نابالِغ کا کُفربکنا NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 2145 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



سُوال:
------------
اگرکوئی نابالِغ بچّہ کلِمهٔ کُفْر بک دے تو کیا اُس پر بھی حکمِ کُفر لاگو
ہو جاتا ہے؟
اگر ہاں تو پھر جب بالِغ ہونے کے بعد اُس کو پتا چلے کہ میں نے نا بالِغی میں کُفْر بکا تھا اور جو کُفْر بکا تھا کچھ کچھ یاد ہے صحیح طرح یاد بھی نہیں تو اب کس طرح توبہ کرے؟

جواب:
-----------
نابالِغ سمجھدار کا کُفْر و اسلام مُعتَبَر ہے ۔
ميرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اَہْلِ سنّت، مُجدِّدِ دين وملّت مولانا شاہ اَحمد رضا خان عليہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں:
سمجھداربچّہ اگر اسلام کے بعد کفر کرے تو ہمارے نزدیک وہ مُرتَد ہوگا۔
(ماخوذ ازفتاوٰی افریقہ ص 16)
معلوم ہوا بالِغ یا سمجھدار نابالِغ کفر کرے تو مُرتَد ہوجائے گا ۔
اگر بالِغ ہونے کے بعد احساس ہوا اور اگر کُفْریہ قول یاد ہے تو خاص اُس سے توبہ کرے اوراگر شک ہے یا یاد نہیں تو اُس مَشکوک کُفْریہ کلمہ سَمیت ہر قِسم کے کُفْر سے توبہ کرے۔یعنی اس طرح کہے:
میں تمام کُفریات سے توبہ کرتا ہوں۔ پھر کلمہ پڑھ لے۔