محدثین کی نظر میں حدیث ـضعیف ایک تجزیاتی مطالعہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 6159 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



بسم اللہ الرحمن الرحیم
محدثین کی نظر میں حدیث ـضعیف ایک تجزیاتی مطالعہ
ہر دین و مذہب کا کوئی نا کوئی مصدر ہوا کرتا ہے، جس کا پیرو کار اپنے تمام تر امور و معاملات میں اس مصدر کی اتباع کرتا ہے، اسی طرح دین اسلام کے بھی مصادر ہیں ، جس کا متبع انہیں مصادر کی طرف اپنے روز مرہ مسائل کے حل کے لئے رجوع کرتا ہے، اور یہ مصادر چار ہیں:قرآن کریم،احادیث نبویہ، اجماع اور قیاس۔مصدر ثانی احادیث نبویہ بھی قرآن کریم کی طرح بڑی اہمیت کی حامل ہے،ان احادیث نبویہ کے بغیر قرآن کریم کا پورے طور سے سمجھنا بہت مشکل ہے،اسی وجہ سے اللہ جل شانہ نے جس طرح مصدر اول قرآن کریم کو تغییر و تحریف سے اپنے حفظ و امان میں رکھا، مصدر ثانی احادیث نبویہ کو بھی دسیسہ کاریوں سے محفوظ و مامون فرمایا، اور اس کی حفاظت کے لئے ایسے ایسے علمائے حدیث، حفاظ اور نقاد پیدا کئے، جنہوں نے احادیث مبارکہ کو وضاعین و کذابین کے نا پاک عزائم سے مامون رکھنے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی، ہر غالی و رخیص ان کی حفاظت کے لئے خرچ کئے، ان کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے تعلق سے اصول و قوانین وضع کئے، اور پھر انہیں اصول و قوانین کے پیش نظر احادیث کی تین قسمیں کیں: حدیث صحیح، حدیث حسن، حدیث ضعیف۔پہلی دو قسمیں : حدیث صحیح و حدیث حسن متفقہ طور پر مقبول قرار پائیں، رہی آخری قسم حدیث ضعیف تو وہ علمائے حدیث کے نزدیک مختلف فیہ رہیں۔ جمہور علما و محدثین اور فقہائے کرام اس بات کے قائل ہوئے کہ عقائد اور احکام وغیرہ میں احادیث ضعیفہ مقبول نہ ہونگی، البتہ فضائل اعمال، مغازی، سیر،اور ترغیب و ترہیب کے باب میں ان احادیث کو قبول کیا جائے گا،اسی کے پیش نظر بڑے بڑے نقاد و حفاظ نے ان ابواب میں ضعفاء سے بھی حدیثیں قبول کیں، اور یہ آج کی پیدا وار نہیں، اس بات کو تو خیر القرون کے بڑے بڑے علمائے حدیث نے بھی تسلیم کیا ہے، چنانچہ دوسری صدی کے امام و حافظ سفیان بن سعید ثوری (ت۱۶۱) عبد اللہ بن المبارک (ت۱۸۱)سفیان ابن عیینہ (ت۱۹۸) اوردوسری ،تیسری صدی کے امیر المؤمنین فی الحدیث یحی بن معین (ت۲۳۳) رحمہم اللہ اسی فکر کے علمبردار تھے، اور یہی فکر صحیح بھی ہے۔ مگر ’ناصر الدین البانی‘ اور اس کے جیسے بعض متأخرین کو یہ صحیح فکر راس نہ آئی، اور احادیث ضعیفہ کو اپنے تشدد و تعنت کا شکار بنایا، اور بہت ساری ضعیف حدیثوں کو موضوع قرار دید یا، جو یقینا خطا اور بے جا تعنت کے سوا کچھ نہیں۔ دور حاضر میں بھی بعض علما کواس تشدد کی ہوا لگ گئی اور وہ ضعیف و منکر پر فضائل کے باب عمل کرنے سے منع کرنے لگے، جن کی فکر ’البانی‘ کے شذوذ و تشدد سے خفیف ضرور ہے مگر اس تعنت کے لوا کا حامل ضرور ہے۔اسی لئے میں یہاں پر احادیث ضعاف پر فضائل کے باب میں عمل کرنے کے تعلق سے محدثین کے مذاہب، اور اس کی ایک خاص قسم’ حدیث موضوع‘ کو شرح و بسط اور نقد کے ساتھ بیان کرنے کے بعد خلاصہء کلام ذکر کرونگا،تا کہ شواہد و براہین کی بنیاد پر تردد و تذبذب کے دلدل میں پھنسے حضرات یقین و اطمینان کے گہوارے میں پناہ حاصل کر سکیں، اور ایسے امر سے دست برداری کی کوشش نہ کریں جس پر عمل کرنا محدثین کرام و فقہائے عظام کا اجماعی مسئلہ ہے، یا کم از کم جمہور اس پر عمل کرنے کے قائل ہیں ،اور اہل ہوش و خرد، اصحاب حل و عقداور دیگر حضرات انہیں دلائل کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر سکیںکہ احادیث ضعاف اور کثرت خطا وغیرہ کی وجہ سے شدید ضعیف حدیثوں پر عمل کرنا غلط ہے یا صحیح، اور یہ طے کر سکیں کہ حدیث موضوع کب ہوگی۔ پہلے احادیث ضعاف قبول کر نے اور نہ کرنے کے تعلق سے مذاہب کی تفصیل پیش خدمت ہے، پھر انشاء اللہ اس کی ایک خاص قسم ’حدیث موضوع‘ کے بارے محدثین کرام کی آراء ذکر کرونگا۔ أرجو اللہ أن یھدینی سواء الطریق بجاہ سیدنا محمد ﷺ ۔
احادیث ضعاف پر عمل کرنے کے تعلق سے چار مذاہب ہیں :
پہلا مذہب:جمہور علما و محدثین کے نزدیک احادیث ضعاف فضائل کے باب میں معتبر ہیں ، بلکہ امام نواوی رحمہ اللہ نے اس پر اجماع کا قول نقل کیا ہے، اس مذہب کی دو فرعیں ہیں: فرع اول: احادیث ضعیفہ جو موضوع کے قبیل سے نہیں وہ فضائل اعمال میں بغیر کسی قید کے مطلقا مقبول ہونگی ، اکثر علما اسی کے قائل ہیں ، امام نواوی رحمہ اللہ اور دیگر بہت سارے محدثین نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے’ عدم ضعف شدید ‘ کی شرط سے مقید نہیں کیاہے۔
فرع ثانی: موضوع کے علاوہ احادیث ضعیفہ پر مطلقا عمل نہیں کیا جائے گا ، بلکہ اس کے لئے چند شرطوں کا تحقق ضروری ہے ،اس کے قائل حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ہیں ۔ شرط اول:راوی میں ضعف شدید نہ ہو ، لہذا کذاب، یا جس پر جھوٹ کی تہمت لگی ہو، یا وہ شخص جو غلطی زیادہ کرتا ہو، اگر کسی حدیث کو تنہا روایت کر ے تو فضائل کے باب میں بھی اس کی حدیث پر عمل نہیں کیا جائے گا ، علامہ صلاح الدین علائی رحمہ اللہ نے اس شرط پر اتفاق کا قول کیا ہے، شرط ثانی:حدیث ضعیف کسی معمول بہ اصل کے تحت داخل ہوتی ہو ، شرط ثالث: احتیاط کے طور پر اس حدیث ضعیف پر عمل کرے اور اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ رکھے۔(۱)
دوسرا مذہب : بعض دیگر علما کی رائے یہ ہے کہ فضائل اعمال و ترغیب و ترہیب اور احکام وغیرہ میں احادیث ضعاف پر مطلقا عمل نہیں کیا جائے گا ، اس رائے کے ماننے والے امام ابو بکر بن العربی و ابن حزم ظاہری رحمہما اللہ ہیں۔
تیسرا مذہب: بعض علما اس بات کے قائل ہیں کہ اگر احادیث ضعیفہ کا ورود محل احتیاط میں ہو تو اس پر عمل کرنا بہترہے ۔(۲)
چوتھا مذہب:احادیث ضعاف احکام میں قیاس پر مقدم ہونگی ،اس کے قائل امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ ہیں، یعنی اگر کسی مسئلہ میں صحیح حدیث نہ ہو اور اس کے جواز اور عدم جواز میں احادیث ضعاف اور قیاس کے درمیان اختلاف ہو تو احادیث ضعاف پر عمل کریں گے اور قیاس کو چھو ڑ دیں گے، ان کے علاوہ ،امام اعظم ابو حنیفہ،امام مالک بن انس،اور امام محمد بن ادریس شافعی رحمہم اللہ کا بھی بعض احادیث ضعیفہ پر عمل رہا ہے۔(۳) یہاں پر پہلے دو مذاہب پر قدرے تفصیلی گفتگو کروںگا اور باقی کو آیندہ کے لئے مؤ خر کئے دیتا ہوں۔
پہلا مذہب : جس کی دو فرعیں ہیں، فرع اول: کے ماننے والے علما اور ان کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں :
(۱)امام نووی رحمہ اللہ ’الاذکار‘ میں فرماتے ہیں : علما و محدثین اور فقہائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ : حدیث ضعیف اگر موضوع نہ ہو تو فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب کے باب میں اس پر عمل کرنا مستحب ہے۔(۴)
(۲)امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام نووی رحمہ اللہ نے اپنی متعدد تصانیف میں فضائل کے باب میں احادیث ضعاف معتبر ہونے کے بارے میں’عدم ضعف شدید‘ کی قید کے بغیر محدثین اور دیگر علماء کا اجماع نقل کیا ہے۔(۵)
(۳)صاحب الحلیۃ شرح المنیۃ فرماتے ہیں: حدیث ضعیف پر فضائل اعمال میں عمل کرنا درست ہے ،اس شرط کے ساتھ کہ اس کا انحطاط موضوع کی حد تک نہ ہو، اور یہی جمہور کا مذہب ہے ۔(۶)
(۴) خاتم الحفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : محدثین وغیرہ کے نزدیک ضعیف سندوں میں تساہلی برتنا، موضوع کے علاوہ ضعیف حدیثوں کی روایت کرنا، اورفضائل اعمال وغیرہ میں ان پر عمل کرنا جائز و درست ہے ، البتہ اس طرح کی حدیثیں صفات باری تعالیٰ اور حرام و حلال کے باب میں معتبر نہ ہونگی ۔(۷)
(۵) امام زرقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : محدثین کی عادت ہے کہ وہ احکام و عقائد کے علاوہ فضائل اعمال وغیرہ میں احادیث ضعاف میں تساہلی سے کام لیتے ہیں ، اس شرط کے ساتھ کہ وہ حدیثیں موضوع نہ ہوں ۔(۸)
(۶) امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ: ’’اگر کوئی ایسا راوی جس پر جھوٹ کی تہمت لگائی گئی ہو ، یا غفلت اور کثرت خطاء کی وجہ سے حدیث میں ضعف ہو، اور پھر وہ کسی حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہو، تو اس کی حدیث قابل احتجاج نہیں‘‘۔ان کی مراد اس قول سے یہ ہے کہ: ایسے اوصاف سے موصوف رجال کی حدیثیں احکام شرعیہ میں معتبر نہیں ، البتہ اگر اس قسم کے راوی ترغیب و ترہیب میں راویت حدیث کریں تو معتبر ہو گی چنانچہ بہت سارے ائمہ اعلام نے اس کی رخصت دی ہے :
(۷)امام سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : حرام و حلال میں احادیث انہیں لوگوں سے اخذ کروجو اس فن کے امام ہیں ، جو زیادتی اور کمی کو خوب جانتے ہیں ،ہاں اگراحادیث مسائل حرام و حلال سے ہٹ کر فضائل اعمال وغیرہ سے ہوں، تو مشائخ سے روایت کرنے اور ان سے احادیث لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
(۸)امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’عبدۃ‘نے ہم سے روایت کی وہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ کی بات ہے، امام عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ نے کسی شخص سے حدیث روایت کی، تو آپ سے کہا گیا کہ یہ شخص تو ضعیف ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: اس طرح کی روایتیں اس سے لی جا سکتی ہیں۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے’ عبدۃ‘ سے پوچھا وہ کس طرح کی روایتں تھیں تو انھوں نے فرمایا : ادب ، موعظہ اور زہد کے بارے میں تھیں ۔ (۹)
(۹) امام ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں : موضوع کے علاوہ فضائل اعمال میں واردحدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا۔(۱۰)
(۱۰) حافظ المغرب امام ابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : تمام محدثین فضائل میں اس حد تک تساہلی کرتے ہیں کہ اس باب میں ہر ایک سے حدیثیں لے لیتے ہیں، ہاں اگر حدیثیںاحکام میں ہوتی ہیں تو اس میں تشدد سے پیش آتے ہیں(۱۱)
(۱۱) امام علامہ علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : علماء کا اتفاق ہے کہ ضعیف حدیث پر جن کا ورود فضائل اعمال میں ہو ا ہے عمل کیا جائے گا(۱۲)
(۱۲) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ہم احکام میں حدیثیں روایت کرتے ہیں تو اس میں شدت، اور فضائل و غیرہ میں تساہلی سے کام لیتے ہیں ۔(۱۳)
(۱۳) اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر فسق وغیرہ کی وجہ سے راوی متروک ہو اور ساتھ ہی وہ کذب سے بری ہو تو اس کی حدیث احکام میںمعتبر نہیں ہوگی، ہاں فضائل کے باب میں راجح یہی ہے کہ اس کی حدیث مطلقا مقبول ہوگی اگر چہ وہ اس حدیث کے روایت کرنے میں منفرد ہو، اور بعض کے نزدیک تعدد طرق کے بعد قابل اعتبار ہوگی۔(۱۴)
ان علمائے حدیث کے علاوہ دیگر علما و محدثین کے اسماء جو فضائل اعمال وغیرہ میں موضوع کے علاوہ حدیث ضعیف کو بغیر کسی شرط کے مطلقا معتبر مانتے ہیں، یا یہ کہ ان کے اقوال میں’عدم ضعف شدید ‘ کی شرط مذکور نہیں، اور وہ یہ ہیں: امام ابن مہدی ، ابن معین ، سفیان ابن عیینہ ، ابو داود صاحب السنن، عبد الغنی نابلسی، شہاب الدین خفاجی مصری ، ابو طالب مکی، ابن تیمیہ، زین الدین عراقی ،بدر الدین زرکشی، ابن حجر مکی، ابو زکریا غبری رحمہم اللہ وغیر ہم۔ میں نے طوالت کے خوف سے یہاں صرف نام شمار کرنے پراکتفا کیا ہے ،ان کے اقوال کی مزید تفصیل کے خواہاں حضرات ان کتابوں کی طرف رجوع کریں: شرح علل الترمذی،تدریب الراوی،الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ،نسیم الریاض،شرح المشکاۃ لابن حجر المکی،الخلاصۃفی احکام الحدیث الضعیف، فتح المغیث للعراقی،فتح المغیث للسخاوی،قوت القلوب،الھاد الکاف وغیرہ۔
پہلے مذہب کی فرع ثانی : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرما تے ہیں: ترغیب و ترہیب میں وارد شدہ احادیث ضعاف پر مطلقا عمل کرنا جائز نہیں،ان پر عمل کرنے کے لئے تین شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ شرط اول: راوی میں ضعف شدید نہ ہو ، لہذا کذاب، یا جس پر جھوٹ کی تہمت لگی ہو، یا وہ شخص جو غلطی زیادہ کرتا ہو، اگر کسی حدیث کو تنہا روایت کر ے تو فضائل کے باب میں بھی اس کی حدیث پر عمل نہیں کیا جائے گا ، علامہ صلاح الدین علائی رحمہ اللہ نے اس شرط پر اتفاق کا قول کیا ہے۔
اس شرط کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس پر تفصیلی کلام کیا جائے:
یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ علامہ علائی رحمہ اللہ کا صرف قول ملتا ہے جنہوں نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ’عدم ضعف شدید‘ کی شرط لگاکر اس پر اتفاق کا قول کیا ہے،انہیں کے قول کو خاتم الحفاظ امام سیوطی رحمہ اللہ نے ’’تدریب الراوی‘‘ میں، اورامام سخاوی رحمہ اللہ نے ’’القول البدیع‘‘ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔مجھے ان کے علاوہ کسی اور کا قول اس شرط کے ذکر کے ساتھ نہیں ملا، ہاں اس کے بر خلاف ا مام نواوی رحمہ اللہ جو علامہ علائی رحمہ اللہ سے متقدم ہیں، انہوں نے بغیر’عدم ضعف شدید‘ کی قید کے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے بارے میں اجماع کا قول کیا ہے،نیز امام نواوی رحمہ اللہ نے اپنی کسی کتاب میں اس شرط کا ذکرنہیں کیا، بس اسی پر اکتفا کیا کہ حدیث ضعیف فضائل میں ہوتو اس پر عمل کیا جائے گا، چنانچہ خاتم الحفاظ امام سیوطی رحمہ اللہ فرما تے ہیں:ابن الصلاح رحمہ اللہ نے’’ مقدمہ‘‘ میں اور امام نواوی رحمہ اللہ نے اپنی ساری کتا بوں میں حدیث ضعیف پرعمل کرنے کے لئے صرف ایک شرط ذکر کی ہے، اور وہ یہ کہ فضائل کے باب میں ہو وبس۔(۱۵) حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے اگر ’عدم ضعف شدید‘ کی شرط ہوتی تو ابن الصلاح اورامام نواوی رحمہما اللہ اور دیگر محدثین و ناقدین اس شرط کے ذکر کرنے کا التزام ضرور کرتے ، کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ محدثین کا کسی شرط پراتفاق ہو اور وہ اس کے موقع و محل پر بیان کرنے سے گریز کریں۔
لہذا کیا علامہ علائی رحمہ اللہ کے اس اتفاق کے قول پر اتفاق کیا جا سکتا ہے؟ اگر گہرائی، گیرائی اور دقت نظر ی سے دیکھا جائے تو حقیقت یہی کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان کے قول سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی یہ قبول کیا جا سکتا ہے کہ فضائل کے باب میں حدیث ضعیف پر عمل کر نے کے لئے ضروری ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو، اس کی چند وجوہات ہیں :
پہلی وجہ: مذہب اول کی فرع اول کے بڑ ے بڑے محدثین و فقہائے کرام و علمائے عظام کے اقوال و آراء اس بات پر شاہد عدل ہیں کہ احادیث ضعاف فضائل کے باب میں اگر موضوع نہ ہو تو بغیر کسی شرط و قید کے معتبر ہیں ۔
دوسری وجہ : اسی طریقہ کار پر محدثین وغیرہ کا اجماع بھی ہے جیسا کہ امام نواوی رحمہ اللہ نے اسی کی طرف بغیر ’عدم ضعف شدید‘ کی قید کے اپنی مصنفات میں اشارہ فرمایا ہے ۔
تیسری وجہ : علامہ علائی رحمہ اللہ نے اگر چہ اس شرط پر اتفاق کا قول نقل کیا ہے ، مگر ان کا عمل خود اس شر ط کے خلا ف ہے ، چنانچہ علامہ علائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : راوی ’ الحکم بن سعید سعدی ‘کو ’امام ابو الفتح محمد بن حسین ازدی‘وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور امام بخاری فرماتے ہیں : وہ ’ منکر الحدیث ‘ ہیں، پھر بھی اس راوی کی روایت کو ’ زکریا بن منظور ‘ کی روایت کے لئے متابع مانا جا سکتا ہے(۱۶)
ـ دور جدید کے محققین توجہ فرمائیں، اما م المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’ الحکم بن سعید سعدی ‘ منکر الحدیث ہیں، جس کا معنی عموما یہی سمجھا جاتا ہے کہ جس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ منکر الحدیث فر مادیں ، اس سے حدیث روایت کر نا جائز نہیں، جیسا کہ ان کی طرف یہ قول منسوب بھی ہے ، چہ جائے کہ اس کو کسی راوی کی حدیث کے لئے متابع ما نا جائے ،مگر امام المحدثین کی اس جرح کے با وجود بھی ، حافظ علائی رحمہ اللہ نے ’ الحکم بن سعید سعدی ‘ کی روایت کو ’ زکریا بن منظور ‘ کی روایت کے لئے متابع مانا ۔
چوتھی وجہ : جب ہم امام ابن حجر رحمہ اللہ کے نقد و کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ آپ کا عمل اپنی ذکر کردہ شرط کے خلاف ہے، چنانچہ بعض احادیث کے بارے میں جس کا راوی غلط فاحش کا شکار ہوتا ہے ، بلکہ موضوعات روایت کرنے سے متہم ہوتا ہے، اس کے بارے میںآپ فرماتے ہیں : فضائل اعمال اور ترغیب و ترہیب کے باب میں ان کی حدیث قابل عمل اورمعتبر ہے ،محض دعوی نہ رہے اس لئے ذیل میں اس کی مثال پیش خدمت ہے :
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مصنف ’ مسند ‘ میں فضیلت عسقلان کے بارے میں ایک حدیث روایت کی ہے، جس کی سند میں ایک راوی ’ ابو عقال ہلال بن زید ‘ ہیں ان کی ایک حدیث کو امام عبد الرحمن بن الجوزی رحمہ اللہ نے اپنی موضوعات میں شمار کیا ہے، کیونکہ مذکور راوی کے بارے میں ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’ابو عقال ہلال بن زید ‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے موضوع حدیثیں روایت کرتے ہیں ۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ تعقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : یہ حدیث فضائل اعمال اور رباط پر تحریض کے لئے ہے، اور اس حدیث میں کوئی ایسی چیز بھی نہیں جو شرعا یا عقلا محال ہو ، لہذا اس حدیث کو صر ف ا س وجہ سے باطل کہنا کہ اس کے راوی ’ ابو عقال ‘ہیں درست نہیں، خاص طور سے اس صورت میں جبکہ معروف ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فضائل میں تساہل کے قائل ہیں۔(۱۷)
اسی ’ ابو عقال ہلال بن زید ‘کے بارے میں امام بن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا : ’متروک ‘ہیں، اور ان کے نزدیک متروک وہ ہے جو متہم بالکذب ہو(۱۸)
قارئین کرام غور فرمائیں، ان تمام جرح و قدح کے بعد بھی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا :یہ حدیث فضائل اعمال میں ہے اس لئے اس پر بطلان کا حکم لگانا درست نہیں ،اس سے صاف واضح ہے کہ آپ ’متہم بالوضع ‘ کی روایت کو فضائل میں معتبر مانتے ہیں چہ جائے کہ وہ غلط فاحش میں مبتلا ہو ۔
پانچویں وجہ: جن بعض محدـثین کرام نے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ سے یہ عبارت نقل کی ہے ان کا عمل بھی خود اس شرط کے خلاف ہے: چنانچہ جب ا بن الجوزی رحمہ اللہ نے، حدیث انس رضی اللہ عنہ:’ستفتح علیکم بالآفاق‘۔ الحدیث، فضل قذوین۔ کو اپنی کتاب ’الموضوعات‘ میں ذکر کی اور اس پر نقد فرمایا کہ:اس کی سند میں ایک راوی ’داود بن المحبر‘وضاع ہیں، اور دوسرے ’الربیع بن صبیح‘ ضعیف، اور تیسرے ’یزید بن ابان‘ متروک ہیں۔
ان کے اس کلام پر خاتم الحفاظ امام سیوطی رحمہ اللہ، جنہوں نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ’عدم ضعف شدید‘ ـ ہونے کی شرط کو اپنی کتاب’’ تدریب الراوی‘‘ میں ذکر کیا ہے، تعقب کرتے ہوے فرماتے ہیں:ابن ما جہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اپنی’’ سنن‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور امام مزی رحمہ اللہ’’ تہذیب الکمال‘‘ میں فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے ، ’داود‘ کے علاوہ کسی اور کی روایت سے معروف نہیں، اور منکر ضعیف کی قسم سے ہے جو فضائل میں محتمل ہوتی ہے۔(۱۹) یہ مثال ان محققین کے لئے ہے جو منکر الحدیث کو انتہائی شدید ضعیف مانتے ہیں ، ورنہ میرے نزدیک اس کے قائل کی طرف نظر کرتے ہو ئے منکر الحدیث کے متعدد مراتب ہیں، انشاء اللہ اس کا مفصل بیان، حدیث ’’اطلبوا العلم و لو بالصین‘‘ کی تحقیق میں آئندہ کسی شمارے میں آئے گا۔
امام سخاوی رحمہ اللہ نے بھی حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ’عدم ضعف شدید ‘ـ ہونے کی شرط کو اپنی کتاب’القول البدیع‘ میں ذکر کیا ہے، اور اس پر امام علائی رحمہ اللہ کے اتفاق کا قول بھی نقل فرمایا ہے۔ اس کتاب کے محقق ’محمد عوامہ‘ اس پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اس اتفاق کے دعوی پر نظر طویل ہے، اللہ جل شانہ سے امید کرتا ہوں کہ جلد ہی کسی مناسب مقام پر اس پر تفصیلی کلام کرنے کا موقع عنایت فرمائے،اور پھر رہنمائی فرمائی کہ خود مصنف سخاوی رحمہ اللہ کا عمل اس شرط کے خلاف ہے، چنانچہ امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث دعاء الحاجۃ بہت ضعیف ہے،فضائل اعمال میں لکھی جائے گی‘‘۔(۲۰)
یہ پانچوں وجہیں بہترین شاہد عدل ہیں میرے اس قول پرکہ :’’علامہ علائی رحمہ اللہ کے قول سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی یہ قبول کیا جا سکتا ہے کہ فضائل کے باب میں حدیث ضعیف پر عمل کر نے کے لئے ضروری ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو‘‘۔ نیز کم از کم یہ بھی واضح ہوگیا کہ اگر راوی کی کثرت خطا،غفلت یا فسق کی وجہ سے حدیث شدید ضعیف ہو تو بھی وہ حدیث فضائل کے باب میں مقبول ہوگی ۔اوررہی یہ بات کہ اگر راوی کذاب یا متہم بالکذب وغیرہ ہو توحدیث کا کیا حکم ہوگا،تو اس کا حکم بحث کے اخیر میں آئے گا۔
دوسر امذہب :دو چند علما و محدثین اس بات کے قائل ہیںکہ ترغیب و ترہیب اور احکام وغیرہ کسی بھی باب میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز نہیں ، اس رائے کے قائلین کے اسماء یہ ہیں : امام یحی بن معین ، ابو بکر ابن العربی،ابن حزم ظاہری اور مسلم بن الحجاج رحمہم اللہ ۔ (۲۱)
ابن سید الناس رحمہ اللہ نے ’عیون الاثر ‘ میں امام یحی بن معین رحمہ اللہ کی طرف اس قول کو منسوب کیا ہے۔(۲۲)گویا کہ ان کے حدیث ضعیف کے تعلق سے دو مختلف اقوال ہیں ، ایک یہ کہ ضعیف حدیث فضائل میں معتبر ہے، جیسا کہ مذہب اول کی فرع اول میں گزرا ، اور دوسرا یہ کہ حدیث ضعیف فضائل و احکام وغیرہ کسی میں بھی معتبر نہ ہو گی ، مگر پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ وہی قول جمہور محدثین و فقہاء کی آراء کے موافق ہے ۔
ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر حدیث کی سند میں کوئی ایسا راوی ہو جس پر جرح کذب یا غفلت یا مجہول الحال ہونے کی وجہ سے کی گئی ہو تو اس کی روایت لیناہمارے نزدیک جائز نہیں ہے ۔(۲۳)
امام عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن العربی رحمہ اللہ نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے سے مطلقا منع فرمایا ہے۔(۲۴) حالانکہ صحیح یہ ہے کہ آپ بھی حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے قائل تھے۔(حاشیۃالقول البدیع للسخاوی ص۴۹۶)
امام ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب’ صحیح‘ کے مقدمہ میں جو منہج اختیار کیا ہے ،اس سے یہی ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک ترغیب و ترہیب کی حدیثیں انہیں سے لے سکتے ہیں جن سے احکام کی حدیثیںلی جاتی ہیں۔(۲۵) یعنی جس طرح احکام حلال و حرام کے راویوں کا ثقہ ، ثبت یا صدوق ہونا ضروری ہے، اسی طرح ترغیب و ترہب کے راویوں کا بھی ان اوصاف حمیدہ سے متصف ہونا ضروی ہے ۔ بس یہی دو تین محدثین :ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ حدیث ضعیف پر بالکل عمل نہیں کیا جائے گا، اور مسلم ابن الحجاج صاحب الصحیح کے قول سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔
اگر امام نووی رحمہ اللہ کے قول کو لیا جائے،اور یہ مان لیا جائے کہ فضائل اعمال وغیرہ میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا اجماع فقہاو محدثین سے ثابت ہے،تو ان دو تین محدثین کے اقوال جو منع کے قائل ہیں، اس باب میں معتبر نہ ہونگے، اور اگر کوئی اس بات پر اتفاق نہ کرے تو کم از کم اسے اتنا ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ جماہیر علما و محدثین اس بات کے قائل ہیں کہ احادیث ضعیفہ فضائل کے باب میں معتبر ہیں، اور ظاہر ہے کہ جمہور علما کا غلطی سے بعید ہونا اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ دو تین علما کا غلطی سے قریب ہونا ، یہی وجہ ہے کہ آج تک علمائے کرام دو چند کے شذوذ کا اعتبار نہ کئے، اور جمہور علما کے نقش قدم پر قائم و دائم رہے،اور یہی عقلمندی اور دانشمندی ہے۔
حدیث موضوع کب ہو گی؟ : حدیث کے موضوع ہونے کے لئے محدثین کرام نے کچھ اصول وضوابط بیان کئے ہیں ، جن میں سے کسی ایک کا حدیث کے موضوع ہونے کے لئے پایا جانا ضروری ہے ، ایسا نہیں ہے کہ ہوس کی پیروی کی اور جس حدیث کو چاہا جب چاہا موضوع قرار دیدیا، انہیں ضوابط میں سے ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں علامات وضع میں سے کوئی ایک علامت پائی جائے، یہاں پر موضوع کی مناسبت سے، علامات وضع اختصار کے ساتھ ذکر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ اعلی حضرت امام احمد رضاقادری محدث بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:(۱) کوئی حدیث اگر: قرآن عظیم یا سنت متواترہ یا اجماع قطعی یا صریح عقل یا صریح حس یا تاریخ یقینی جو تاویل و تطبیق کا احتمال نہیں رکھتی، ان میں سے کسی ایک کے بھی خلاف ہو تو وہ حدیث موضوع ہو گی (۲) یا حدیث کا معنی قبیح ہو جس کا حضور ﷺ سے صدور ممکن نہیں (۳) یا حدیث ایسے امر پر مشتمل ہو کہ اگر اس کا وقوع ہو تو لوگوں کے درمیان مشہور و معروف ہو جائے مگر پھر بھی ایک روایت کے علاوہ کوئی دوسری روایت موجود نہیں (۵) یا روایت فعل حقیر کی وجہ سے کثیر مدح، یا امر صغیر کی وجہ سے شدید مذمت پر مشتمل ہو جس کا حضور ﷺ کے کلام سے تشابہ نہ ہو (۶) یا حدیث کے الفاظ رکیک و سخیف ہوں کہ طبع سلیم اس کو قبول نہ کرے ، اور راوی اس بات کا مدعی ہو کہ بعینہ یہ حضور ﷺ کے الفاظ ہیں (۷) یا ایسی حدیث جو اہل بیت سے تعلق رکھتی ہے، جس کا ناقل رافضی ہے ،اور وہ حدیث اس رافضی کے علاوہ کسی اور سے مروی نہیں (۸) یا قرائن حالیہ اس پر دا ل ہوں کہ آدمی نے غصہ یا لالچ کی وجہ سے فوری طور پر روایت گڑ ھی ہے (۹) یا یہ روایت استقرائے تام کے بعد کتب اسلامیہ میں نہ پائی جاتی ہو (۱۰) یا یہ کہ واضع خود حدیث وضع کرنے کا اقرار کر لے ۔(۲۶) تقریبا یہی علامات وضع ’دکتور الخشوعی الخشوعی صاحب‘ نے بھی اپنی کتاب ’بحوث فی علوم الحدیث‘ میں ذکر کی ہیں، جو کلیۃ ’اصول الدین‘ کے سنۃثانیۃ میں داخل نصاب ہے۔
اگر مذکورہ بالا علامات وضع میں سے کوئی علامت نہ پائی جائے تو وہ روایت موضوع ہو گی یا نہیں اس مسئلہ میں محدثین کرام کے تین مذاہب ہیں :
(۱) امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : صرف کذا ب بلکہ و ضاع کسی حدیث کے روایت کرنے میں متفر د ہو تو اس حدیث کو موضوع قرار نہیں دیا جائے گا ، اگر چہ کوئی مدقق ، ناقد و حافظ، فن حدیث میں درک رکھنے والا ماہر تام اپنی جہد مسلسل اور تفتیش کامل کے بعد یہ کہے کہ فلاں و ضاع نے صرف یہ حدیث روایت کی ہے ، کیونکہ استقرائے تام اس بات کو لازم نہیں کہ حدیث موضوع ہو ،یا صرف و ضاع ہی نے اس حدیث کو روایت کیا ہو ، بلکہ حدیث کے موضوع ہونے کے لئے ضروری ہے کہ علامات وضع میں سے کوئی ایک علامت پائی جائے۔(۲۷)
(۲)حافـظ ابن حجر رحمہ اللہ فرما تے ہیں: کذاب اور وضاع جس کا کذب و افترا حضور ﷺپر قصد ا ثابت ہو چکا ہو، اگر ایسا شخص کوئی حدیث روایت کرے تو اس کے بارے میں ظن غالب کے اعتبار سے کہا جائے گا کہ اس کی روایت موـضوع ہے ، اور اگر اس کا کذب و افترا قـصدا ثابت نہ ہو مگر وہ متہم بالکذب یا متہم بالوضع ہو تو اس کے بارے میں نہیں کہا جائے گا کہ اس کی روایت موضوع ہے ، ہاں ایسا راوی متروک ضرور ہوگا۔(۲۸)
(۳) اور بعض دیگر علما و محدثین کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی متہم بالکذب یا متہم بالوضع کسی روایت میںمنفرد ہو تو وہ روایت موضوع قرار پائے گی، چنانچہ امام زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر’ موسی بن عبد العزیز‘ کا مجہول ہونا ثابت ہوجائے پھر بھی حدیث موضوع نہیں ہوگی جب تک کہ سند میں کوئی راوی متہم بالوـضع نہ ہو ۔(۲۹)
خاتم الحفاظ امام سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اگر چہ ’عبد الرحمن بن ابو بکر ملیکی‘ ’متروک‘ ہیں،مگر وہ متہم بالکذب نہیں کہ ان کی حدیث کو موضوعات سے شمار کیا جائے۔(۳۰)
خلاصئہ کلام:
فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے تعلق سے مختلف مذاہب ہیں:
پہلا مذہب جس کی دو فرعیں ہیں:فرع اول: محدثین اور فقہائے کرام کا اجماع یا کم ازکم جمہور اس بات کے قائل ہیں کہ ضعیف حدیث اورکثرت خطا وغیرہ کی وجہ سے ضعیف شدید حدیث پر عمل کرنا جائزو مستحسن ہے۔فرع ثانی: امام علائی رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ شدید ضعیف نہ ہو، اور اس پر اتفاق کا قول کیا ہے، مگر اس شرط پراتفاق کا قول غیر مقبول ہے، کیونکہ امام نواوی رحمہ اللہ اور دیگر ڈھیر سارے محدثین کی آراء جنہوں نے حدیث ضعیف پر عمل کرنے کے لئے ’عدم ضعف شدید‘ کی قید نہیں لگائی ہے ،اس اتفاق کے قول کو مخدوش کردیتی ہے، نیز خود امام علائی ،ابن حجرعسقلانی، جلال الدین سیوطی اور سخاوی رحمہم اللہ جنہوں نے یہ قیدیا شرط ذکر کی ہے ان کا عمل اس کے خلاف ہے ۔دوسرا مذہب: دو تین علمائے کرام اس امرکے قائل ہیں کہ حدیث ضعیف پر مطلقا عمل کرنا درست نہیں ۔مگر راجح اور صحیح جمہور ہی کا مذہب ہے۔
لہذا جس نے بھی ’حدیث ضعیف‘ یا ’شدید ضعیف‘ پر عمل نہ کرنے کی رغبت دلائی وہ اپنی اس فکر میں خاطی اور غیر مصیب ہے،دور حاضر کے ایک عالم کا مقالہ’’ تقریروں میں موضوع روایات ایک لمحہ فکریہ‘‘پڑھنا میسر آیا، ان کی یہ پیش قدمی اچھی کہی جا سکتی ہے، ’احادیث موضوعہ‘ پر اصلاح کی غرض سے لکھنے کی ضرورت ہے، مگر اس کے ضمن میں منہج علمی سے انحراف کرکے علمائے کرام پر جملے کسنایا احادیث ضعیفہ شدیدہ اور غیر شدیدہ کو موضوعات سے شمار کر نا یا اس سے دست بردار ہونے کی رغبت دلانا یا تشدد و تعنت برتنا یا اس کے لئے راہ ہموار کرنا یقیناغیر سلیم ہے، چنانچہ صاحب مقالہ اپنے گمان کے مطابق ہندوستان کے بعض افراد کی اصلاح کر تے ہوئے فرماتے ہیں:’’ابھی کچھ دن پہلے ہمارے ایک محترم بزرگ نے مجھ سے کچھ حدیثوں کی تحقیق چاہی میں نے ان کی مطلوبہ حدیثوں کی تخریج کردی اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ ان میں فلاں فلاں حدیث ـضعیف و منکر ہے ا س کوآپ بیان نہ ہی کریں تو بہترہے، اس پر انہوں نے جو جواب دیا وہ ہمارے عام ذہن اور مزاج کی عکاسی کرتا ہے، انہوں نے فرمایا کہ:ارے تو کیا ہوا ان سے سرکار ﷺکی فضیلت ہی تو ثابت ہورہی ہے، کوئی توہین تھوڑی ہورہی ہے‘‘۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:’’معراج شریف کے سلسلہ میں صحیحین اور دیگر کتب صحاح میں اتنی تفصیل اور کثرت سے روایات موجود ہیں کہ وہ اس واقعے کے سلسلے میںہمیں ضعیف احادیث سے مستغنی کر دیتی ہیں‘‘۔
مجھے اس جمہور مخالف فکر سے اتفاق نہیں، اور نہ ہی کوئی طبع سلیم کا مالک اس فکر سے اتفاق کر سکتا ہے کیونکہ:
(۱لف) صاحب مقالہ کا کہنا کہ’’ان میں فلاں فلاں حدیث ضعیف و منکرہے اس کو آپ بیان نہ ہی کریں تو بہتر ہے‘‘ یا یہ کہنا کہ ’’اس واقعے کے سلسلے میں(صحیح حدیثیں) ہمیں ضعیف احادیث سے مستغنی کر دیتی ہیں‘‘ اجماع یا کم سے کم جمہور محدثین سے شذوذ و انحراف ضرور ہے،کیونکہ جمہور محدثین اسی بات کے قائل ہیں کہ فضائل میں حدیث ضعیف شدیدو غیر شدید پر عمل کرنابہتر و مستحسن ہے، اور وہ اسی کی طرف رغبت دلاتے رہے ہیں۔
(ب)صاحب مقالہ کے’ محترم بزرگ ‘کا جواب جس عام ذہن کی عکاسی کرتا ہے وہی درست اور صحیح ہے، کیونکہ وہی مذہب جمہور کا علمبردار ہے، نہ کہ مقالہ نگار کی جدید فکر۔
(۲) جس حدیث میں شدت ـضعف راوی کی کثرت خطاء یا غفلت یا فسق کی وجہ سے ہو وہ حدیث بھی فضائل کے باب میں معتبر ہو گی، کیونکہ یہی رائے جمہور علماء و محدثین کی ہے ۔
(۳) حدیث کے موضوع ہو نے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں وضع حدیث کی علامتوں میں سے کوئی ایک علامت پائی جائے، جس حدیث میں ان میں سے کوئی علامت پائی گئی اس پر عمل کرنا کسی بھی صورت میںجائز نہ ہوگا۔
(۴)اگر علامت نہ پائی جائے تو حدیث کب موضوع ہوگی اس میں تین مذاہب ہیں:
(الف)امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سند میں وضاع ہو تو بھی حدیث کو موـضوع نہ کہیں گے (ب) امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس راوی کا حضور ﷺ پر قصدا افترا ثابت ہو اس کی حدیث موضوع ہوگی(ج) امام زر کشی اور امام سیوطی رحمہما اللہ کی رائے یہ ہے کہ: جس پر وضع یا جھوٹ کی تہمت لگائی گئی ہو اس کی حدیث موضوع قرار پائے گی۔
پہلا مذہب اسلم ہے، کیونکہ وضاع کے منفرد ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس نے حدیث وضع ہی کی ہو یا کسی اور نے اس کے سوا روایت ہی نہ کی ہو، ہاں یہ اور بات ہے کہ اگر کوئی راوی وضاع یا کذاب، متہم بالکذب یا متہم بالوضع کسی حدیث کے روایت کر نے میں منفرد ہو اور اس میں علامت وضع نہ پائی جائے تو اس کی حدیث پر عمل نہ کرنا چاہئے ، کیونکہ ایسی حدیثیں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ یا خاتم الحفاظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کے نزدیک موضوع حدیث کے عداد میں آتی ہیں۔
تنبیہ اول:راوی وضاع یا کذاب ،متہم بالکذب یا متہم بالوضع کسی روایت میں منفرد ہو اور اس میں علامت وضع نہ پائی جائے تو اس کی حدیث کو رد کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نقاد و محدثین کے اس راوی کے بارے میںوارد شدہ نقدکی چھان بین کی جائے پھر کوئی حکم لگایا جائے ، فقط کسی ایک کے قول پر اعتماد کرکے خاص طور سے جب کہ وہ متشدد یا متساہل ہوں جیسے امام ابن حبان رحمہ اللہ ،حدیث کا رد کر دینا جہاں مناہج محدثین سے نا واقفیت کی دلیل ہے و ہیں یہ طریقہ کار خطا سے خالی نہیں۔
تنبیہ ثانی:احادیث موضوعہ کی علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ حدیث صریح عقل کے خلاف ہو، اس باب میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے، کیونکہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں کہ حدیث کے صریح عقل کے خلاف ہونے کا فیصلہ کرے۔نیز ناقد حدیث کے لئے ضروری ہے کہ عقل کسی حدیث کے ورود کو محال سمجھے یا عقل اس کا ادراک نہ کرسکے، ان دونوں کے درمیان تفریق کرے،کیونکہ شریعت اسلامیہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جس کو عقل محال سمجھے،ہاں ایسا کبھی ہوتا ہے کہ عقل اس کے ادراک سے قاصر ہوتی ہے۔اسی حذر کی طرف ڈاکٹر الخشوعی الخشوعی صاحب نے اپنی کتاب ’’بحوث فی علوم الحدیث‘‘ میں بھی اشارہ فرمایا ہے۔ لہذا اگر عقل سلیم حدیث کے ورود کو محال جانے تو اس پر موضوع ہونے کا حکم لگایا جائے،اور اگر ادراک نہ کر سکے تو کف لسان ضروری ہے۔
بہر حال میں اپنی اس بحث سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ نہ تو میں ان متساہلین کی تائید کرتا ہوں جو احادیث موضوعہ پر قصدا یا عدم علم کی وجہ سے عمل کر تے ہیں، بلکہ میں ان پر عمل کرنے والوں کی سخت مذمت کرتا ہوں،جو لوگ عدم علم کی بناء پر ایسا کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ علمائے حدیث کی طر ف رجوع کرکے احادیث کے احکام معلوم کریں، اور پھر اسی عتبار سے عمل اور بیان کریں، اور جو لوگ قصدا ایسا کرتے ہیںان کے لئے وعید شدید ہے، انہیں حضور ﷺ کے اس فرمان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے، چنانچہ حضور ﷺ فرماتے ہیں:جس نے مجھ پر عمدا جھوٹ باندھا اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔(متفق علیہ) لہذا ایسے لوگوں پر واجب ہے کہ وہ فورا اپنے اس عمل سے دست بردار ہوں اور توبہ کریں۔اور نہ ان متشددین کی موافقت کرتا ہوں جو ضعیف حدیث اور کثرت خطا وغیرہ کی وجہ سے ضعیف شدید حدیث کو موضوع قرار دیتے ہیں یا اس پر عمل کرنے سے منع کرتے ہیں، کیونکہ ایسی صورت میں امت مسلمہ بہت سارے فضائل سے محروم ہوجائے گی۔ بلکہ میں افراط و تفریط سے دور مسلمانوں کو وسطیت اور اعتدال اپنانے کی دعوت دیتا ہوں،وہ اس طرح کہ احادیث صحیحہ پر عمل کرنے کا التزام کریں اور ساتھ ہی ضعیف حدیثوں میں وارد فضائل پر بھی توجہ دیں تاکہ ان کے فوائد سے محروم نہ ہوں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔ ادعو اللہ تعالی ان یاخذ بایدینا الی طریق الرشاد و یمنحنا التوفیق و النجاح فی الدنیا والآخرۃ۔آمین یا رب العالمین۔
ازہار احمد امجدی
طالب:کلیۃ اصول الدین ،قسم الحدیث
جامعۃ الازھر الشریف،القاھرۃ،مصر
mobile no:0020118176687
email add:azharmisbahi2005@yahoo.co.in
مصادر و مراجع
(۱) فتح المغیث للسخاوی ،ج۱ص۲۴۴،مطبع:المکتبۃ التوفیقیۃ،القاہرۃ،مصر۔
(۲)تدریب الراوی للسیوطی،النوع الثانی والعشرون ،ص۲۵۸ ،مطبع : دار الحدیث القاھرۃ، مصر ۔
(۳)فتح المغیث،ج۱ص۲۴۴، حاشیۃالاجوبۃ الفاضلۃللاسئلۃالعشرۃالکاملۃلمحمدعبدالحی اللکنوی،ص۴۸،۴۹،مطبع:دارالبشائر الاسلامیۃ،بیروت،لبنان،بحوث فی علوم الحدیث ص۱۰۔۲۹۔
(۴) فتح المغیث ،ج۱، ص۲۴۴۔
(۵) الاذکار للنواوی ص۷ ،ثالث فصول المقدمۃ، مطبع : مکتبۃ مصطفی البابی الحلبی۔
(۶) الھادالکاف لاحمد رضا البریلوی ،نقلا عن الحلیۃ شرح المنیۃ،ص ،۹۴، تحقیق: تاج الشریعہ ازہری میاں،مطبع: دار الحاوی ،بیروت ، لبنان۔
(۷)تدریب الراوی ،النوع الثانی والعشرون ،ص۲۵۸ ۔
(۸)الھادالکاف ص۱۲۹نقلا عن شرح المواھب الدنیہ۔
(۹) شرح علل الترمذی لابن رجب الحنبلی، ص ۷۶، مطبع : عالم الکتب ،بیروت، لبنان ۔
(۱۰) فتح القدیر ج ۲ ص ۱۷۸،باب الامامۃ۔
(۱۱) جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر ،ج ۱ ص ۵۳، باب تفضیل العلم علی العبادۃ ، مطبع : دار ابن حزم ۔
(۱۲) الاسرار المرفوعۃ ص ۳۱۵ ، رقم الحدیث : ۴۳۴: مسح الرقبۃ ، مطبع مؤسسۃ الرسالۃ۔
(۱۳) تدریب الراوی النوع الثانی والعشرون ،ص۲۵۸۔
(۱۴) الھاد الکاف فی حکم الضعاف ،ص۴۴۔
(۱۵)تدریب الراوی ،النوع الثانی والعشرون، ص۲۵۸۔
(۱۶) اللالی المصنوعۃ ج ۱ص ۲۳۸، مطبع : دار الکتب العلمیۃ ، بیروت ۔
(۱۷) اللالی المصنوعۃ ج ۱ص ۴۲۱ ۔
(۱۸) تقریب التھذیب ص۶۸۳، مطبع : دار الحدیث ، القاھرۃ ، مصر ، نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر ص ۵۲ ، مطبع : مکتبۃ الرحاب ، القاھرۃ ، مصر ۔
(۱۹) النکت البدیعات للسیوطی، ص۳۲۱، مطبع:دار الجنان۔
(۲۰) القول البدیع للسخاوی ص۴۹۷،مطبع:دار الیسر،المدینہ المنورۃ۔
(۲۱) بحوث فی علوم الحدیث للدکتور الخشوعی الخشوعی ص۲۳۔
(۲۲) قواعد التحدیث من فنون علوم الحدیث للقاسمی ص ۱۱۶ ، مطبع : دار النفائس ، بیروت ، لبنان ۔
(۲۳) قواعد التحدیث من فنون علوم الحدیث ص ۱۱۶۔
(۲۴) الاجوبۃ الفاضلۃ ص۵۲۔
(۲۵) شرح علل الترمذی ص۷۷۔
(۲۶) الھاد الکاف ۶۸۔۸۱۔
(۲۷) فتح المغیث للسخاوی ج ۱ص۲۱۵۔
(۲۸) نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر ص ۴۸۔
(۲۹) اللآلی المصنوعۃ للسیوطی،ج۲ص۳۸۔
(۳۰)النکت البدیعات للسیوطی،ص۱۸۲۔