معارضہ سے سلامت ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے خبرِ مقبول کی اقسام NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 162 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



بعض اوقات خبرِ مقبول کے معارض دوسری خبر مقبول آجاتی ہے جوکہ مفہوم میں پہلی کے مخالف ہوتی ہے لہذا اس معارضہ کے اعتبار سے خبر مقبول کی چار اقسام ہیں:

٭(۱)۔۔۔۔۔۔محکم
٭(۲)۔۔۔۔۔۔مختلف الحدیث
٭(۳)۔۔۔۔۔۔ناسخ
٭(۴)۔۔۔۔۔۔منسوخ

(۱)۔۔۔۔۔۔مُحْکَم:
٭٭٭٭٭٭
وہ حدیثِ مقبول جو ایسی دوسری حدیث کے معارضہ سے محفوظ ہوجو اسی کی مثل مقبول ہو۔صحاح کی کتابوں میں اس کی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔
مثال: اِنَّ أَشَدَّالنَّاسِ عَذَاباً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُشَبِّہُوْنَ بِخَلْقِ اللہِ (بخاری و مسلم)

ترجمہ: قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالی کی مخلوق کی تصویریں بنا تے ہیں۔

حکم:
٭٭
اس پر بلا شبہ عمل کرنا واجب ہے۔

(۲)۔۔۔۔۔۔مُخْتَلِفُ الحدیث:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ حدیثِ مقبول جس کی معارض اسی کی مثل مقبول حدیث ہواور ان دونوں کو جمع کرنا ممکن ہو۔

مثال:
ایک حدیث میں فرمایا گیا: ٭لاَ عَدْوٰی وَلاَ طِیَرَۃَ٭ کوئی مرض بھی اڑ کرنہیں لگتا اورنہ ہی بدفالی (کوئی چیز )ہے۔جبکہ دوسری حدیث میں فرمایا گیا: ٭فِرَّمِنَ الْمَجْذُوْمِ فِرَارَکَ مِنَ الْاَسَدِ٭ مجذوم سے اس طرح بھاگ جس طرح توشیر سے بھاگتاہے۔یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں اوربظاہر ان میں تعارض ہے کیونکہ پہلی حدیث مرض کے متعدی ہونے یعنی اڑکر لگنے کی نفی کرتی ہے جبکہ دوسری بظاہر اثبات کرتی ہے لیکن علماء نے ان دونوں کے درمیان تطبیق کی ہے جو کہ اصولِ حدیث کی کتب میں مذکور ہے۔

حکم:
٭٭
ایسی دونوں حدیثیں جن کے ما بین تطبیق ممکن ہو ان دونوں پر عمل کرنا واجب ہے۔

(۳)،(۴)۔۔۔۔۔۔ناسخ و منسوخ:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگر دو حدیثیں متعارض ہوں اوریہ معلوم ہوجائے کہ فلاں حدیث مؤخر ہے اور فلاں مقدم تو مؤخر٭ناسخ اورمقدم کو ٭منسوخ کہیں گے۔

مثال: ایک حدیث میں ہے: ٭أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ٭ فصد لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتاہے۔جبکہ دوسری حدیث میں ہے: ٭أَنَّ النَّبِيَّ احْتَجَمَ وَھُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ٭ کہ سرکارصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فصد لگوایا اس حال میں کہ آپ احرام کی حالت میں روزہ دار تھے۔

پہلی حدیث جو کہ تاریخ کے اعتبار سے مقدم ہے سے یہ ثابت ہوتاہے کہ فصد لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے جبکہ دوسری حدیث جو کہ موخر ہے سے ثابت ہوتاہے کہ فصد لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لہذا دوسری حدیث ناسخ (حکم ختم کرنے والی)ہوئی جبکہ پہلی منسوخ۔ یادر ہے کہ نسخ حدیث کی اور بھی صورتیں ہیں۔جیسے :
٭(۱)تصریحِ رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے۔
٭(۲) تصریح صحابی رسول سے۔
٭(۳)اجماع کی دلالت سے۔

حکم:
٭٭
ناسخ آجانے کے بعد منسوخ پر عمل جائز نہیں۔
-----------------------------------------------------
نصاب اصول حدیث
مع
افادات رضویۃ
پیشکش
مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی )
(شعبہ درسی کتب)