منصب امامت اور اس کی عظمت (قسط پنجم) NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 451 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



احساس نصیحت:ما قبل کی قسطوں میں امام کے منصب اور اس کی عظمت کے لحاظ سے کئی جہات سے گفتگو کی جا چکی ہے اس قسط میں ہم انشاء اللہ امام کو ناصح کی حیثیت سے پیش کریںگے۔۔
امام مسلم اپنی صحیح میں حضرت تمیم دارمی سے حدیث روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا’’ دین نصیحت ہے صحابہ کرام نے عرض کیا دین کس کے لئے نصیحت ہے۔ فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے لئے ، اس کی کتاب کے لئے، اس کے رسول کے لئے، ائمہ مسلمین کے لئے اور عام مؤمنین کے لئے۔
یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوامع الکلم سے شمار کی جاتی ہے اس کے بارے میں علامہ خطابی نے فرمایا: نصیحت بہت جامع کلمہ ہے کہ یہ اپنے دامن میں ہر خیر کو سمیٹے ہوئے ناصح منصوح لہٗ (جس کے لئے نصیحت ہو رہی ہے) کو ہر خیرپیش کر سکتاہے۔علامہ مزید لکھتےہیں اس کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے کوئی کلمۂ مفردہ موجود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی کتاب اور اس کے رسول کے لئے نصیحت کیا ہے یہ بات ہم اختصار کے پیش نظرتفصیلاً بیان نہیں کر رہے ہیں ۔ تاہم اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ یہاں نصیحت کا معنیٰ ان پر ایمان لانا اور ان کے حقوق ادا کرنا ہے ۔ ائمہ مسلمین کے لئے نصیحت کیا ہے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے عامۃ المسلمین کےحق میں نصیحت کا معنیٰ کیا ہے اس کو قدرے تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ امام کو بحیثیت ناصح سمجھا جا سکے۔
امام قاضی عیاض ’’ نصیحت عامۃ المسلمین‘‘ کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ عام مؤمنین کےلئے نصیحت یہ ہے کہ مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے۔ جو غافل ہوں انہیں تنبیہ کی جائے، جاہلوں کو سکھایا جائے، محتاجوں کی سہارا دیاجائے، عیوب کو ڈھانکا جائے، پریشانیوں کو روکا جائے اور دین و دنیا کے منافع اس تک پہونچائے جائیں۔
(اکمال المعلم شرح صحیح مسلم ج:۱ ص۲۱۹)
تعرف الاشیاء باضدادہا کے مطابق نصیحت (خیر خواہی) کو اس کے اضداد سے بھی پہچاننا چاہیے تاکہ نصیحت کامعنیٰ و مفہوم کامل طور پر ذہن نشیں ہو جائے۔ عربی زبان میں نصیحت کے مقابل بولے جانے والے الفاظ ، غش، خداع (دھوکا) اور مکر(چال بازی) وغیرہ ہیں۔ دھوکا اور چال بازی اپنے معنیٰ اور مفہوم کے اعتبار سے بہت مذموم قابل تردید اور رضائے رب تعالیٰ سے بہت دور لے جانے والی چیزیں ہیں۔ ساتھ ہی غش، مکراور خداع معاشرے میں بھی قابل مذمت بلکہ قابل نفرت اشیاء میںشمار ہوتے ہیں۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی جب نصیحت کی اضداد عند اللہ و عند المعاشرہ مذموم و مردود ہیں تو یقیناً نصیحت عنداللہ و عند الناس محمود ومقبول شئے ہے۔اب قرآن کریم کی زبانی یہ بھی سمجھتے چلیں کہ نصیحت کرنا کس کی خصلت و خوبی ہے اور مکر و فریب کس کا طریقہ ہے۔
قرآن پاک کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نصیحت کرنا انبیاء و مرسلین علیہم السلام اور مؤمنین مخلصین کا وصف ہےجبکہ مکر و فریب کفار و منافقین کا وتیرہ ہے۔جیسے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا قول نقل کرتے ہوئے قرآن پاک میں فرمایا گیا’’ ابلغکم رسالات ربی وانصح لکم‘‘میں تمہیںاپنے رب کے پیغام پہونچاتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں۔ حضرت ہود کے بارے میں فرمایا گیا’’ انا لکم ناصح امین‘‘میں تمہیں نصیحت کرنے والا اور امین ہوں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں بھی قرآن پاک میں تقریباً یہی مفہوم موجود ہے۔
ہمارے نبی ﷺ کی امت کے صلحاء کو بھی اس وصف سے خصوصی حصہ عطا فرمایا گیا۔ حضرت ابوبکر مزنی فرماتے ہیں : حضرت ابو بکر نےنماز اور روزے کی وجہ سے صحابۂ کرام پر فوقیت نہیں پائی بلکہ جو چیز ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور مخلوق کے لئے نصیحت کے طور پر موجود تھی وہی ان کے لئے وجہ کمال تھی۔ (جامع العلوم و الحکم ج: ۱ ص:۸۱)
خداع منافقین کا طریقہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے’’ یخادعون اللہ والذین اٰمنوا‘‘ منافقین اللہ تعالیٰ اور مؤمنین کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔
خلاصۂ کلام یہ کہ نصیحت کرنا دین میں بہت بلند مقام رکھتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہے ۔ پیغمبروں اور مؤمنوں کا طریقہ ہے ۔ حدیث کے پیش نظر نصیحت ہر دین دار کا کام ہے لیکن علماء و ائمہ کو وارثین انبیاءہونے کی سعادت حاصل ہے ، اس حیثیت سے ان حضرات پر یہ حکم زیادہ مؤکد ہے۔علماء کرام میں امام مسجد عام مؤمنین کے سب زیادہ قریب اور عمومی طور پر سب سے زیادہ معتمد بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ قربت و اعتماد اس حکم کو اورتاکیدی بنا دیتےہیں۔
اب امام مسجد ایک مرتبہ پھر قاضی عیاضکے مذکورہ الفاظ پڑھے جو انہوںنے عام مؤمنین کے بارے میں نصیحت کی تعریف (ڈیفنیشن) بیان کرتے ہوئے لکھتےہیں۔ وہ فرماتے ہیں ’’ مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے‘‘۔ مصلحت خواہ دینی ہو یا دنیوی ناصح کا فرض منصبی ہے کہ وہ اس کی طرف رہنمائی کرے۔ہمارے ہندوستان میں بہت ساری مساجد خاص میں یہ رواج ہے کہ خطبۂ جمعہ جو عربی زبان میں پڑھا جاتا ہے اس سے گھنٹہ یا آدھا گھنٹہ پہلے امام مسجداپنی مادری زبان میں لوگوں سے خطاب کرتا ہے جسے تقریر کہا جاتا ہے ، بعض علاقوں میں اسے وعظ بھی کہتے ہیں۔ یہ وقت امام کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے وہ اس وقت کو نصیحت مسلمین کے لئے کافی حد تک استعمال کر سکتا ہے لیکن اس کے لئے امام کو باضابطہ تیاری چاہئے۔ اولاً تو اس کی نظر لوگوں کی ضروریات پر حاوی ہونی چاہئے کہ اس وقت مسلمانوں کو دینی اور دنیوی اعتبار سے کس چیز کی احتیاج اشد ہے۔ ان کے دین میں کیا کیا مفاسد در آئے ہیں۔ موجودہ وقت میں کون سی چیز مسلمانوں کے دین پرمضرت کے اعتبار سے زیادہ اثر انداز ہے۔ لوگوں کا عمومی رجحان کس فسادکی طرف ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح دنیوی اعتبار سے قومی اور بین الاقوامی سطح پرکن کن چیزوں سے مسلمان جو جھ رہے ہیں ، کہاں کہاں انہیں ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس وقت مسلمانوں کی بنیادی ضرورت کیا ہے ۔ عالمی منظر نامے پر مسلمانوں کی ترقی یا تنزلی کا تناسب کیاہے وغیرہ وغیرہ۔
محتاج نظر چند عناوین کی طرف ہم نے اشارہ کیا ورنہ اگر نظر میں وسعت ہو اور مطالعہ میں کثرت، تو ان جیسے درجنوں موضوعات کو انسان خود تلاش کر سکتا ہے بلکہ وہ موضوعات خود صاحب نظر کے انتظار میں ہے یہ خود اس کو تلاش کر لیںگے۔ جب امام صاحب نے اپنی تلاش کوجاری رکھ کر کچھ عناوین منتخب کئے اور اس کی نظر کچھ موضوعات پر جم گئی کہ اس وقت مسلمانوںکو ان موضوعات کی طرف متوجہ کرنااشد ضروری ہے اب ان کا دوسرا کام شروع ہوتا ہے کہ پیداشدہ مسائل کا حل کیاہے مسلمانوں میں پیدا ہوئے امراض کا علاج کیاہے۔ معاشرے کی بدحالی کو بہتر حال میں تبدیل کرنے کا نسخہ کیا ہے۔عوام میں در آئے مفاسد کی اصلاح کے طریقے کیاہیں۔ مسلمانوں کی ضروریات بہم پہچانے کی سبیل کیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ سب طریقے اور علاج اسے قرآن و سنت اور اسلاف امت کی تعلیمات کی روشنی ہی میں تلاش کرنا ہے اس کے لئے قرآن عظیم احادیث کریمہ اور کتب اسلاف کا مطالعہ لازم و ضروری ہوگا۔ اس جد و جہد کے بعد وہ آنے والے جمعہ میں جب وہ عام مؤمنین سے خطاب کریںگے تو ان کا خطاب اپنے اندر نصیحت کے کچھ پہلؤںکو ضرور سمیٹے ہوئے ہوگا۔