مجاہدین کے گھوڑوں کی عظمت NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah
We are updating NafseIslam, so you might experience some issues. We are sorry for the incovenience caused.

This Article Was Read By Users ( 3678 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page




خداوند قدوس کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدین اور غازیوں کا مرتبہ کتنا بلند و بالا، اور کس قدر عظمت والا ہے اس کے بارے میں تو سینکڑوں آیتوں میں خداوند قدوس نے ان مردانِ حق کی مدح و ثناء کا خطبہ ارشاد فرمایا ہے مگر سورۃ ٭والعٰدیٰت٭ میں رب العزت جل جلالہ نے مجاہدین اور غازیوں کے گھوڑوں، بلکہ ان گھوڑوں کی رفتار اور ان کی اداؤں کی قسم یاد فرما کر ان کی عزت و عظمت کا اظہار فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد ِ ربانی ہے کہ:

وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا ۙ﴿1﴾فَالْمُوۡرِیٰتِ قَدْحًا ۙ﴿2﴾فَالْمُغِیۡرٰتِ صُبْحًا ۙ﴿3﴾فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا ۙ﴿4﴾فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا ۙ﴿5﴾اِنَّ الْاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿6﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔قسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر پھر صبح ہوتے تاراج کرتے ہیں پھر اس وقت غبار اُڑاتے ہیں پھر دشمن کے بیچ لشکر میں جاتے ہیں بے شک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (پ30،العدیت:1۔6)

ان گھوڑوں سے مراد ،مفسرین کا اجماع ہے کہ مجاہدین اور غازیوں کے گھوڑے مراد ہیں جو خداوند قدوس کے دربار میں اس قدر محبوب و محترم ہیں کہ قرآن مجید میں حضرت حق جل مجدہ نے ان گھوڑوں بلکہ ان کی اداؤں کی قسم یاد فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ مجھے ان گھوڑوں کی قسم ہے جو جہاد میں دوڑتے ہوئے ہانپتے ہیں اور مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی جو پتھروں پر اپنے نعل والے کھُر مار کر رات کی تاریکی میں چنگاری نکال دیتے ہیں اور مجھے ان گھوڑوں کی قسم ہے جو صبح سویرے کفار پر حملہ کردیتے ہیں اور مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی جو میدانِ جنگ میں دوڑ کر غبار اُڑاتے ہیں اور مجھے قسم ہے ان گھوڑوں کی جو کفار کے بیچ لشکر میں گھس جاتے ہیں۔ اتنی قسموں کے بعد رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ٭انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔٭
اللہ اکبر!خداوند قدوس جن چیزوں کی قسم یاد فرمائے، ان چیزوں کی عظمتِ شان کا کیا کہنا؟ قرآن مجید میں جن جن چیزوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ مجھے ان کی قسم ہے، ان تمام چیزوں کا مرتبہ اتنا بلند و بالا اور اس قدر عظمت والا ہو گیا کہ وہ تمام چیزیں ہم مسلمانوں کے لئے بلکہ ساری کائنات کے لئے معزز و محترم ہو گئیں۔ تو پھر مجاہدین کے گھوڑوں کی عزت و عظمت اور ان کے تقدس و احترام کا کیا عالم ہو گا؟ اللہ اکبر اللہ اکبر۔

درسِ ہدایت:۔اس سے ہدایت کا یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کی ہر ہر چیز سے محبت فرماتا ہے اور خدا کے محبوبوں کی ہر ہر چیز قابل عزت و لائق احترام ہے۔ مجاہدین اسلام اور غازیانِ کرام چونکہ خداوند قدوس کے محبوب اور پیارے بندے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کے گھوڑوں سے بھی اس قدر پیار و محبت فرماتا ہے کہ ان گھوڑوں بلکہ ان گھوڑوں کی رفتار اور میدانِ جنگ میں ان گھوڑوں کے حملوں کی قسم یاد فرما کر ان گھوڑوں کی عزت و عظمت کا اعلان فرما رہا ہے۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ۔

جب مجاہدین کرام کے گھوڑوں کے بلند درجات کا خطبہ قرآن عظیم نے پڑھا تو اس سے معلوم ہوا کہ مجاہدین کے آلاتِ جنگ اور ان کے ہتھیاروں اور ان کی کمانوں، ان کی تلواروں کا بھی مرتبہ بہت بلند ہے اسی لئے بعض خانقاہوں میں بعض غازیوں کی تلواروں کو لوگوں نے بڑے اہتمام کے ساتھ تبرک بنا کر برسہا برس سے محفوظ رکھا ہے جو بلاشبہ باعث ِ برکت و لائق ِ عزت و احترام ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
==============
از: عَجَائِبُ القرآن
مع
غَرَائِبِ القرآن

مؤلف
شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفٰی اعظمی
رحمۃ اللہ علیہ