علم الحدیث NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 161 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



امام شمس الدین محمد بن عبدالرحمن السخاوی رحمۃ اللہ علیہ(902ھ) نے جامع الفاظ میں ٭ ‏علم الحدیث٭ کی درج ذیل اصطلاحی تعریف کی ہے:
ترجمہ: جس قول ، فعل ، تقریر(سکوت)، صفت یہاں تک کہ سونے اور جاگنے کی حرکات و سکنات کی نسبت اور اضافت حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف ہو وہ علم ، علم الحدیث کہلاتا ہے ۔

اس تعریف کی رو سے درج ذیل پانچ امور علم الحدیث میں شامل ہوۓ:
1.حضور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات اور اقوال
2.حضور نبی اکرم ﷺ کے افعال اور احوال
3.حضور نبی اکرم ﷺ کا کسی صحابی کے عمل پر سکوت
4.حضور نبی اکرم ﷺ کی صفات خِلقیہ (شمائل و خصائل) اور صفات خُلُقیہ (اخلاق و عادات)
5. حضور نبی اکرم ﷺ کے معولات زندگی
------------------
٭٭٭>>> علم الحدیث کی دو بنیادی اقسام ہیں:
1. روایۃ الحدیث
2.درایۃالحدیث

1.روایۃ الحدیث:
٭٭٭٭٭
علامہ محمد ابولفضل الوراقی الجیزاوی (1346ھ) نے روایۃ الحدیث پر درج ذیل جامع الفاظ میں روشنی ڈالی ہے:
ترجمہ:وہ علم جو حضور نبی اکرم ﷺ کے اقوال ، افعال ، تقریرات ، صفات اور ان کو روایت کرنے ، ان کے ضبط اور ان کے الفاظ کی تحریر پر مشتمل ہو علم الحدیث بالروايۃ کہلاتا ہے۔

اس کا موضوع : بحثییت رسول حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات مطہرہ ہے۔

اس کا مقصد: دنیاوی اور اخروی سعادت کا حصول ہے

2.درایۃالحدیث:
٭٭٭٭٭٭
امام محمد بن ابراہیم انصاری اکفانی (794ھ) نے درایۃالحدیث کی تعریف یوں کی ہے:
ترجمہ: وہ علم جس سے روایت حدیث کی حقیقت ، اس کی شرائط ، اس کی انواع ، اس کے احکام ، رواۃ کے حال اور ان کی شرائط ، مرویات کی اقسام اور ان کے متعلقات حاصل ہو علم الحدیث بالدرایۃ کہلاتا ہے۔
------------------------------------------------------------
امام ابوحنیفہ امام الائمۃ فی الحدیث از ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب