے موضوع کاانتخاب کرتے ہیں اوران میں اپنی علمی وفکری گہرائی وگیرائی کے خوبصورت نقوش مرتسم کرکے سامعین کو ایک جہانِ حیرت میں پہنچا دیتے ہیں۔

ادیبانہ حسن :
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسلوب تقریرکاہویاتحریرکا،جب تک جاذب نہیں ہوتااپنااثرنہیں دکھاپاتا۔کلام کی تاثیراورمقبولیت کاایک اہم ترین عنصر ادیبانہ حسن،حسن اِلقا اورزبان وبیان کی چاشنی بھی ہے ۔یہ اگرنہ ہوتواچھی سے اچھی بات قارئین وسامعین کے دلوں پراپنابیج نہیں بوسکتی۔ اس کے برخلاف اگرکوئی بات نسبتاًکم اچھی ہولیکن سلیقۂ اظہاراچھاہوتووہ اپنا اثردکھاجاتی ہے۔حضرت شیخ الاسلام کے پاس خوبصورت الفاظ کاوسیع ترذخیرہ ہے ۔لگتاہے کہ وہ جسے چاہتے ہیں اورجیسے چاہتے ہیں اسے اپنے جملوں میں ٹانکتے چلے جاتے ہیں اور محسوس ہوتاہے کہ واقعی یہ لفظ اسی مقام کے لائق ہے ۔لفظوں کی مرصع کاری ان کے یہاں عام ہے ۔علمی وادبی زبان ان کے خطابت کا نمایاں پہلوہے لیکن یہ علمی وادبی زبان سامعین کے سرسے نہیں گزرتی بلکہ لفظوں اورجملوں کی چاشنی سے سامعین ذائقہ آشنا ضرور ہوجاتے ہیں۔ان کے مجموعہ ہائے خطبات پڑھیے یاسنیے ،آپ کوہرہرصفحے پراس کااحساس ہوگاکہ معلومات کے ساتھ ساتھ ادب کی چاندنی لفظ لفظ سطرسطرسے اپنے جوبن پردکھائی دے رہی ہے ۔

صوتی آہنگ:
٭٭٭٭٭٭٭
خطابت کومؤثرترین بنانے میں صوتی آہنگ کابھی بڑااہم کردارہوتاہے ۔کون سی بات کس لہجے میں کہنی ہے ، اچھا خطیب اسے اچھی طرح جانتاہے ۔انہی لہجوں سے ہی جذبات میں تلاطم برپاہوتاہے اوروہ برا ہ راست اس کے دل پراثراندازہوتاہے ۔ جب تک جذبات میں مدوجزرنہیں ہوتاسامعین کے رباب دل میں لرزش نہیں پیداہوتی۔صوتی آہنگ ہی ہے جوخطابت کومعانی عطا کردیتاہے اوراس کارنگِ پیرہن مزیدنکھاردیتاہے ۔حضرت شیخ الاسلام مدظلہ العالی کے دائرۂ خطابت میں صوتی آہنگ کابھی اپنا ایک منفردمقام ہے ۔لہجوں کی رنگارنگی اپنے شباب ہے اورلفظوں کی موسیقی فردوسِ سماعت بن رہی ہے ۔حضرت شیخ الاسلام کے لہجے کہیں پرزورہیں توکہیں دھیمے ،کہیں گرج دارہیں تو کہیں سبک رو۔غرض جیسی گفتگوویساصوتی آہنگ،جیساعنوان ویسالہجہ،جیساموضوع ویسا انداز۔علمی موضوعات کے لیے الگ تکلم،اصلاحی موضوعات کے لیے ایک الگ رنگ اوراصلاحی موضوعات کے لیے دوسر ا آہنگ۔

ابلاغ عام :
٭٭٭٭٭٭٭
مسائل کودقیق کرکے بیان کرنا،علمیت بھگارناکمال کی بات نہیں بلکہ ایک اہم بات کوسادہ الفاظ میں سامع یاقاری کے دل میں اتاردیناکمال کی بات ہے تاکہ اس سے ہرسطح ذہن اورہرسطح فکرمستفیدہوسکے ۔کبھی کبھاردوران خطابت کچھ ایسی گفتگوبھی آ جاتی ہے جنہیں علمی اصطلاحات سے تعبیرکیاجاتاہے ۔ظاہرہے ان اصطلاحات کودوسرے آسان الفاظ میں ڈھالناتوممکن نہیں البتہ تشبیہات واستعارات کی زبان میں اسے سمجھایاجاسکتاہے ۔حضرت شیخ الاسلام کے خطابات ابلاغ عام کی عمدہ مثالیںہیں،ان کے اردگردبیٹھنے والاہرآدمی معلومات سے متمتع ہوسکتاہے اورحسب ظرف کچھ نہ کچھ اپناحصہ لے کرہی اٹھتاہے ۔عدم ابلاغ خطابت کابہت بڑانقص ہے ۔ جب سامع کویہ معلوم ہی نہیں ہوگاکہ ہمارے سامنے جوخطیب کرسی خطابت پربراجمان ہے وہ کیا کہہ رہاہے توظاہرجیسے وہ خالی ہاتھ آیاتھا ویسے ہی خالی ہاتھ واپس ہوجائے گا۔حضرت شیخ الاسلام کاابلاغ عام بہت مؤثرہے اور دلوں میں خودبخودراہ بناتاچلاجاتاہے ۔
عنصرتخلیقیت:
آپ دنیاکے کامیاب ترین لوگوں کی فہرست اٹھاکردیکھیں ان سب میں ایک چیزمشترک ملے گی اوروہ ہے تخلیقیت ۔ انسان کے اندراگرعلم وفکرکاسمندرموجیں ماررہاہو اوراس کی پیٹھ فضل وکمال کے بوجھ سے دوہری ہوئی جارہی ہو لیکن اگراس نے تخلیقی مزاج نہیں پایاتونہ صرف یہ کہ اس کی تقریروتحریرغیرمتاثرہوگی بلکہ اس کی شخصیت بھی بے اثراوربے وزن رہے گی ۔ہمارے کارواں میں انجمادکاایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں تخلیقی مزاج کے لوگ بہت ہی کم ہیں ،زیادہ ترکامزاج تقلیدی اورنقلچی ہے ،یہ اسی کاشاخسانہ ہے کہ ہم میں سے اگرکوئی الگ ہٹ کر نئی بات کہتاہے جوہمارے خودساختہ ذہنی پیمانوں یا تقلید کے نام پربنے ہوئے فکری وعملی ڈھانچوں سے متصادم ہوتوہم اسے قبول کرنے کوتیارنہیں ہوتے بلکہ المیہ تویہ ہے کہ ہم اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔
اللہ کابے پناہ فضل ہے کہ ہمارے حضرت شیخ الاسلام کی شخصیت عنصرتخلیقیت کامظہراتم ہے ۔وہ ایک پرانی بات کو نئے اندازمیں پیش کرنااوراس کے لیے نئے نئے طریقے وضع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں تاکہ سامعین گفتگوکی تہ تک پہنچ جائیں۔گھسے پٹے عنوانات کوموضوع سخن بناناان کی شخصیت اورذہن کے منافی ہے اس لیے وہ نئی نئی راہوں کاانتخاب کرتے ہیں اور نئے نئے در واکرتے چلے جاتے ہیں جس سے سامعین ورطۂ حیرت میں پڑجاتے ہیں۔
تحقیقی اور تخریجی مزاج :
ایک اچھے خطیب کی شناخت یہ ہے کہ وہ جوبات پیش کرے ،دلائل اس کی پشت پرکھڑے ہوں ،اس کی صحت پرکوئی کلام نہ ہو۔محض سنی سنائی ،غیرمعیاری باتوںپر اپنی خطابت کی بنیادنہ رکھتاہو۔تحقیقی وتخریجی مزاج اسی کے اندرپایاجاسکتاہے جو خود امہات الکتب تک دست رس رکھتاہو،حسن وقبح کی پرکھ ہو،روایت ودرایت سے واقف ہوورنہ ایسابھی ہوسکتاہے کہ کسی مستندکتاب میں کوئی بات لکھی ہے اوردوسری مستندکتاب میں اسی بات کی نفی کی گئی ہے تواب یہا ں وسعت مطالعہ ،غیرمعمولی بصیرت اورقوت اخذ کام آتی ہے اورمطالعہ کرنے والادرایت سے کام لے کرتمیزکرسکتاہے کہ کون سی بات مرجح ہے اورکون سی غیرمرجح۔آج کل کی تقریروں میں اکثر غیرمعیاری اورسنی سنائی باتوں کی گونج سنائی دیتی ہے ۔حضرت شیخ الاسلام نے ماشاء اللہ تحقیق وتخریج کابہترین مزاج پایاہے ۔ اپنے خطبات میں جوبھی بات پیش کرتے ہیں وہ دلائل وبراہین میں کسی ہوئی ہوتی ہے ،مخالف ان پرکوئی حرف نہیں رکھ سکتا۔واقعہ یہ ہے کہ تحقیقی اورتخریجی مزاج ہی اہل علم کاصحیح حوالہ ہے ورنہ جس کے اندریہ مزاج نہ ہووہ اہلِ علم ہی کیا۔
عدم رکاکت وابتذال:
خطابت کی ایک اہم خوبی شائستگی اورشستگی بھی ہوتی ہے ۔یہ وہ خوبی ہے جوخطیب کے فکرومزاج کاآئینہ ہوتی ہے ۔اس آئینے میں خطیب کی شخصیت کے سارے خط وخال پورے طرح نمایاں ہوجاتے ہیں۔بہت ایساہوتاہے کہ مقررجذبات کے رومیں ایسی سطح پرآجاتاہے جہاں وہ خطابت کی سطح سے گرجاتاہے ۔رکاکت وابتذال اس کی تقریرمیں درآتے ہیں۔جب جذبات اٹھان پرہوں تواس وقت خطیب کاامتحان ہوتاہے کہ وہ شائستگی کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔حضرت شیخ الاسلام کے خطبات میںمبتذل ،غیرشائستہ اورغیرشستہ جملے ہرگزنہیں ملیں گے ۔ردوابطال میں بھی وہ ذرہ برابر ابتذال ورکاکت کی گہرائیوں میں نہیں جا پڑتے بلکہ بڑی خوب صورتی کے ساتھ بدمذہبوں کاردبلیغ ہی فرماتے ہیں ۔گویاان کے خطبات حکمۃ اورموعظۃ حسنۃ کی خوبصورت تفسیروتشریح ہیں۔
احترام نفسیات:
سامعین وقارئین کی سطح معلومات کے مطابق گفتگوکرنابلاغت کہلاتاہے ۔گفتگومیں اگرسامعین کی نفسیات کاخیال نہ رکھا جائے تواس کے مطلوبہ نتائج برآمدنہیںہوتے ۔اسی لیے حضرت عائشہ نے فرمایاکہکلموالناس علی قدرعقولہم یعنی لوگوں سے ان کے فہم کے مطابق بات کرو۔حضرت شیخ الاسلام کے خطبات اٹھاکردیکھ لیں،سارے خطبات اس تقاضے پورے اترتے معلوم ہوں گے ۔سامعین جس طرح کے ہوتے ہیں حضرت شیخ الاسلام اسی کے مطابق خطاب فرماتے ہیں ۔ان کاکوئی بھی سامع یہ گلہ نہیں کرتاکہ صاحب خطاب کی گفتگواس کی سمجھ سے پرے ہے۔احترام نفسیات حضرت شیخ الاسلام کے خطبات کاایک اہم جزہے۔
سائنٹیفک طرزاستدلال:
یہ دورسائنٹیفک دورہے ۔باخبری کے اس زمانے میں ایسی کوئی بھی بات قبول کرنے میں تامل ہوتاہے کہ جوغیرعلمی، غیرسائنسی اورغیرمعقول ہو۔آج ہم سب سائنس کی طرف بے تحاشہ دوڑے چلے جارہے ہیںیہ اسی کاظاہرہ ہے کہ جب ہماراکوئی عالم دین و دانشور دین کی کوئی بات ہمیں بتاتاہے توہماری سمجھ میں کم ہی آتی ہے لیکن جب یہی بات ہمیں مغرب سے سننے کوملتی ہے تب ہماری آنکھیں کھلتی ہیں اورہم واہ واہ ،سبحان اللہ ،ماشاء اللہ کہہ اٹھتے ہیں۔باشعورحضرات جانتے ہیں کہ احادیث کریمہ میں اسلام کی ساری حکمتیں اور مصلحتیں بیان کردی گئی ہیں ہم وقتاًفوقتاًاسے پڑھتے اورسنتے بھی رہتے ہیںمگرہمارے ذہن ودماغ اسے قبول توکرتے ہیں لیکن مطمئن نہیں ہوپاتے ۔میرے خیال سے یہ بھی ایک اچھی علامت ہے کہ جب تک کسی بات کومکمل طورپرسمجھ نہ لیاجائے ،قبول نہ کیاجائے ۔ جب تک ہربات دلیل و برہان کی کسوٹی پرنہ پرکھ لی جائے، تسلیم نہ کیاجائے ۔اس دورمیں اس رحجان کوسائنٹیفک طرزاستدلال کہتے ہیں۔یہ وہ خوبی ہے جس سے ہرکوئی بہرہ مندنہیں ۔ حضرت شیخ الاسلام کے سامعین اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے خطبات اس طر ح کے طرزاستدلال سے لبالب ہیںیہی وجہ ہے کہ ان کے خطبات اپنوں اورغیروں میں یکساں مقبول ہیں۔
یہ وہ خوبیاں ہیں جس کی وجہ سے حضرت شیخ الاسلام اپنی دیگرنمایاں ترین خوبیوں خصوصیات کے ساتھ ایک اہم ترین خطیب کی کی حیثیت سے بھی سامنے آئے ہیں۔تاریخ اسلام کے مطالعے سے واضح ہوتاہے کہ تبلیغ اسلام کی تاریخ دراصل اپنی نہادمیں خطابت کی ساحری اورجادوگری کی تاریخ ہے ۔اگرخطابت کی دل آویزیاں کی نہ ہوتیں تواسلام کبھی بھی بحروبرکی وسعتوں کااحاطہ نہیں کرپاتا مگر ہمارے زمانے تک آتے آتے خطابت اپنے اصلی معانی ومفاہیم سے خالی ہوچکی ہے اوراس کی جگہ تقریرنے لے لی ہے ۔ یہ ہماری کم نصیبی ہے کہ اب ہم اسی کوخطابت کونام سے موسو م کررہے ہیں۔ یہ ہماری تاریخ زوال کاایک اہم عنوان ہے ۔اب ہرجگہ تقریریں ہی تقریریں ہی ہیں خطابت نایاب تونہیں البتہ کم یاب ضرورہوگئی ہے ۔خطابت دراصل مطالعے کی بنیادپرفی البدیہہ بولناہے اورپھراس میں الفاظ ومعانی نیزلہجات کی رنگ آمیزی کرناہے ۔جہاں محض الفاظ ومعانی ہوں لہجات نہ ہوں اسے خطابت نہیں کہاجاسکتاہے اور جہاں صرف لہجات اورصوتی آہنگ ہو مگرمعانی ومفاہیم سے خالی ہوتواسے بھی خطابت نہیں کہاجاسکتا ۔
ہم نے محسوس کیااورآپ نے بھی یقینامحسوس کیا ہوگاکہ فکراورمعلومات دوالگ الگ چیزیں ہیں۔اکثردیکھنے میں آتاہے کہ محرریامقررمعلومات تو پیش کرتاہے لیکن فکرنہیں دے پاتایااگراپنے افکارعالیہ پیش کرتاہے مگرمعلومات کے در نہیں کھول پاتا۔ اگر تقریروتحریرکے لباس فاخرہ میں افکارکے موتی ٹانکنے کے ساتھ ساتھ معلومات کے نقش ونگاربھی بنادیے جائیں تو اس پیرہن کی افادیت ،معنویت ،اہمیت اورمقصدیت دوآتشہ ہوجائے۔اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جو اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام کے یہاں دونوں چیزوں کی فراوانی ہے ۔وہاں افکاراورمعلومات دونوں کے دریاایک ساتھ چلتے ہیں اور قاری کوبہت دیر تک اوردورتک سیراب کرتے چلے جاتے ہیں ۔
بڑے خوش نصیب ہیں وہ حضرات جن کی شخصیت میں اللہ نے خطابت کی خوبیاں جمع کردی ہیں اوران سے بھی زیادہ سعادت مندہیں وہ حضرات علم وفکرکے کوہ ہمالیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم ترین خطیب بھی ہیں ۔حضرت شیخ الاسلام کاتعلق دوسرے زمرے سے ہے ۔کوئی ضروری نہیں کہ جوعالم دین ہو،شیخ طریقت ہو،مصنف ہو ،استاذہووہ ایک اچھاخطیب بھی ہومگرخانقاہ اشرفیہ کے بزرگوں کا بے پناہ فیض ہے حضرت مدنی میاںپرکہ ان کی شخصیت میں یہ ساری صفات موجودہیں اورہرہرصفت کی اپنی الگ شناخت ہے ۔صحیح معنو ں میں قیادت وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے اندردیگرخوبیوں کے ساتھ ساتھ خطابت کاملکہ بھی ہواسی لیے کہاجا تا ہے کہ قیادت ،خطابت کی کنیزہے ۔عوام الناس کوجتنی جلدی اورجتنے بہترطریقے سے خطابت کے ذریعے کنٹرول کیاجاسکتاہے اور ذہان وافکار کو موڑا جا سکتاہے وہ صرف خطابت کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔قائدین عالم کی تاریخ پڑھیں ،آپ کوان میں ایک سے ایک خطابت کے شہسواربھی دکھائی گے ۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہمیں حضرت شیخ الاسلام کی شخصیت کے اس پہلوکواجاگرکرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے ۔اللہ کریم حضرت کاسایہ تمام اہل سنت پردرازسے درازترفرمائے اوران کے قلمی،فکری اورعملی نقوش ہمارے لیے مشعل راہ بنائے ۔