حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن تعلیمات NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1538 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روشن تعلیمات
-----------------------------------------------------
جب ہم آج سے تقریبا ساڑھے چودہ سو سال پیچھے کی طرف نظر کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ساری دنیا جہالت کی اتھاہ گہراہیوں میں ڈوبی ہوئی تھی ،دنیا کے کسی بھی خطے میں انسانیت کے صحیح خد وخال موجود نہ تھے ،انسانی قدروں کی نشونما کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی تھی ،حتیٰ کہ انسان خدائے وحدہ لاشرک کو چھوڑ کر لاتعداد معبودوں کی پرستش میں گم ہو چکا تھا ۔یقیناًایسے عالم میں ضرورت تھی ایک ایسے معلم ومربی کی جو لوگوں کودین حق کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ایسی تعلیم و تربیت کرے کہ جس سے تمام بد کاریوں اور برائیوں کا سد باب ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر کرم نوازی کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم کائنات بنا کر مبعوث فرمایا ۔آپ نے اس عظیم ذمہ داری کو بحسن وخوبی انجام دیا اور اسے کمال تک پہنچایا ۔
تعلیمات نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم)قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کی ذات بابرکات کو تاقیام قیامت پیدا ہونے والے تمام مؤمنین کے لیے اسوۂ حسنہ اور نمونۂ عمل قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
\\\"لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَن کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللَّہَ کَثِیراً \\\"(۱)
بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے۔(۲)
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابوا لقاسم جار اللہ محمود بن عمر بن محمد الزمخشری (۴۶۷ھ۔۵۳۸ھ) لکھتے ہیں:
\\\"أی فیہ خصلۃ من حقھا أن یؤتسی بھا وتتبع\\\" ۔(۳ )
یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی اہم خصلتیں ہیں کہ جن کی پیروی اور اتباع ہمارے لیے ضروری ہے ۔
شیخ ابو عبد اللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی(۶۷۱ھ) لکھتے ہیں:
\\\"أی کان لکم قدوۃ فی النبی صلی اللہ علیہ وسلم حیث یذل نفسہ لنصرۃ دین اللہ فی خروجہ الی الخندق\\\"(۴)
یعنی تمہارے لیے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات نمونۂ عمل ہے کیوں کہ آپ نے اپنی ذات کی پرواہ کیے بغیر دین الٰہی کی نصرت کی خاطر خندق کی طرف نکل پڑے۔
علامہ شیخ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ(۱۱۲۷ھ) لکھتے ہیں :
\\\"والمعنی لقد کا ن لکم فی محمد صلی اللہ علیہ وسلم خصلۃ حسنۃ،وسنۃ صالحۃ حقھا أن یؤتسی بھا ،أی یقتدی کالثبات فی الحرب ومقاساۃ الشدائد فانہ قد شج فوق حاجبہ وکسرتْ رباعیتہ وقتل عمہ حمزۃیوم أحد وأوذی بضروب الأذی فوقف ولم ینھزم وصبر فلم یجزع، فاستسنوا بسنتہ وأنصروہ ولا تتخلفوا عنہ\\\"(۵)
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ائے مؤمنو! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اچھی خصلت اور بہترین طریقہ ہے ۔جس کا حق یہ ہے اس کی اتباع کی جائے ،جیسے جنگ میں ثابت قدم رہنا اور شدائد وتکا لیف کو برداشت کرنا ۔کیوں کہ جنگ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ابروئے مبارک کے اوپر زخم آئے،آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے اور آپ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور بری طرح تکلیف پہنچائے گیے،لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں ڈٹے رہے ،شکست کھاکر بھاگے نہیں ،بلکہ صبر کا مظاہرہ کیے اور گھبرائے بھی نہیں ۔لہذا تم ان کے طریقے کو اپنا لو اور ان کی (اور ان کے دین کی )مدد کرو اور کبھی بھی ان کی خلاف ورزی نہ کرو۔
آیت مذکورہ کا شان نزول بیان کرتے ہوئے علامہ پیر کرم شاہ ازہری علیہ الرحمۃ(۱۹۱۸ء۔۱۹۹۸ء) لکھتے ہیں:
\\\"یہ آیت غزوۂ خندق کے ایام میں نازل ہوئی جب کہ دعوت حق پیش کرنے والوں کے راستے میں پیش آنے والی ساری مشکلات اور آلام ومصائب پوری شدت سے رونما ہوگیے۔دشمن سارے عرب کوساتھ لے کر آدھمکا ہے۔یہ حملہ اتنا اچانک ہے کہ اس کو پسپا کرنے کے لیے جس تیاری کی ضرورت ہے اس کے لیے خاطر خواہ وقت نہیں۔تعداد کم ہے،سامان رسد کی اتنی قلت ہے کہ کئی وقت فاقہ کرنا پڑتا ہے۔ مدینہ کے یہودیوں نے عین وقت پر دوستی کا معاہدہ توڑ دیا ہے ۔ان کی غداری کے باعث حالات مزید پیچیدہ ہوگیے ہیں ۔دشمن سیلاب کی طرح بڑھا چلا آرہا ہے۔اس کے پہنچنے سے قبل مدینہ طیبہ کی مغربی سمت کو خندق کھود کر محفوظ بنا دینا ازحد ضروری ہے۔
ان حالات میں حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام کے دوش بدوش موجود ہیں۔خندق کھودنے کا موقع آتا ہے تو ایک عام سپاہی کی طرح خندق کھودنے لگتے ہیں۔مٹی اٹھا اٹھا کر باہر پھینک رہے ہیں۔دوسرے مجاہدین کی طرح فاقہ کشی کی تکلیف بھی برداشت فرماتے ہیں۔اگر صحابہ نے پیٹ پر ایک پتھر باندھ رکھا ہے تو شکم رسالت پر دو پتھر بندھے دکھائی دیتے ہیں۔مہینہ بھر شدید سردی میں میدان جنگ میں صحابہ کے ساتھ دن رات قیام فرما ہیں۔دشمن کے لشکر جرار کو دیکھ کر بھی پریشان نہیں ہوتے۔بنو قریظہ کی عہد شکنی کا علم ہوتا ہے تب بھی جبین سعادت پر بل نہیں پڑتے۔منافقین طرح طرح کی حیلہ سازیوں سے میدان جنگ سے فرار اختیا کرنے لگتے ہیں تب بھی پریشانی نہیں ہوتی ۔ان تمام ناگفتہ بہ حالات میں عزم واستقلال کا پہاڑ بنے کھڑے ہیں ۔قدم قدم پر صحابۂ کرام کی دل جوئی فرماتے ہیں ۔منافقین سے صرف نظر کرتے ہیں ۔دشمن کو مرعوب کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا۔
پھر جنگی اور سیاسی خطوط پر ایسی تدبیریں کی جاتی ہیں کہ دشمن آپس میں ٹکراجاتا ہے اور حملہ آور خود بخود محاصرہ اٹھا کر ایک دوسرے پر گالیوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے ،ایک دوسرے پر غداری اور عہد شکنی کے الزامات لگاتے ہوئے بھاگ جاتا ہے ۔غرضیکہ یہ ایک ماہ کا عرصہ ایسا ہے کہ محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے سارے پہلو اپنی پوری دل فریبیوں کے ساتھ اجاگر ہوجاتے ہیں ۔اس وقت یہ آیت نازل فرمائی گئی ،کہ ان مہیب خطرات میں تم نے میرے پیارے رسول کا طریقۂ کار دیکھ لیا ۔یہ کتنا راست ،سچا اور اخلاص وللہیت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے ۔یہی تمہاری زندگی کے ہر موڑ پر تمہارے لیے ایک خوبصورت نمونہ ہے۔اس کے نقش قدم کو خضر راہ بنالو۔ اس کے دامن شفقت کو مضبوطی سے تھام لو یقیناًمنزل تک پہنچ جاؤگے\\\"(۶)
معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات تمام مؤمنوں کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات اور لائحہ عمل ہے ۔جن پر عمل پیرا ہوکر ہی دنیا وآخرت میں فوز وفلاح کےمستحق ہوسکتے ہیں۔
تعلیمات نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم)احادیث کی روشنی میں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم معلم کائنات بناکر مبعوث کیے گیے۔اور چونکہ صحابۂ کرام آپ سے تربیت یافتہ تھے اس لیے انہوں نے ہر ہر معاملے میں آپ کا اتباع ضروری سمجھا ۔چنا نچہ حضرت نافع رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما ان کے پاس گیے ،اور حج پر جانے کے لیے سواری ان کے دروازے پر کھڑی تھی ۔ انہوں نے عرض کیاکہ مجھے خطرہ ہے کہ اس سال لوگوں کی آپس میں لڑائی ہو جائے گی اور آپ کو وہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرنے سے روک دینگے۔اس لیے اگر آپ نہ جائیں تو اچھا ہوگا ۔تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا :
\\\"قد خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحال کفار قریش بینہ وبین البیت،فان حیل بینی و بینہ أفعل کما فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ) ثم قال أشھدکم أنی قد أوجبت مع عمرتی حَجّا\\\"(۷)
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حج کے لیے نکلے تھے ،لیکن کفار قریش نے آپ کو بیت اللہ تک جانے سے روک دیا تھا ،لہذا اگر مجھے بھی روکا جائے گا تو میں بھی وہی کروں گا جو رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ (کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے)کہ بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے ۔پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ ایک حج واجب کر لیا ہے۔
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ کسی ان سے پوچھا کہ اگر کسی نے یہ نذر ماناکہ وہ ہر روز(سال بھر) روزہ رکھے گا،پھر عید الاضحی یا عید الفطر کا دن آگیا تو وہ کیا کرے گا ؟کیا وہ روزہ رکھے گا یا نہیں ؟ تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا:
’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ،لم یکن یصوم یوم الأضحی والفطر،ولایری صیامھما‘‘(۸)
یعنی تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے،اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو نہ عید الاضحٰی اور عید الفطرکے دن روزہ رکھتے تھے اور نہ ہی روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا کہ صحابۂ کرام اپنے تمام معاملات کو اسوۂ حسنہ کے مطابق انجام دیتے تھے،اور تمام مسائل کا حل آپ کی تعلیمات سے نکالتے تھے۔
خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تعلیمات اور اپنے طریقۂ کار کو ہدایت کا سر چشمہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
\\\"قد ترکت فیکم أمرین ان تمسکتم بھما لن تضلوا أبدا،وھی کتاب اللہ وسنۃ نبیہ‘‘(۹)
میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہے۔اگر تم ان دونوں کومضبوطی سے پکڑ ے رہوگے تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگے،اور وہ کتاب اللہ (قرآن)اور اس کے نبی کی سنت ہے۔
اسی طرح جو لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو عام کرتے ہیں اور اسے نئی زندگی دیتے ہیں انہیں اعلیٰ درجے کی خوش خبری دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
\\\"من أحیا سنتی فقد أحبنی ومن أحبنی کان معی فی الجنۃ‘‘(۱۰)
جس نے میری ایک سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
یقیناًوہ لوگ جو تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہیں ان کے لیے ان احادیث میں جنت کے اعلیٰ درجے کی ضمانت ہے۔
اب ہم ذیل میں تعلیمات نبوی( صلی اللہ علیہ وسلم )کے چند نمونے پیش کرتے ہیں۔
اخلاق حسنہ کی تعلیم
اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں اور دولتیں جو مسلمانوں کو ملی ہیں ان میں اخلاق حسنہ نہایت ہی اہم ہے ۔خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق حسنہ کے اعلیٰ معیار کے نمونۂ کامل تھے ،جس کی گواہی قرآن کریم نے بھی دی ہے ،چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَإِنَّکَ لَعَلی خُلُقٍ عَظِیْم‘‘(۱۱)
اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔(۱۲)
خودحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اخلاق کریمانہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:
’’بعثت لأتمم صالح الأخلاق‘‘(۱۳)
میں اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو اچھے اخلاق کی اہمیت اور اس کی طرف رغبت دلاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’أکمل المؤمنین ایمانا أحسنھم خُلُقاً وخیارکم خیارکم لنساءھم خلقاً‘‘(۱۴)
مؤمنوں میں اس ایمان کامل ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں ،اور تم میں وہ بہتر ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتا ہے۔
ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
’’ان من خیرکم أحسنکم خُلُقا‘‘(۱۵)
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔
یقیناًیہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ نے لوگوں کے دلوں سے ظلمت وجہالت کو دور کرکے نور صداقت ومعرفت الٰہی سے بھر دیا۔یہ بات مسلم ہے کہ اگر آج بھی مسلمان اپنے اخلاق وکردار کو عمدہ بنا لیں اور اپنی زندگی کو تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ڈھال لیں تو آج بھی دنیا میں باعزت وسرخ روہو کر جیءں،اور آخرت میں فوز وفلاح کے مستحق بھی ہوں۔
شفقت ورحمت کی تعلیم
اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری کائنا ت کے لیے رحیم وشفیق بناکر بھیجاہے، چنانچہ آپ کے رحمت وشفقت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘(۱۶)
اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لیے۔(۱۷)
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
’’لَقَدْ جَاء کُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْْکُم بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوفٌ رَّحِیْم‘‘(۱۸)
بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑناگراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے ،مسلمانوں پر کمال مہربان، مہربان۔(۱۹)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر رحمت وشفقت کا عملی نمونہ پیش کرتے رہے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیتے رہے۔اور بے رحمی اور دوسروں پر ظلم وستم کرنے سے ہمیشہ باز رہنے کی تعلیم دی، چنانچہ جو لوگ دوسروں پر رحم نہیں کرتے اور ظلم جبر سے کام لیتے ہیں ان کے لیے بطور وعید آپ نے ارشاد فرمایا:
’’من لا یَرحم لا یُرحم‘‘(۲۰)
جو دوسروں پر رحم نہیں کر تا ہے اس پر بھی(بروز قیامت) رحم نہیں کیا جائے گا۔
حضرت سہل بن حنظلیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جو شدید بھوکا تھا ، حتی کہ بھوک کی وجہ سے اس کی پیٹھ ،پیٹ سے لگ گئی تھی ، توجوں ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر رحمت اس اونٹ پر پڑی تو آپ نے لوگوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا:
’’اتقوا اللہ فی ھذہ البھائم المعجمۃ،فارکبوھا صالحۃ وکلوھا صالحۃ‘‘(۲۱)
تم لوگ ان گونگے جانوروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ،ان پر سواری کرو اچھی طریقے سے اور انہیں کھاؤ اچھے طور پر۔
یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم حدیث مذکور میں اپنی امت کو تعلیم دے رہے ہیں کہ انسان تو انسان جانوروں پر بھی شفقت و رحمت کا برتاؤ کرنا چاہیے اور ہرگز انہیں تکلیف نہیں دینی چاہیے۔نیز انہیں اچھے طریقے سے کھلانا پلانا چاہیے،اور ان پر قوت برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے،اور نہ ہی بے رحمی سے انہیں مارنا چاہیے۔کیوں کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے، اور قیامت کے دن ان کے بارے بھی حساب دینا ہوگا ۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’دخلت امرأۃ النارَ فی ھرۃ ربطتھا،فلم تطعمھا،ولا تدعھا تأکل من خشاش الارض‘‘(۲۲)
یعنی ایک عورت جہنم میں ڈالی گئی محض اس لیے کہ اس نے ایک بلی کو بلا وجہ باندھ کر رکھا اور اسے کھانا پانی بھی نہیں دی ،اور نہ ہی اسے چھوڑ ی کہ گھاس پھوس ہی کھا لیتی(اور اپنی جان بچا لیتی)۔
اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’بینا رجل یمشی فاشتد علیہ العطش ،فنزل بئرا فشرب منھا ،ثم خرج فاذا ھو بکلب یلھث ،یاکل الثری من العَطَش،فقال: لقد بلغ ھذا مثل الذی بلغ بی،فملأ خفہ ثم أمسکہ بفیہ ثم رَقِیَ ،فسقی الکلب فشکر اللہ لہ،فغفر لہ فقالوا یارسول اللہ ،وان لنا فی البھائم أجراً،قال: فی کل کَبِدٍ رطبۃٍ أجرٌ‘‘(۲۳)
یعنی ایک شخص راستہ طے کر رہا تھا تو اسے شدید پیاس کا احساس ہوا ، وہ ایک کنؤیں کے پاس رکااورپانی پی کر جانے لگا تو اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو تیز تیز ہانپ رہا تھا اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ کھا رہا تھا ،تو اس شخص نے اپنے دل میں سوچا کہ اسے بھی وہی چیز(سخت پیاس) پہنچی ہے جو مجھے پہنچی تھی ۔اس کے بعد اس نے اپنے خف(چمڑے کے موزے)میں پانی بھرا اور اس کواپنے منھ سے پکڑا اورپھر(کنویں پر) چڑھااوراس کو سیراب کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ،تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت فرمادی ۔صحابۂ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا ہمیں جانوروں کے ساتھ حسن سلوک میں بھی اجر ملے گا ؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ہر جاندار کے بارے میں اجر دیا جائیگا۔
یعنی جس طرح انسان کے ساتھ بھلائی یا برائی کرنے سے قیامت کے دن اس کابدلہ دیا جائے گا اسی طرح ہر جاندار کے ساتھ اچھائی یا برائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ اور اس پر ثواب وعذاب بھی مرتب ہونگے۔
عفو ودرگزر کی تعلیم
اسلام کی ترقی اور نشر و اشاعت میں عفوو درگزر کا بہت اہم کردار رہا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ عفو دورگزر سے کام لیا ہے اور اپنی امت کو بھی اس کی تعلیم دی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ نے تمام کفار مکہ(باستثنائے چند بد نصیب)کو معاف فرمایا اور عفو ودرگزر کی ایسی مثال قائم فرمائی کہ جس کی کہیں نظیر تک نہیں مل سکتی ہے۔آپ نے کفار مکہ کو معافی کا پروانہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :
’’لا تثریب علیکم الیوم، یغفر اللہ لکم وھو أرحم الراحمین،اذھبوا وأنتم الطلقاء‘‘(۲۴)
آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا،اللہ تعالیٰ تمہارے سارے گناہوں کو معاف فرمائے،اور وہ سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ۔ جاؤآج میری طرف سے تم سب آزاد ہو۔
اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار مکہ جوق در جوق داخل اسلام ہونے لگے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عفو ودرگذر کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’صل من قطعک واعط من حرمک واعف عن من ظلمک‘‘(۲۵)
جو تم سے قطع تعلق کرے تم اس سے تعلق قائم کرو ،جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو،اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کرو۔
یعنی اگر کوئی ظلم وجبر کرتا ہے تو ہمیں اس کا انتقام لینے کی بجائے معاف کردینا چاہیے تاکہ قیامت میں اس کے بدلے میں ثواب ملے۔لیکن یاد رہے کہ اسلام میں عفو ودرگذر کی ایک حد متعین ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی کے حقوق کی پامالی نہ ہونے پائے اور نہ ہی کسی قسم کی شرعی خرابی لازم آئے۔
عدل وانصاف کی تعلیمات
عدل کے معنی ہر صاحب حق کو اس کا حق پہنچانا ۔عدل خواہ عدالت میں ہو یا اخلاق وصفات میں اعتدال و توسط،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں دونوں بدرجۂ اتم موجود تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو پوری کائنات میں سب سے بڑا امین ،سب سے بڑھ کر عادل اور راست باز بنایا ۔یہ وہ روشن حقیقت ہے جس کو آپ کے بڑے سے بڑے دشمنوں نے بھی بہ سروچشم قبول کیا ہے۔چنانچہ آپ کے اعلان نبوت سے پہلے ہی اہل مکہ آپ کو صادق الوعد والامین کے معزز لقب سے یاد کرتے تھے اور آپ کے پاس اپنی امانتیں بھی رکھتے تھے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح خود عدل وانصاف کے پیکر تھے اسی طرح دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتے رہے۔چنانچہ جب حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مخزومی عورت کے لیے حدود میں تخفیف کی سفارش کی نیت سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دی اور سفارش کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا:
’’یاایھا الناس انما ضل من قبلکم أنھم کانوا اذا سرق الشریف ترکوہ ،واذا سرق الضعیف فیھم أقاموا علیہ الحد ،وأیم اللہ لو أن فاطمۃ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سرقت لقطع محمد یدھا‘‘(۲۶)
اے لوگو! بیشک تم سے پہلے جو قومیں تھیں وہ گمراہ ہوگئیں ،کیوں کہ جب ان میں کا کوئی شریف اور بارتبہ شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے(اور ان پر کوئی حد قائم نہیں کرتے)لیکن جب کوئی کمزور اور غریب آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے ۔خدا کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) بھی چوری کرتی تو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔
اسی طرح جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں تھے تو آپ نے ممبر پر کھڑے ہوکر لوگوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا :
’’من کنت جلدت لہ ظھرا فھذا ظھری فلیستقد منہ ،ومن کنت أخذت لہ مالا فھذا مالی فلیستقد منہ،ومن کنت شتمت لہ عرضا فھذا عرضی فلیستقد منہ‘‘(۲۷)
جس کسی کی پیٹھ پر میں نے کوڑا مارا ہے تو میری پیٹھ حاضر ہے وہ مجھ سے بدلہ لے لے ،اور جس کسی کے مال کو میں نے (ناحق) لیا ہے تو میرا یہ مال حاضر ہے وہ اسے لے لے،اور جس کسی کو میں نے برا بھلا کہا ہے اور اسے بے عزت کی ہے تو میں حاضر ہوں مجھ سے اس کا بدلہ لے لے۔
احادیث مذکورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ حالات خواہ کیسے بھی ہوں ہمیں عدل وانصاف سے کام لینا چاہیے ۔امیر ہویا غریب،بادشاہ ہو یا فقیر ہر ایک پر یکساں نظر ہونی چاہیے۔کسی کی حق تلفی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہر صاحب حق کو اس کا پورا پورا حق پہنچانا چاہیے۔
حسن معاشرت کی تعلیم
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب ،احباب،ازواج مطہرات،رشتہ دار وں ،پڑوسیوں اور ہر ایک کے ساتھ حسن معاشرت اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتے تھے۔اور ان کے ساتھ خوش طبعی فرماتے اور سب کے ساتھ مل جل کر رہتے اور ہر ایک سے گفتگو فرماتے اور صحابۂ کرام کے بچوں سے بھی خوش طبعی فرماتے اور ان بچوں کو اپنی مقدس گود میں اٹھا لیتے ۔اور آزاد ،غلام ،لونڈی اور مسکین ،ہر ایک کی دعوت قبول فرماتے اور مدینہ کے کسی بھی کونے میں مریضوں کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے ۔اور عذر پیش کرنے والوں کا عذر قبول فرماتے اور دوسروں کو بھی مل جل کر رہنے کی تعلیم دیتے ۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص حضرت انس رضی اللہ عنہ آپ کے حسن معاشرت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’خدمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشر سنین ،فما قال لی أفِِ قط ولا قال لی لم صنعت کذا‘‘(۲۸)
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن اس طویل مدت میں آپ نے مجھے کبھی اف تک نہ کہا اور نہ ہی یہ کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟۔
اسی طرح حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں:
’’ماحجبنی النبی صلی الہ علیہ وسلم منذ أسلمت،ولا راٰنی الا تبسم فی وجھی‘‘(۲۹)
جب سے مسلمان ہوگیا تو کبھی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا اور جب بھی مجھے دیکھتے تو مسکرادیتے۔
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں:
’’کان الجیش یلعبون بحرابھم ،فسترنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأنا أنظر ،فما زلت أنظر حتی کنت أنا أنصرف‘‘(۳۰)
جنگی لشکر اپنی جنگی مہارت دکھا رہے تھے ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پردہ کر دیا تاکہ میں ان کا کھیل دیکھ سکوں،تو میں دیکھتی رہی حتی کہ میں خود ہی ہٹ گئی۔
یقیناًحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، پوری امت محمدیہ کے لیے اعلی نمونہ ہے ۔اگر ہم انفرادی واجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈھال کر امن وامان ،عدل وانصاف ،اخلاق حسنہ ،شفقت ورحمت ،اخوت وبھائی چارگی اور عفو درگزر جیسے اصولوں کو اپنا لیں تو ہمارے لیے دونوں جہاں میں کامیابی کی راہیں کشادہ ،پوری دنیا امن وامان اور چین وسکون کا گہوارہ ،جور وظلم ،قتل وغارت گری کا خاتمہ اور عدل وانصاف کا بہترین نظام قائم ہو جائے گا ۔آج مسلمانوں کی پستی کا سب سے بڑا سبب تعلیمات نبوی کو پس پشت ڈال دینا ہے۔لہذا ہمیں اب ضرورت ہے بیدار ہونے اور تعلیمات نبوی پر پورے طور پر عمل پیرا ہونے کی ،تاکہ روئے زمین پر چین وسکون اور صلح وآشتی کا ماحول بن سکے اور پھر سے پوری دنیا میں اسلام کے نظام رحمت ورأفت اور نظام عدل و انصاف کا بول بالا ہوسکے ۔


مآخذ و مراجع
(۱) القرآن ،سورۃالأحزاب: آیت۲۱۔
(۲) کنز الایمان ،از مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ(۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)،مکتبۃ:مرکز اہلسنت برکات رضا،پور بندر،گجرات ،انڈیا۔
(۳) تفسیرالکشاف للامام أبو القاسم،جار اللہ،محمود بن عمر بن محمد الزمخشری(۴۶۷ھ۔۵۳۸ھ):ج۳ ص ۵۱۵،مکتبۃ:مرکز اہلسنت برکات رضا، پور بندر،گجرات ،انڈیا۔
(۴) تفسیرالقرطبی لأبی عبد اللہ محمد بن أحمد الأنصاری القرطبی(۶۷۱ھ):ج۷ ،ص۱۲۶،مکتبۃ: دارالکتب العلمیۃ،بیروت۔
(۵)تفسیر روح البیان، للشیخ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ(۱۱۲۷ھ)تحت تفسیر الاٰیۃ ’’لقد کان لکم ‘‘الخ۔
(۶) تفسیر ضیاء القرآن للعلامۃ پیر کرم شاہ الأزہری علیہ الرحمۃ(۱۹۱۸ء۔۱۹۹۸ء):ج۴ ص۲۱۱۵ مکتبۃ: ضیاء القرآن پبلیکیشنزلاہور پاکستان۔
(۷)صحیح البخاری للشیخ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ(۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ):کتاب الحج ،باب طواف القارن، الحدیث :۱۶۳۹۔
(۸) صحیح البخاری للشیخ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ(۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ)کتاب الأیمان و النذور،باب من نذر أن یصوم أیاماً فوافق النحر أو الفطر،الحدیث: ۶۷۰۵۔
(۹) موطأ امام مالک للامام مالک بن انس بن مالک بن عمرعلیہ الرحمہ (۹۳ھ۔۱۷۹ھ):کتاب التقدیر، ج:۲ ص۳۲۱۔
(۱۰) سنن الترمذی للامام أبی عیسی محمد بن سورۃ،موسی بن شداد الترمذی علیہ الرحمہ(۲۰۹ھ/۲۸۰ھ) :کتاب العلم، باب ماجاء فی الأخذ بالسنۃ واجتناب البدع،الحدیث:۲۸۹۴۔
(۱۱) القرآن ،سورۃالقلم،الاٰیۃ:۴۔
(۱۲) کنز الایمان ،از مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ(۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)مکتبۃ: مرکز اہلسنت برکات رضا،پور بندر،گجرات ،انڈیا۔
(۱۳)مسندأحمد،للشیخ أبی عبد اللہ أحمد بن محمدبن حنبل الشیبانی الذھلی علیہ الرحمہ (۱۶۴ھ۔۲۴۱ھ) ،الحدیث: ۸۹۵۲،جامع صغیر،للعلامۃ،جلال الدین السیوطی علیہ الرحمہ(۸۴۹ھ- ۹۱۱ھ)،الحدیث: ۵۱۴۴،واللفظ لأحمد۔
(۱۴) سنن الترمذی للامام أبی عیسی محمد بن سورۃ،موسی بن شداد الترمذی علیہ الرحمہ(۲۰۹-۲۸۰ھ) :کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق المرأۃ علی زوجھا،الحدیث:۱۱۹۵۔
(۱۵) صحیح البخاری للشیخ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ(۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ):باب لم یکن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فاحشاً ولا متفحشاً، الحدیث :۶۰۲۹۔
(۱۶) القرآن :سورۃالأنبیاء ،الاٰیۃ:۱۰۷۔
(۱۷) کنز الایمان ،از مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ(۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)،مکتبۃ: مرکز اہلسنت برکات رضا،پور بندر ،گجرات ،انڈیا ۔
(۱۸) القرآن :سورۃ التوبۃ،الاٰیۃ :۱۲۸۔
(۱۹) کنز الایمان ،از مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ(۱۲۷۲ھ۔۱۳۴۰ھ)،مکتبۃ:مرکز اہلسنت برکات رضا،پوربندر،گجرات ،انڈیا۔
(۲۰) صحیح البخاری للشیخ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ(۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ):کتاب الأدب،باب رحمۃ الناس والبھائم ،الحدیث: ۶۰۱۳۔
(۲۱) سنن أبی داؤد،للشیخ أبی داؤد سلیمان بن أشعث الأزدی علیہ الرحمہ(۲۰۲ھ۔۲۷۵ھ):کتاب الجہاد ،باب مایؤمر بہ من القیام علی الدواب والبھائم ،الحدیث:۲۵۴۸۔
(۲۲) صحیح البخاری للشیخ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ (۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ):باب خمس من الدواب فواسقُ یقتلن فی الحرم، الحدیث:۳۳۱۸۔
(۲۳) صحیح البخاری للشیخ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ(۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ):باب فضل سقی الماء،الحدیث:۲۳۶۳۔
(۲۴) زاد المعاد،لابن قیم الجوزی(۶۹۱ھ۔۷۵۱ھ): ج۳ ص۶۴۲،بحوالۂ ضیاء النبی،للعلامۃ پیر کرم شاہ الأزہری علیہ الرحمۃ(۱۹۱۸ء۔۱۹۹۸ء):ج۴ص۴۴۵،مکتبۃ:فاروقیہ بک ڈپو، مٹیا محل، جامع مسجد،دہلی۔
(۲۵) مسندأحمد،للشیخ أبی عبد اللہ أحمد بن محمدبن حنبل الشیبانی الذھلی علیہ الرحمہ(۱۶۴ھ۔۲۴۱ھ)،ج۴ ص:۱۵۸۔
(۲۶) صحیح البخاری للشیخ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ(۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ):کتاب الحدود، باب قول اللہ تعالیٰ ’’وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُواْ أَیْْدِیَہُمَا‘‘(المائدۃ ۳۸)وفی کم یُقطع؟الحدیث:۶۷۸۸ ۔
(۲۷) المعجم الکبیرللطبرانی:ج۱۸ص۲۸، بحوالہ محمد الانسان الکامل للسید محمد بن سید علوی المالکی(۱۹۴۶ء-۱۹۷۱ء):ص:۱۴۱، المکتبۃ:دار الکتب العلمیۃ بیروت۔
(۲۸) مسندأحمد،للشیخ أبی عبد اللہ أحمد بن محمدبن حنبل الشیبانی الذھلی علیہ الرحمہ(۱۶۴ھ۔۲۴۱ھ) :باب مسند المکثرین من الصحابۃ ،مسند أنس بن مالک رضی اللہ عنہ،الحدیث: ۱۳۶۷۵،صحیح المسلم للامام مسلم بن الحجاج القشیری علیہ الرحمہ(۲۰۳ھ۔۲۶۱ھ):کتاب الفضائل،باب کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أحسن الناس خلقاً،الحدیث:۲۳۰۹،واللفظ لأحمد۔
(۲۹) صحیح البخاری للشیخ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ(۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ):کتاب الأدب،باب التبسم والضحک،الحدیث۶۰۸۹ ۔
(۳۰) صحیح البخاری للشیخ محمد بن اسماعیل البخاری علیہ الرحمہ(۱۹۴ھ۔۲۵۶ھ):کتاب النکاح، باب حسن المعاشرۃ مع الأھل ،الحدیث:۵۱۹۰۔