محبوبانِ بارگاہِ الٰہی اور قانونِ قدرت NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1882 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



اللہ جل جلالہ کی عادتِ کریمہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں اپنے دوستوں کو بلاؤں میں گھرا رکھتا ہے ۔
ایک صاحب نے عرض کی کہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔
فرمایا: فقرکے لئے مستعد ہوجا۔
عرض کی: اللہ تعالیٰ کودوست رکھتا ہوں ۔
ارشادہوا: بلاکے لئے آمادہ ہو۔

اورفرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم :
سخت ترین بلا انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر ہے ،پھر جوبہتر ہیں پھر جو بہترہیں ۔
(المسند للامام أحمد،الحدیث:۲۷۱۴۷،ج۱۰،ص۳۰۶)

اب اہلِ بیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بلاپسندی حیرت کی آنکھوں سے دیکھنے کے قابل ہے ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بلا و نعمت کے بارے میں سُوال ہوا،
فرمایا: ہمارے نزدیک دونوں برابر ہیں ۔

ع انچہ ازدوست می رسدنیکوست
(یعنی دوست سے جو کچھ پہنچے اچھا ہوتا ہے۔)

امامِ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخبرہوئی ،ارشادہوا:
اللہ عزوجل ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم کرے مگرہم اہل بیت کے نزدیک بلا،نعمت سے افضل ہے کہ نعمت میں نفس کابھی حظ ہے اوربلامحض رضائے دوست ہے ۔

آئینہ قیامت
مؤلف
برادر اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ حضرتِ علامہ مولانا حسن رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن