لکھنو کے "دو ھادی"۔ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 4205 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



تقریباً دو سال قبل قدیم و جدید کتب کا مرکز ڈیجیٹل لائبریری آف انڈیا (Digital Library of India،www.dli.gov.in) پر کچھ تحقیقی کام کے لیے معاون کتب کی تلاش میں مصروف تھا تو مولانا ہادی علی لکھنوی مرحوم کے ۱۳ رسائل میلاد ہاتھ لگے، ڈاؤن لوڈ کر کے ان کا سرسری جائزہ لینا شروع کیا تو رسائل کے نام پڑھ کر ہی دل باغ باغ ہو گیا، ارادہ کیا کہ ان رسائل کا مختصر تعارف تحریر کیا جائے لیکن قلت وقت رکاوٹ بنی اور دوسرا سبب یہ کہ مولانا ہادی علی کا تعارف پیش کرنا بھی ضروری تھا جس کی تلاش و جستجو کے سبب کام التوا کا شکار ہوتا گیا، مگر آج یہ مضمون تحریر کرنے بیٹھاہوں تو میں آپ حضرات کے سامنے ایک نہیں بلکہ ’’ہادی علی‘‘کے نام سے موسوم دو بزرگوں کا تعارف اور ان کے علمی کام کا مختصر تعارف پیش کر رہا ہوں۔

فقیر ایک ’’ہادی‘‘کی تلاش میں تھا اورفضل حق سے دو ’’ہادی‘‘ مل گئے۔دونوں بزرگ ہم نام، ہم عصر، ہم وطن اور ہم مسلک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہی استاد (مفتی سعداﷲ مراد آبادی)سے فیض یافتہ بھی ہیں۔
دونوں بزرگوں میں امتیاز رکھنے کے لیے ہم اپنے مضمون میں ان کے اسمائے گرامی یوں تحریر کریں گے:
۱۔ مولانا ہادی علی لکھنوی
۲۔ مولانا غلام محمد ہادی علی لکھنوی کشمیری

خیال رہے کہ ان دو کے علاوہ ایک تیسرے ’’ مولوی مرزا ہادی علی بیگ‘‘ لکھنو کے رہنے والے تھے جو کہ شیعہ عالم تھے اور ان کی کتاب ’’خلاصۃ المصائب‘‘ ہے جس کا ذکر ڈاکٹر ایوب قادری نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔(اردو نثر کے ارتقاء میں علماء کا حصہ، جلدچہارم، ص:۵۲۷ مطبوعہ ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور)

مولانا ہادی علی خان لکھنوی
مولاناہادی علی خان جملہ علوم نقلیہ و عقلیہ کے عالم و فاضل تھے، والد گرامی کا نام نامی اسم گرامی شیخ حسین علی ولد شیخ مجیب الدین خلف شیخ غلام قادر تھا۔ نزہۃ الخواطر میں آپ کا تعارف یوں تحریر ہے:
الشیخ العالم الکبیرھادی علی بن حسین علی بن مجیب الدین بن غلام قادر البجنوری اللکھنوی، کان من نسل الشیخ فخرالدین الشہید ، ولد و نشا بقریۃ بجنور من اعمال لکھنو و قرا العلم علی المفتی سعداللّٰہ المراد آبادی، و علی غیرہ من العلماء ، و برز فی النحو واللغۃ و قرض الشعر، لہ تعلیقات شتی علی الکتب الدرسیۃ، و منظومۃ فی خواص الابواب و منظومۃ فی شرح الاربعین للشیخ ولی اللّٰہ ، مات سنۃ احدی و ثمانین و مئتین و الف۔ (نزہتہ الخواطر جلد ۷، ص:۱۱۳۶)

تذکرہ علمائے ہند میں آپ کا تعارف یوں تحریر ہے:
مولوی ہادی علی لکھنوی ابن شیخ حسین علی ولد شیخ مجیب الدین خلف شیخ غلام قادر از شیوخ لکھنؤ کہ بہ بجنوریان شہرت دارندوی بغایت ذہین و زکی فارغ التحصیل بود ۔(تذکرہ علمائے ہند: ۲۵۴ مطبوعہ مطبع نامی منشی نول کشور لکھنؤ)

مولانا ہادی علی لکھنوی نے اپنی تصنیف ’’گہرمنظوم‘‘ میں ایک جگہ حاشیہ میں خود اپنا شجرہ نسب یوں تحریر کیا ہے:
’’ہادی علی بن شیخ حسین علی بن شیخ مجیب الدین خلف شیخ غلام قادر مخاطب بخطاب مقیم علی خان از شیوخ لکھنؤ ‘‘ (گہر منظوم : ۲ )

درسیات کی تحصیل مفتی سعداﷲ مراد آبادی متخلص بہ آشفتہ سے کی۔ مفتی سعداﷲ مرادآبادی (۱۲۱۹ھ۔۱۲۹۴ھ) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے شاگرد اور صاحب تصانیف کثیرہ تھے، رام پور عہدۂ قضا و افتا کے عہدہ پر تاحیات مامور رہے۔( تذکرہ کاملان رام پور: ۱۵۵۔۱۵۱ )

علامہ فضل حق خیرآبادی اور آپ کے تلامذہ کے ساتھ مفتی سعد اﷲ مراد آبادی کی علمی بحثیں ہوتی رہیں جن کا تفصیلی احوال فاضل شیخ اسید الحق قادری بدایونی نے اپنی کتاب خیرآبادیات میں صفحہ۱۸۲۔۱۷۲ پر کیا ہے۔

مولانا ہادی تحصیل علم سے فراغت حاصل کرنے کے بعد لکھنؤ کے مطابع میں کتابوں کی تصحیح کے کام میں خاص امتیاز رکھتے تھے۔(تذکرہ علمائے ہند مترجم:۴۶۳ مطبوعہ پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی، کراچی)
مولوی رحمن علی لکھتے ہیں:
۱۲۶۴ھ/۸۔۱۸۴۷ء میں وہ مولانا ہادی علی لکھنوی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا منظومہ رسالہ فوائد جلالیہ ان کی خدمت میں پیش کیا، جسے مولانا نے پسند فرمایا۔ (ایضاً)
آپ کا وصال ۱۲۸۱ہجری میں ہوا۔ (نزہۃ الخواطر،ج۷،ص:۱۱۳۶)

مولانا ہادی علی لکھنوی نے کثیر تصانیف رقم فرمائیں، جن تک ہماری دسترس ہو سکی ان کا مختصر تعارف یہاں پیش کیا جاتا ہے:

۱۔ گہر (منظوم)
خاصیات ابواب علم صرف کاایک اہم باب ہے اس کے بغیرعلم صرف نامکمل وادھوراہے رسالہ ہٰذامیں اسی باب کوفارسی زبان میں منظوم پیش کیاگیاہے۔یہ رسالہ چودہ صفحات کومحیط ہے ، ۲۶ ذی الحجہ سے ۵ محرم کے درمیان لکھاگیا(یعنی کل تقریباً ۱۰ دن میں)جیساکہ رسالہ کے مابین السطورحاشیہ اور درج ذیل شعر اس کی جانب مشیرہے:
بماہ آخرذی حجہ ابتداگردید
شروع ماہ محرم بختم انجامید

ذی الحجہ کے نیچے تاریخ بست وششم لکھاہے اورماہ محرم کے نیچے تاریخ پنجم ، جس سے صاف پتہ چلتاہے کہ مذکورہ تاریخ ہی میں اس رسالہ کو تصنیف کیاگیا اور’’گہرمنظوم‘‘ اس رسالہ کاتاریخی نام ہے جس کے عدد۱۲۶۱ھ بنتے ہیں جو کہ سال آغاز کا پتہ دیتے ہیں اور یہ مصرعہ’’ بحب دل شدموزوں خصائص ابواب‘‘ سن اختتام یعنی ۱۲۶۲ہجری کی طرف اشارہ کررہاہے ۔جیساکہ کتاب کے اخیرمیں موجوددرج ذیل اشعارسے یہ بات ظاہرہے :
پی زمانہ آغاز نام تاریخی ست
کہ سال شصت ویک و دو صد ہزار
نظر بخاتمہ تاریخ سال را دریاب
’’بحب دل شد موزوں خصائص ابواب‘‘
رسالہ کاسرورق غائب ہونے کی وجہ سے مطبع معلوم نہ ہوسکا۔

۲۔ رسالہ قیافہ
یہ رسالہ علم قیافہ سے متعلق ہے جس میں جسم انسانی کے اعضاء ظاہر ہاتھ، پاؤں، چہرہ وغیرہ کے خطوط کے ذریعہ سعادت وشقاوت کی شناخت کرکے انسان کے احوال واقوال واعمال پربحث کی گئی ہے۔۱۵ ذی قعدہ ۱۲۶۷ہجری میں مطبع محمدی کانپورسے حاجی مولوی محمدحسین صاحب کی کاوش سے زیورطبع سے آراستہ ہوکرمنظرعام پرجلوہ گرہوا ۔

۳۱ صفحات پرمبنی یہ رسالہ دوفصلوں دوشعبوں اورپانچ انواع پرمشتمل ہے ، پہلی فصل کے تحت دوشعبے اورپہلے شعبہ کے تحت دوانواع اوردوسرے شعبہ کے تحت تین انواع اورآخرمیں دوسری فصل بغیر شعبوں اورانواع کے رکھی گئی۔

۳۔ فرہنگ لغات مصطلحات قصائد بدرچاچ
۱۲صفحات پرمشتمل اس رسالہ میں فارسی کے وہ استعارات وتشبیہات اوراصطلاحات وغیرہ بیان کئے گئے ہیں جن سے عام فارسی لغات معرّٰی ہیں اورخاص بات یہ کہ بیان کردہ مفردات ومرکبات کی تسہیل بہت ہی عام فہم زبان میں کی گئی ہے جسے فارسی کاعام قاری بھی پڑھنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا، رسالہ کوحروف تہجی کی ترتیب سے مرتب کیاگیاہے ، کتاب کے آخرمیں شیخ عبدالرحمن کے حوالے سے ایک تاریخی قطعہ بھی مندرج ہے جس کے درج ذیل مصرعہ سے ’’گو‘‘ حذف کرنے پر رسالہ کی سن تالیف’’۱۲۶۱‘‘ برآمدہوتی ہے:
گومصطلحات بدرچاچی ست

۴۔ مصباح
فن نحو کے متعلق یہ کتاب ۴۰صفحات پر محیط ہے۔ کتاب پانچ ابواب میں منقسم ہے، پہلا باب اصطلاحات نحو، دوسرا عوام لفظی قیاسی، تیسرا عوامل لفظی سماعی، چوتھا عوامل معنوی اور پانچواں عربی فصول پر مشتمل ہے۔ متن کتاب عربی اور حواشی فارسی میں تحریر ہیں۔ ۱۲۹۲ہجری میں مطبع نظامی کانپورسے باہتمام محمد عبدالرحمن بن حاجی محمد روشن خان طبع ہوا۔ کتاب کے اخیر میں مہتمم کے دستخط اور مہر بھی موجود ہے۔حافظ محمد نوراﷲ صاحب نے یہ تاریخی قطعہ تحریر کیا
’’نور بزم نحویان مصباح گشت‘‘

۲۔ مولانا غلام محمد ہادی علی خان لکھنوی کشمیری
آپ عالم کامل، عابد و زاہد، صاحب تقوی پیکر اخلاص واعظ و شیخ طریقت تھے۔ آپ کے والد کا نام حکیم محمد علی بن شیخ امجد علی ہے۔ مناقب حافظیہ میں آپ نے اپنانام ’’غلام محمدہادی علی‘‘ تحریرفرمایاہے اوروالدکانام حکیم محمدعلی، وطنیت لکھنو اور کشمیرکی جانب منسوب کی ہے۔

مولانا محمود احمد کانپوری نے (تذکرہ علمائے اہل سنت:۲۶۳ ) آپ کے والد گرامی کا نام حکیم عبدالواجد ناظم خیرآباد تحریر کیا ہے جو کہ درست نہیں۔

برکات مارہرہ میں آپ کے والد کا نام’’ حکیم محمود خان‘‘تحریر ہے جو کہ دراصل نواب دبیرالدولہ کی طرف سے بطور لقب دیا گیا تھا۔چنانچہ مولانا ہادی علی خان مناقب حافظیہ میں اپنا شجرہ نسب یوں تحریر کرتے ہیں:
غلام محمد ہادی علی الحنفی الکھنوی الکشمیری غفراﷲ ذنوبہ و ستر عیوبہ ابن حکیم محمد علی مرحوم و مغفور المخاطب از سرکار شاہ اودھ بہ محمود علی خان بہادر ابن زبدۃ الاصفیا الشہید فی سبیل اﷲ شیخ امجد علی رحمۃ اﷲ علیہ ۔ (مناقب حافظیہ:۷ مطبوعہ مطبع احمدی ، کانپور)

برکات مارہرہ میں حضرت شاہ غلام محی الدین امیر عالم مارہروی کی کرامات میں تحریر ہے کہ مولانا ہادی علی نے پیدائش کے دو روز بعد ہی دودھ پینا چھوڑ دیا، دعا اور دوا ہر طرح کی تدبیر کی مگر کچھ فائدہ نہ ہوا، بالآخر آپ کی والدہ نے باصرار آپ کے والد کو قبلہ امیر عالم کی بارگاہ میں تعویذ منگوانے بھیجاچنانچہ انہوں نے ایک تعویذ اور تین فتیلے تحریر کر دیے، جن کے اثر سے آپ فوراً دودھ پینے لگ گئے اور صحت کلی ہو گئی۔ اسی سبب آپ کو مارہرہ سے خاص عقیدت تھی، اکثر اعراس کے مواقع پر حاضر آستانہ ہوا کرتے اور وعظ بھی کہتے تھے۔ (برکات مارہرہ از طفیل، ص۱۳۶۔۱۳۵ ملخصاً مطبوعہ تاج الفحول اکیڈمی، بدایوں)

آٹھ سال کی عمرمیں زبدۃ العارفین حضرت حافظ محمدعلی صاحب معروف بہ حافظ محمد علی خیرآبادی علیہ الرحمۃ اﷲ الھادی کے دست حق پرست پربیعت ہوئے، جب سن شعورکوپہنچے توان کے خلیفہ اوربرادر زادہ حافظ محمداسلم صاحب خیرآبادی سے بیعت ہوئے۔ درسیات کی تکمیل مفتی سعد اﷲ مراد آبادی سے کی۔(تذکرہ علمائے اہل سنت: ۲۶۳)

مولانا ہادی علی کو فن خطابت میں ملکہ حاصل تھا، آپ تقریر و تحریر میں ضعیف اور موضوع روایات سے اجتناب فرماتے، علمی رنگ غالب ہوتا مگر سامعین و حاضرین کو مسحور کر دیتے۔ ۱۳۲۷ ہجری میں حضرت تاج الفحول عبدالقادر بدایونی رحمۃ اﷲ علیہ کے عرس کے موقع پر آپ نے تقریر فرمائی جس کاحال عرس کی روداد میں یوں بیان کیا گیا:
’’جناب مولانا مولوی ہادی علی خان صاحب کی علالت کی وجہ سے بیان شہادت جو محفل چہارم میں نہ ہو سکا تھا، آج آپ نے بطور اجمال مختصر الفاظ میں بیان کر دیااور فضائل صحابہ کرام و اہل بیت عظام خوب بیان کیے۔ دلائل منطقیہ سے افضلیت حضرت افضل البشر بعدالانبیاء بالتحقیق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ثابت فرمائی، تمام حُضار محفل پر آپ کے بیان کا خوب اثر ہوتا ہے۔‘‘ (کیفیت بزم عرس سراپا قدس : ۴۸۔۴۷ مطبوعہ نظامی پریس، بدایوں)

باغیٔ ہندوستان کے مرتب مولانا عبدالشاہد شروانی آپ سے بیعت تھے ، اپنے مرشد گرامی کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ایک مرتبہ قدوۃ السالکین زبدۃ العارفین مولانا الحاج محمد ہادی علی خان سیتاپوری رحمۃ اﷲ علیہ محرم کے ایام میں نواب صاحب کی استدعا و اصرار پر دادوں تشریف لائے، واقعات کربلا پر کئی تقریریں ہوئیں کچھ اس انداز سے واقعات کی تصویر کشی فرماتے کہ سننے والے بے قابو ہو کر چیخیں مارنے لگتے، بیان میں وہ اثر تھا کہ بچے بوڑھے سبھی روتے روتے بے حال ہوجاتے، جب تک مولانا کا قیام رہا مواعظ و تقاریر کا سلسلہ جاری رہا۔ میں بھی اپنی نوعمری و کم علمی کے باوجود بڑا متاثر تھا سینکڑوں آدمی مولانا سے بیعت ہوئے تقریباً سارا مدرسہ ہی بیعت ہو گیا، انہیں میں سے میں بھی تھا۔

مولانا کی عمر نوے سال سے متجاوز تھی کرسی پر دوسرے اٹھا کر مجلس میں لاتے، دو چار قدم سے زیادہ نہ چل سکتے تھے اور وہ بھی دوسروں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر۔ حضرت شاہ حافظ محمد اسلم خیرآبادی رحمۃ اﷲ علیہ کے خلیفہ اور نواب صاحب مرحوم کے پیر بھائی تھے، اسی نسبت سے کبھی دادوں آ جاتے تھے۔ نواب صاحب کے والد ماجد نواب احمد سعید خاں مرحوم اور تقریباً پورا خاندان حافظ صاحب ہی سے بیعت تھا۔ مولانا نے اس پیرانہ سالی کے باوجود ہمیشہ تراویح مسجد پہنچ کر پڑھیں اور رمضان میں پورا قرآن پاک تراویح میں سنا، پابند شریعت اور متبع سنت تھے۔( باغیٔ ہندوستان:۳۳۵ مطبوعہ مکتبہ قادریہ، لاہور)

مولانا عبدالشاہد شروانی کو اپنے مرشد مولانا ہادی علی لکھنوی سے خاص عقیدت تھی چنانچہ اپنے استاذ مولانا معین الدین اجمیری کے وصال پر تاریخ یوں برآمد کی:
’’ہادی رفت مولانا معین الدین اجمیری‘‘

حاشیہ میں لکھتے ہیں:
’’یہ مصرعہ تاریخ خاص نوعیت رکھتا ہے حضرت پیرو مرشد مولانا ہادی علی خان سیتاپوری رحمۃ اﷲ علیہ استاذ محترم سے ۱۱ سال قبل رحلت فرما چکے تھے دونوں بزرگوں کے ناموں کا اس موقع پر اجتماع جبکہ ’’ہادی‘‘ خدا و رسول کا نام بھی ہو لطف سے خالی نہیں۔‘‘ (باغی ٔ ہندوستان:۲۳۰ مطبوعہ مکتبہ قادریہ ، لاہور)

مولانا عبدالشاہد شروانی نے نواب صدر یار جنگ بہادر سے ایک عمارت خریدی ۱۳۶۱ھ بمطابق ۱۹۴۲ء میں اپنی سہولت و ضرورت کے مطابق تیار کروا کر پیرو مرشد کے نام پر ’’ہادی منزل‘‘ نام رکھا، ’’شاہد رحمت مقصود ہے ہادی منزل‘‘ [۱۳۶۰ھ] تاریخی مصرعہ ہے اور اس کا پتھر کندہ کروا کر بیرونی برآمدے میں نصب کروا یا۔ (باغیٔ ہندوستان: ۲۴۱ مطبوعہ مکتبہ قادریہ، لاہور)

وصال کے متعلق مولانا عبدالشاہد شروانی کا بیان ہے:
’’مولانا کا وصال ۱۸ ربیع الاول ۱۳۴۸ھ بروز شنبہ سرائے معالی خاں لکھنؤ آثار شریف میں وصال ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔ کچھ مذہبی تقریبات آثار شریف کے لیے بھی وقف فرما گئے ہیں ہر سال ربیع الاول میں موئے مبارک سرکار رسالت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اس جگہ زیارت ہوتی ہے، بڑا ہجوم ہوتا ہے مجھے یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ دفن میں شریک ہوا اور آخری بارزیارت سے بعد وفات مشرف ہوا، میں اس وقت خیرآباد میں پڑھتا تھا، خیرآباد لکھنؤ سے پچاس میل ہے اطلاع آنے پر کافی لوگ وہاں سے گئے انہیں میں مَیں بھی تھا۔‘‘ (باغی ہندوستان:۲۳۶۔۲۳۵ مطبوعہ مکتبہ قادریہ ، لاہور)

آپ کا شمار قبلہ حافظ محمد اسلم خیرآبادی رحمۃ اﷲ علیہ کے خاص خلفاء میں ہوتا ہے۔ ( تذکرہ کامل مرتبہ سید فرقان وحید خیرآبادی: ۸۴ مطبوعہ مکتبہ صمدیہ پھپھوند ضلع اٹاوہ)

جبکہ مولانا محمود قادری صاحب نے آپ کو حافظ سید محمد علی خیرآبادی قدس سرہ کا خلیفہ لکھا ہے۔ (تذکرہ علمائے اہل سنت :۲۶۳)

جب کہ یہ درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ حافظ صاحب کے وقت وصال مولانا ہادی علی ابھی کم سن تھے۔ مزید پروفیسر خلیق نظامی نے اپنی کتاب میں صرف تین خلفاء بتائے ہیں، مولانا ہادی علی اُن میں شامل نہیں، البتہ حافظ محمد اسلم خیرآبادی سے آپ کی خلافت بیان کی ہے۔( تاریخ مشائخ چشت: ۳۹۹ مطبوعہ دائرۃ المصنفین، اسلام آباد)

تصانیف
مجمع الحسنات فی ذکر اشرف الکائنات
مولانا خیرالاذکار فی ذکر سید الابرار کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
’’بندہ عاصی راجی رحمۃ اﷲ القوی غلام محمد ہادی علی حنفی چشتی قادری غفراﷲ ذنوبہ و ستر عیوبہ لکھتاہے کہ اس زمانہ میں بعض احباب نے فرمائش کی کہ جو حالات اور فضائل جناب سید عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے تم محافل میلاد شریف میں بیان کرتے ہو لکھ دو اس عاصی نے باوجود اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کے متوکلاًً علی اﷲ اس امر خیر کو زاد آخرت جان کر اس کے انصرام پر ہمت باندھی اور بارہ رسالے میلاد شریف کے لکھے اس انتظام سے کہ ہر رسالہ کو تبرکاً آیۂ قرآنی سے شروع کیا اور فضائل جناب سرور عالم جو اس آیہ شریفہ سے متعلق ہیں اس کے تحت میں بیان کیے اور انہیں فضائل کے ضمن میں قصہ میلاد شریف بھی لکھا اور بعد ذکر ولادت شریف کے کچھ حالات نبی کریم بھی لکھ دیے اور اس بات کا لحاظ حتی الامکان رکھا ہے کہ مضمون اور روایت ان رسائل میں مکرر نہ ہوں بخبر ذکر ولادت باسعادت کے لیکن ذکر ولادت میں بھی حتی الوسع ہر ایک رسالہ میں رنگ بدل دیا ہے اور اس کا بھی خیال رکھا ہے کہ وہ ہی روایات اور مضامین ان رسائل میں لکھے ہیں کہ جو اپنے مقتدایان دین سے سنے ہیں اور کتب معتبرہ اہل سنت میں دیکھے ہیں اور مضامین اور حالات کو اس ترتیب سے ان رسائل میں لکھا ہے کہ اگر کل رسائل سے حالات ولادت شریف جمع کر لیے جائیں تو خلقت نور محمدی سے تابہ ولادت مفصل حال معلوم ہو جائے اور بعد ذکر ولادت شریف کے جو حالات لکھے گئے ہیں اگر وہ کل ایک جا جمع ہوں تو وقت ولادت شریف سے تا بفتح مکہ و حنین جملہ حالات حضور کے رضاعت اور بعثت اورتبلیغ احکام اور معراج اور ہجرت اور غزوات کے معلوم ہو جائین اور باوجود اس ربط کے ہر ایک رسالہ ایک مستقل رسالہ ہے ایک رسالہ کے دیکھنے سے یہ معلوم نہ ہو گا کہ ایک دوسرے سے متعلق ہے اور چونکہ علمائے دین نے جو سابق میں گذر گئے ہیں رسائل میلاد شریف میں ذکر وفات شریف کو داخل نہیں کیا ہے اور نہ اپنے وقت میں عاصی نے اپنے مقتدایان دین کو بیان کرتے سنا ہے اس وجہ سے کہ ذکر وفات شریف ملال دیتا ہے اور یہ محفل ہوتی ہے سرور ولادت کی لہذا اس عاصی نے بھی ذکر وفات شریف کو کسی رسالہ میں تصریح سے نہیں لکھا ہے لیکن چونکہ یہ رسائل درحقیقت ایک کتاب ہے سیر مصطفوی میں لہذا واسطے تکمیل حالات حضرت سرور عالم کے ذکر وفات شریف کو ایک مستقل رسالہ میں علاوہ دو آزدہ(۱۲) رسائل کے لکھ دیا ہے اور نام اس مجموعہ کا ’’مجمع الحسنات فی ذکر اشرف الکائنات‘‘ رکھا ہے اور شروع کیا لکھنا ان رسائل میلاد شریف کا اوسط ایام تشریق ماہ جمادی الثانی ۱۳۰۰ھ میں کہ اہل سیر نے حمل مادری میں تشریف لانا حضور کا ان ایام میں روایت کیا ہے اور ختم کیا ان کو شب ولادت باسعادت یعنی دو از دہم ماہ مبارک ربیع الاول ۱۳۰۱ھ میں یعنی نو ماہ کامل میں تاکہ اس مناسبت سے اﷲ تعالیٰ بتصدق اپنے حبیب کریم کے اس ہدیہ کو قبول فرمائے اور احقر کے واسطے زاد آخرت کرے اور حضور جناب رسالت میں اس کو مرتبہ مقبولیت دے اور اس عاجز کی عاجزی پر نظر فرما کر جو خطا وقوع میں آئی ہو معاف فرما دے اور میرے اور اہل مطبع کے واسطے اس کو ذریعہ مغفرت اور وسیلہ نجات کرے۔ آمین یا رب العالمین

۱۔ خیر الاذکار فی ذکر سید الاخیار
یہ رسالہ ۷۵ صفحات پر مشتمل ہے مطبع نامی لکھنؤ سے۱۸۸۴ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔ مشمولات کی فہرست حسب ذیل ہے:
(فضائل و مسائل درود شریف، حیات نبی ، جواز استعانت بالرسالت مآب، توسل ، حضور سے محبت کے فضائل، فضائل میلاد، اثبات تعین محفل میلاد شریف ایام ولادت باسعادت ، اثبات قیام عند ذکر مولود، خلقت نور محمدی، ذبیحہ سیدنا عبداﷲ رضی اﷲ عنہ ، ذکر ولادت مع آیات جن کا ظہور ولادت شریف کے وقت ہوا۔)

آخری صفحہ پر ’’اشتہار برکت آثار‘‘ کے نام سے تحریر ہے:
’’اس زمان میمنت آوان میں یہ مجموعہ لاجواب خزینہ برکات ’’مجمع الحسنات فی ذکر الشرف الکائنات‘‘ جسے عالی جناب مولوی حافظ حاجی غلام محمد ہادی علی خان صاحب نے کتب معتبرہ سے انتخاب کر کے لکھا ہے روایات صحیحہ کو اس مجموعہ میں جمع کیا ہے پہلی تاریں ماہ مبارک ربیع الاول سے بارہویں تک کے واسطے ایک ایک رسالہ علیحدہ میلاد شریف کا کیسی خوبی سے تحریر فرمایا ہے اور تیرہویں رسالہ میں حال پُر ملال وفات خلاصہء کائنات تحریر ہوا ہے ان شاء اﷲ تعالیٰ یکے بعد دیگر طبع ہوں گے بالفعل اس کا پہلا حصہ جس کا نام خیرالاذکار فی ذکر سید الاخیار ہے مطبع نامی لکھنؤ میں بعد اخذ حق تالیف و صحت مصنف طبع ہوا ہے ‘‘

۲۔نورالابصار فی ذکر سید الابرار
۱۸۸۴ء میں مطبع نامی لکھنؤ سے طبع ہوا، مندرجات کی تفصیل یوں ہے:
(معانی آیۂ کریمہ ان اللّٰہ و ملئکتہ، اﷲ تعالیٰ کا حضور کو وصف کے ساتھ یاد کرنا، حضور کا ذکر کرنے اور سننے کے آداب، فضائل نبی کریم کتب سماوی سے، عظمت نبی کریم قرآن کریم سے، محبت رسول عین ایمان، نورمحمدی کی تخلیق ، حضرت آدم علیہ السلام کی انگلیوں میں ظہور ہونا، مسئلہ تقبیل ابہامین، بیان ولادت باسعادت، حضورکی ہیبت سے آثار کفر کا مٹنا، بیان ضلالت علم کہانت وغیرہ)

۳۔ نجم الھدی فی ذکر سید الوریٰ
یہ رسالہ ۱۸۸۴ء میں مطبع نامی لکھنؤسے طبع ہوا، تفصیلات حسب ذیل ہیں:
معانی آیۂ کریمہ ان اللّٰہ وملئکتہ، درود شریف پڑھنے کے طریق و آداب و فضائل، حضور کی طفیل خلق سے عذاب کا دور ہونا، فضائل و مراتب امت محمدی، ملت محمدی کے فضائل کتب سماوی سے، بیان خلقت جسم اطہر جناب رسالت مآب، شیطان کے ملعون ہونے کا سبب، ملک فارس میں حضور کی ہیبت کے آثار کا ظاہر ہونا مع خلاصہ جنگ فارس۔

۴۔ مصباح الظلام فی ذکر سید الانام
۱۸۸۵ء میں مطبع نامی لکھنؤسے طبع ہوا، مشمولات کی تفصیل یوں ہے:
بیان معانی لفظ ’’صلوٰۃ‘‘، حضور کا اسمائے الٰہی سے موسوم ہونا، سب سے آخر میں مبعوث ہونا، اخلاق نبی اکرم، مظہر اتم ہونے کا بیان، علم ماکا ن و ما یکون کا اثبات، فضائل صحابہ و اہل بیت کے موافق آیات و احادیث، بیان تولد حضرت حوا، شیطان کا بہشت جانا اور آدم علیہ السلام کا زمین پر نزول فرمانا، آدم و بنی آدم سے میثاق لینا، حضور کا سید الانبیاء ہونا، اجداد محمدی کا فضل جمیع اولاد آدم پر، ختم رسالت کا بیان، حضرت حلیمہ کا مکہ آنا اور آیات الٰہی کا نظارہ کرنا، بیان شق صدر وغیرہ)

۵۔ سفینۃ النجات فی ذکر سید الموجودات
۱۸۸۵ء میں مطبع نامی لکھنؤ سے طبع ہوا، مشمولات کی تفصیل حسب ذیل ہے:
(معانی آیۂ کریمہ ان اللّٰہ و ملئکتہ دونوں جہان میں حضور کی عظمت کو ظاہر فرمانا، شفاعت نبی کریم ، حوض کوثر و پل صراط، وسیلہ اور فضیلہ کا بیان، حضور حبیب بھی ہیں اور خلیل بھی، بیان ولادت حضرت شیث علیہ السلام اور نور محمدی ان کے سپر دہونا، نورمحمدی کا بطن آمنہ رضی اﷲ عنہا میں جلوہ گر ہونا، حضرت آمنہ و عبدالمطلب کا وصال کرنا، جناب ابوطالب کا حضور کی کفالت کرنا۔

۶۔ کحل الابصار فی ذکر نبی المختار
رجب المرجب ۱۳۰۲ھ میں طبع ہوا، مشمولات کی تفصیل یوں ہے:
معانی آیۂ کریمہ ان اللّٰہ و ملئکتہ کے موافق علمائے اہل اصول کے، حضور کی عظمت از روئے خلق اور خلق کے، عموم رسالت اور معانی آیہ و ما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین کا بیان، حضور کی توقیر و تعظیم تمام عالم پر فرض ہے، فضائل آل و اصحاب و ازواج، عالم تعین میں نور محمدی کا جلوہ گر ہونا، نور محمدی کی جلوہ گری حضرت ادریس کے ہاں، ولادت باسعادت تا عمر بست سالہ، ملائکہ کا حاضر ہونا، حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا مال لے کرتجارتی سفر کرنا و معجزات کا ظہور، حضرت خدیجہ سے نکاح ہونا، اسماء اولاد امجاد نبی کریم مع مختصر حالات، خانۂ خدا کی از سر نو تعمیر کا بیان۔

۷۔ نور الہدی فی ذکر خیر الوریٰ
ماہ محرم ۱۳۰۴ھ میں زیور طبع سے آراستہ ہوا، یہ رسالہ ان مضامین پر مشتمل ہے:
معانی آیۂ کریمہ تلک الرسل فضلنا بعضہم کا بیان، حضور کی فضیلت جمیع انبیاء پر ہونا، بیان رفعت درجات محمدی، نورمحمدی کے سبب حضرت آدم کا تمام خلق سے برگزیدہ ہونا، نوح علیہ السلام کو نور محمدی سپرد ہونا، بیان حال والد حضرت ابراہیم علیہ السلام، طہارت اجداد محمدی کی کفر سے، حضور کا بطن حضرت آمنہ میں تشریف لانا، بیان ولادت شریف، قبل از بعثت حضور کا یاد خدا میں مستغرق ہونا، بعثت، تبلیغ احکام، کفار کا محبوب خدا کو ایذا پہنچانا اور آپ کا صبر کرنا، خلق کا حضور پر ایمان لانا)

۸۔ نور العینین فی ذکر رسول الثقلین
شعبان المعظم ۱۳۰۲ھ میں طبع ہوا، فہرست مشمولات حسب ذیل ہے:
معانی آیہ انا ارسلنک شاھدا، بیان حسن و جمال محمدی احادیث سے، ختم نبوت کا بیان، حال سراپائے محمدی، حضور کا بے مثل و بے سایہ ہونا، جسم اطہر کے فضلات کے طہارت و خوشبو کا بیان، ابراہیم علیہ السلام کا حامل نور محمدی ہونا ، بیان ولادت، اﷲ تعالیٰ کا حضور کو آسمانوں پر بلانا اور اظہار عظمت کرنا مع بیان معراج

۹۔ مصدر الخیرات فی ذکر سید السادات
ماہ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ میں طبع ہوا، مشمولات حسب ذیل ہیں:
معانی آیہ کریمہ انک لعلی خلق عظیم ، معانی حدیث کان خلقہ القرآن، بیان حضور کے صبر وحلم، عفو و تواضع، ایفائے عہد، جود و سخا، دلاوری، حیا و شفقت، رحمت ، امانت، زہد اور طاعت و عبادت کا، ذکر ولادت باسعادت، اہل مدینہ کا بیعت ہونا، جانب مدینہ ہجرت، مدینہ منورہ تشریف آوری، تعمیر مسجد نبوی، اذان کا مقرر ہونا، بیت اﷲ شریف کو قبلہ مقرر کرنا۔

۱۰۔ معدن البرکات فی ذکر صاحب البینات والمعجزات
ماہ شعبان المعظم ۱۳۰۳ھ میں زیور طبع سے آراستہ ہوا، اس رسالہ میں درج ذیل مضامین کا بیان ہے:
معنی سورۂ کوثر، معجزات نبی اکرم، بیماروں کی صحت، احیائے اموات، نفع خلق، حال آئندہ کی خبر، دفع شر کفار۔ ان معجزات کا بیان جو اصلاب آبا میں نور محمدی کی جلوہ گری سے ظاہر ہوئے، ان معجزات کا بیان جو ایام حمل اور وقت ولادت شریفہ ظاہر ہوئے، جہاد کا معجزہ کامل ہونا، جنگ بدر اور معجزات، فضائل حاضرین بدر کا بیان۔

۱۱۔ کحل العینین فی ذکر سید الکونین
ماہ صفرالمظفر ۱۳۰۴ھ میں شائع ہوا۔ مندرجات کی فہرست یہ ہے:
معانی آیہ کریمہ لعمرک انہم لفی سکرتہم یعمہون، اﷲ تعالیٰ کا حضور کی قسم یاد فرمانا، حیوانات و جمادات و نباتات کا اطاعت نبی کریم کرنا، بیان معجزہ شق القمر و رد شمس، بیان عظمت محمدی، ذکر ولادت شریف، بیان اس کا کہ اﷲ تعالیٰ خود حضور کا ناصر و معین ہے، جنگ احد کا بیان، بیان شجاعت امام الاشجعین حضرت اسداﷲ، حضور کا زخمی ہونا، بیان شہادت سیدنا حمزہ رضی اﷲ عنہ، فضائل شہدائے احد

۱۲۔ سکینۃ القلوب فی ذکر المحبوب
ماہ صفرالمظفر ۱۳۰۴ھ میں طبع ہوا، صفحات ۶۸ ہیں۔ مشمولات کی تفصیل یوں ہے:
معانی آیہ کریمہ کما ارسلنا فیکم، لقد جاء کم رسول ، بیان حضور کا اول مخلوق ہونا، حمل مادری میں جلوہ گرہونا، جناب عبداﷲ رضی اﷲ عنہ کی وفات، ذکر ولادت شریف، بیان سرور عالم کے صبر اور غلبۂ قوت کا، فتح مکہ اور حضور کے کرم و احسان کا ظہور، فتح جنگ حنین، تقسیم مال غنیمت وغیرہ۔

۱۳۔ منبع الاحزان فی ذکر وفات نبی اخرالزمان
۱۳۰۲ھ میں طبع ہوا، کل ۵۲ صفحات ہیں۔ مشمولات کی تفصیل حسب ذیل ہے:
معانی آیہ کریمہ انک میت، نزول آیہ کریمہ الیوم اکملت اور اذا جاء کا حجۃ الوداع میں ، حضور کی حیات و ممات کا فرق، حضرت بلال کا غم مصطفی میں شام کو ہجرت کر جانا اور واپس آنا، بیان حال وفات شریف، وصیت، اہل بقیع اور شہدائے احد کی بخشش طلب کرنا، مرض الموت کا بیان، جناب سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو امامت کا حکم فرمانا، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا عیادت کے لیے حاضر ہونا، حضرت ملک الموت کا قبض روح کے لیے اجازت طلب کرنا، ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کو وصیت فرمانا، جناب جبرئیل کا حاضر ہو کر امت کی بخشش کی بشارت پیش کرنا، عاشقان رسول کا غم فرقت میں حال زار ہونا، تجہیز و تکفین ، وقت تدفین و بعد تدفین جو آیات ظاہر ہوئیں کا بیان

۱۴۔ مناقب حافظیہ
مصنف موصوف کے مرشدروحانی زبدۃ العارفین حضرت علامہ حافظ محمدعلی صاحب الشہیربحافظ محرم علی صاحب خیرآبادی علیہ الرحمۃ اﷲ الھادی کے مناقب جلیلہ اوصاف حمیدہ اورحضرت کے حالات وارشادات اورکرامات پرمشتمل یہ کتاب ۲۵۶صفحات کومحیط ہے۔

سن ۱۳۰۰ہجری میں یہ کتاب لکھی گئی اورماہ رجب ۱۳۰۵؁ھ میں شیخ محمدعبدالصمدصاحب کے اہتمام سے مطبع احمدی کانپورسے اس کتاب کی اشاعت ہوئی۔مصنف نے کتاب کے اخیرمیں قطعہ تحریرفرمایاہے جس کے درج ذیل آخری مصرعہ سے سن ۱۳۰۰ہجری برآمدہوتی ہے جوسن تصنیف کاپتہ دے رہی ہے
بوددواء دل وجان مناقب حافظ

مناقب حافظیہ کا اردو ترجمہ منشی نذر محمد خان نے ’’مشاہدہ حافظی‘‘ کے نام سے کیا جو ۱۳۵۴ھ میں شائع ہوئی۔( خیرآبادیات: ۱۰۴ مطبوعہ مکتبۂ اعلیٰ حضرت، لاہور)

شیخ الاسلام سید حافظ محمد علی خیرآبادی سید نظام الدین اﷲ دیا کی اولاد امجاد سے ہیں آپ کی ولادت ۱۱۹۲ھ میں ہوئی ، شاہ عبدالقادر محدث دہلوی سے حدیث پڑھی، تیرہویں صدی کے نصف اول کے اجلہ مشائخ اور سالکین میں آپ کا شمار ہے، علامہ فضل حق خیرآبادی رحمۃ اﷲ علیہ نے آپ سے فصوص الحکم کا درس لیا، آپ کے برادر زادے حضرت حافظ محمد اسلم خیرآبادی آپ کے خلیفہ و جانشین ہوئے ۔ (ملخصاً خیرآبادیات:۱۰۳۔۱۰۴ مطبوعہ مکتبہ اعلیٰ حضرت، لاہور)

۱۵۔ دہ مجلس شہادت
مطبع انصاری لکھنؤ سے نومبر ۱۹۱۳ء میں شائع ہوئی ، اس کا ایک نسخہ انجمن نعمانیہ کی قدیم لائبریری میں موجود ہے جس کا ریفرنس نمبر ۴۲۷۲ہے

مولانا فرماتے ہیں:
’’واضح ہو کہ کل مجالس میں فضائل اور مناقب اہل بیت رسالت حتی الامکان کتب معتبرہ اہل سنت سے موافق، قرآن مجید و احادیث نبوی نقل کیے گئے ہیں اور روایات موضوعہ سے احتراز کیا گیا ہے مگر واقعات شہادت شہداء کتب سیر سے لکھے ہیں وہ اخبار اور حالات تاریخی ہیں جس میں صدق و کذب کا احتما ل ہے اور واقعات کربلا کے بیان میں اس سے گریز ہو نہیں سکتا ہے اس واسطے کہ جو ثقہ اور صالح اور عادل تھے وہ سب امام برحق کے سامنے شہید ہوگئے ایک حضرت سید الساجدین جو باقی رہے وہ بسبب علالت کے خیمہ میں تھے لہذا واقعات جنگ جو مذکور ہیں انہی لوگوں سے ہیں جو مخالف تھے جب اول ہی راوی اچھے نہیں ہیں تو بعد کے راویوں کا عدل و صداقت کیا دیکھا جائے!!! مگرہاں اس کا خیال رکھا ہے کہ جو روایتیں ہمارے اصول مذہب اور مسلمات کے مطابق ہیں وہ لکھی ہیں اور جو مخالف ہیں ان کو چھوڑ دیا ہے اور بیان سیر میں اسی کا خیال کیا جاتا ہے مثلاً امام رضی اﷲ عنہ کی عظمت و شجاعت اور صبر اور حلم اور علوہمت اور صراط مستقیم پر ثابت قدمی اور ہر بلا پر راضی برضائے خدا رہنا اور خدا کی راہ میں مظلوم شہید ہونا یہ مسلم ہے اور مخالفوں کا ظالم اور بدکار اور دنیا پرست اور گمراہ اور شقی القلب ہونا بھی مسلم ہے پس جو روایات ان امور کو ظاہر کرتے ہیں وہ ضرور قیاس سے صحیح اور راست معلوم ہوتے ہیں ایسی ہی روایتیں لکھی ہیں اور اسی وجہ سے مقتل ابو مخنف کی راویتیں بھی لکھی ہیں یہ شیعہ مذہب ہیں لیکن شیعان اول سے ہیں غالی نہیں ہیں اور کہا گیا ہے کہ بیان روایت میں محتاط بھی ہیں اور قطع نظر اس کے کہ واقعات کربلا میں وہ ہمارے موافق بھی ہیں جن کو ہم اچھا جانتے ہیں ان کو وہ بھی اچھا جانتے ہیں اور جو کو ہم بُرا سمجھتے ہیں وہ بھی ان کو بُرا سمجھتے ہیں انہی وجوہات سے ابن کثیر نے کہ اہل سنت کے مؤرخ ہیں ان کے مقتل سے روایات نقل کیے ہیں۔ (ص:۳۔۲)
٭٭٭٭٭
نوٹ
مولانا ہادی علی کے تمام رسائل درج ذیل ویب سائٹس پر اپ لوڈ ہو چکے ہیں
WWW.NAFSEISLAM.COM
WWW.RAZANW.NET