نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 228 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



نظر اک چمن سے دوچار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے
عجب اس کے گل کی بہار ہے کہ بہار بلبل زار ہے

نہ دل بشر ہی فگار ہے کہ ملک بھی اس کا شکار ہے
یہ جہاں کہ ہژدہ ہزار ہے جسے دیکھو اس کا ہزار ہے

نہیں سر کہ سجدہ کناں نہ ہو نہ زباں کہ زمزمہ خواں نہ ہو
نہ وہ دل کہ اس پہ تپاں نہ ہو نہ وہ سینہ جس کو قرار ہے

وہ ہے بھینی بھینی وہاں مہک کہ بسا ہے عرش سے فرش تک
وہ ہے پیاری پیاری وہ چمک کہ وہاں کی شب بھی نہار ہے

کوئی اور پھول کہاں کھلے نہ جگہ ہے جوشش حسن سے
نہ بہار اور پہ رخ کرے کہ جھپک پلک کی تو خار ہے

یہ سمن یہ سوسن و یاسمن یہ بنفشہ سنبل و نسترن
گل و سر و ولالہ بھرا چمن وہ ہی ایک جلوہ ہزار ہے

یہ صبا سنک وہ کلی چٹک یہ زباں چہک لب جو جھلک
یہ مہک جھلک یہ چمک دمک سب اسی کے دم کی بہار ہے

وہی جلوہ شہر بشر ہے وہی اصل عالم و دہر ہے
وہی بحر ہے وہی لہر ہے وہی پاٹ ہے وہی دھار ہے

وہ نہ تھا تو باغ میں کچھ نہ تھا وہ نہ ہو تو باغ ہو سب فنا
وہ ہے جان جان سے ہے بقا وہی بن ہے بن سے ہی بار ہے

یہ ادب کہ بلبل بے نوا کبھی کھل کے کر نہ سکے نوا
نہ صبا کو تیز روش روا نہ چھلکتی نہروں کی دھار ہے

بہ ادب جھکا لو سر ولا کہ نام لوں گل و باغ کا
گل تر محمد مصطفی چمن ان کا پاک دیار ہے

وہی آنکھ ان کو جو منہ تکے وہ لب کہ محو ہوں نعت کے
وہی سر جو ان کے لئے جھکے وہی دل جو ان پہ نثار ہے

یہ کسی کا حسن ہے جلوہ گر کہ تپاں ہیں خوبوں کے دل جگر
نہیں چاک جیب گل وسحر کہ قمر بھی سینہ فگار ہے

وہی نذر شہ میں زرنکو جو ہو ان کے عشق میں زرد رو
گل خلد اس سے ہو رنگ جو یہ خزاں وہ تازہ بہار ہے

جسے تیری صفت نعال سے ملے دو نوالے نوال سے
وہ بنا کہ اس کے اگال سے بھری سلطنت کا اَدَھار ہے

وہ اٹھیں چمک کے تجلیاں کہ مٹادیں سب کی تعلیاں
دل و جاں کو بخشیں تسلیاں ترا نور بار دو حار ہے

رسل وملک پہ درود ہو وہی جانے ان کے شمار کو
مگر ایک ایسا دکھ تو دو جو شفیع روز شمار ہے

نہ حجاب چرخ و مسیح پر نہ کلیم وطور نہاں مگر
جوگیا ہے عرش سے بھی ادھر وہ عرب کا ناقہ سوار ہے

وہ تری تجلی کو دل نشیں کہ جھلک رہے ہیں فلک زمیں
ترے صدقے میرے مہ مبیں مری رات کیوں ابھی تار ہے

مری ظلمتیں ہیں ترا ستم مگر ترا مہ نہ مہر کہ مہر گر
اگر ایک چھینٹ پڑے ادھر شب داج ابھی تو نہار ہے

گنہ رضا کا حساب کا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سوا
مگر اے عفو تیرے عفو کا نہ حساب ہے نہ شمار ہے

تیرے دین پاک کی وہ ضیاء کہ چمک اٹھی رہ اصطفا
جو نہ مانے آپ سقر گیا کہیں نور ہے کہیں نار ہے

کوئی جان بسکے مہک رہی کسی دل میں اس سے کھٹک رہی
نہیں اس کے جلوے میں یک رہی کہیں پھول ہے کہیں خار ہے

وہ جسے وہابیہ نے دیا ہے لقب شہید و ذبیح کا
وہ شہید لیلی نجد تھا وہ ذبیح تیغ خیار ہے

یہ ہے دن کی تقویت اس کے گھر یہ ہے مستقیم صراط شر
جو شقی کے دل میں ہے گاؤ خر تو زباں پہ چوڑھا چمار ہے

وہ حبیب پیارا تو عمر بھر کرے فیض وجود ہی سر بسر
ارے تجھ کو کھائے تپہ سقر ترے دل میں کس سے بخار ہے

وہ رضا کے نیزہ کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے
کسے چارہ جوئی کا وار ہے کہ یہ وار وار سے پار ہے