خدا نے اس قدر اونچا کیا پایہ محمد کا NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 180 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



خدا نے اس قدر اونچا کیا پایہ محمد کا
نہ پہچانا کسی نے آج تک رتبہ محمد کا

بحکم حق اترتے ہیں فرشتے خاص رحمت کے
کیا کرتے ہیں جب اہل سنن چرچا محمد کا

تعجب کیا اگر انسان گزارے عمر مدحت میں
ثنا خواں ہے دو عالم میں ہر ایک ذرہ محمد کا

سیہ کاروں کی کیا گنتی کہ درگاہ الہٰی میں
وسیلہ ڈھونڈھتے ہیںحضرت موسیٰ محمد کا

عدیم المثل ولاثانی ہے وہ ذات مبارک یوں
بنایا ہی نہیں اللہ نے سایہ محمد کا

بڑھی جب ظلمت کفرو ضلالت بزم دنیا میں
توروشن کردیا اللہ نے اکا محمد کا

کسی تیراک کو اس کا کنارہ مل نہیں سکتا
کہ جاری بحروحدت سے ہوا چشمہ محمد کا

شہنشاہِ مدینہ بادشاہِ ہفت کشور ہے
ہوا اللہ کی ہرشے پہ ہے قبضہ محمد کا

تصدق ایسی رفعت پر کہ برسوں قبل دنیا میں
سناتے آئے مژدہ حضرت عیسیٰ محمد کا

نرالی پیاری پیاری روشنی ہے شمع باری میں
کہ ہے سارا زمانہ دل سے پروانہ محمد کا

مدینے کے مقدر عرش کی تقدیر پر قرباں
کہاں قسمت کہ اس دل میں ہو کاشانہ محمد کا

رفعنا کا رکھا ہے تاج سر حق تعالیٰ نے
پھریرا عرش اعظم پر اُڑا کس کا محمد کا

نہ کیوں کر مشک و عنبر مست ہوں گیسو کی خوشبو سے
کہ حق کا دست قدرت ہوگیا شانہ محمد کا

الم نشرح لک صدرک سے یوں آواز آتی ہے
کشادہ کردیا اللہ نےسینہ محمد کا

بصیرت حق نے دی ہے جن کی آنکھوں کو وہ کہتے ہیں
ہے روشن مہرومہ سےبڑھ کے ہر ذرہ محمد کا

خرابی آنکھ کی ہے گرنہ دیکھے ان کے جلوے کو
کہ عالم میں کسی سے بھی نہیں پردہ محمد کا

بلاوصل نبی وصل الہی غیر ممکن ہے
خدا کے گھر پہنچنے کو ہے دروازہ محمد کا

گنہگاروں کی اس سےمشکلیں آسان ہوتی ہیں
نہ کیوں کر سب سے بڑھ کر نام ہو پیارا محمد کا

نہیں ہے جوغلام مصطفیٰ بندہ ہے شیطان کا
وہی ہے بندۂ حق جو ہوا بندہ محمد کا

جمیل قادری ایسی سنا رنگیں غزل کوئی
کہ بیخود ہو یہاں ہر ایک مستانہ محمد کا