نما زکا طر یقہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1991 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



=>> با وُضُو قِبلہ رُو اِس طر ح کھڑے ہو ں کہ دونوں پاؤں کے پنجو ں میں چاراُنگل کافاصِلہ رہے اوردونوں ہاتھ کانوں تک لے جائیے کہ اَنگو ٹھے کان کی لَوسے چھوجائیں اور اُنگلیاں نہ ملی ہوئی ہوں نہ خوب کھلی بلکہ اپنی حا لت پر (NORMAL) رکھیں او ر ہتھیلیا ں قبلہ کی طر ف ہو ں نظرسجدہ کی جگہ ہو۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-
=>> اب جو نَماز پڑھنا ہے اُس کی نِیَّت یعنی دل میں اس کا پکّا اِرادہ کیجئے ساتھ ہی زَبان سے بھی کہہ لیجئے کہ زِیادہ اچھا ہے ( مَثَلاً نِیَّت کی میں نے آج کی ظُہْر کی چار رَکعت فر ض نَما ز کی، اگر باجما عت پڑھ رہے ہیں تو یہ بھی کہہ لیں پیچھے اس اِما م کے)
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-
=>>اب تکبیرِتحریمہ یعنی ’’اللہُ اکبر‘‘ کہتے ہوئے ہا تھ نیچے لا ئیے اورناف کے نیچے اس طر ح با ندھئے کہ
سیدھی ہتھیلی کی گدّی اُلٹی ہتھیلی کے سِرے پر اور بیچ کی تین اُنگلیاں اُلٹی کلا ئی کی پیٹھ پر اور انگوٹھا اور چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی ) کلا ئی کے اَغل بغل ہوں ۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-
=>> اب اس طرح ثنا پڑھئے :
سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَ تَبَارَکَ اسْمُکَ
پاک ہے تواے اللہ عَزَّوَجَل اور میں تیری حمد کرتا ہوں ، تیرا نام بَرَکت والا ہے

وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَ لَآ اِلٰہَ غَیْرُکَ ط
اور تیری عظمت بُلند ہے اور تیرے سواکوئی معبود نہیں ۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> پھر تعوُّذ پڑ ھئے :
اَ عُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم
میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتاہوں شیطان مردود سے
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> پھر تَسمِیَہ پڑ ھئے:
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-
=>> پھر مکمَّل سُورَۂ فا تِحَہ پڑ ھئے:
اَلۡحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَۙ﴿۱﴾
الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۲﴾
مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیۡنِؕ﴿۳﴾
اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُؕ﴿۴﴾
اِہۡدِ نَا الصِّرٰطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۵﴾
صِرٰطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ۬ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمْ وَلَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-
=>> سُورۂ فاتِحَہ ختم کر کے آہِستہ سے ’’ اٰمین‘‘ کہئے۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> پھرتین آیات یاایک بڑی آیت جوتین چھو ٹی آیتوں کے بر ابر ہو یا کو ئی سُورت مَثَلاً سورۂ اِخلاص پڑھئے :

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا
قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾
اَللہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾
لَمْ یَلِدْ ۬ۙ وَ لَمْ یُوۡلَدْ ۙ﴿۳﴾
وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> اب ’’اللہُ اَ کْبَر‘‘کہتے ہوئے رُکو ع میں جا ئیے اور گھٹنو ں کو اس طرح ہا تھ سے پکڑ ئیے کہ ہتھیلیاں گھٹنوں پر اور اُنگلیا ں اچّھی طر ح پھیلی ہوئی ہو ں ۔پیٹھ بچھی ہوئی اور سر پیٹھ کی سِیدھ میں ہو اُونچا نیچا نہ ہو اور نظر قد مو ں پر ہو۔
کم از کم تین با ر رُ کو ع کی تسبیح یعنی ’’سُبْحٰنَ رَ بِّیَ الْعَظِیْم‘‘
( یعنی پاک ہے میرا عظمت والاپروردگار) کہئے۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> پھر تسمیع (تَس ۔مِیع) یعنی سَمِعَ اللہُُ لِمَنْ حَمِدَ ہ( یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس کی سُن لی جس نے اُس کی تعریف کی)کہتے ہوئے باِلکل سیدھے کھڑے ہوجائیے،
اِس کھڑے ہونے کو’’ قَــومہ‘‘ کہتے ہیں۔
اگر آپ مُنْفَـرِدہیں یعنی اکیلے نَماز پڑ ھ رہے ہیں تواِس کے بعد کہئے:
اَ للّٰھُمَّ رَ بَّنَا وَلَکَ الْحَمْد
(اے اللہ ! اے ہمارے مالک ! سب خوبیاں تیرے ہی لیے ہیں)
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> پھر’’اللہُ اکبر‘‘کہتے ہوئے اِس طر ح سجدے میں جائیے کہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھئے پھر ہا تھ پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں اِس طرح سر رکھئے کہ پہلے نا ک پھر پیشانی اور یہ خاص خیال رکھئے کہ ناک کی نوک نہیں بلکہ ہڈّی لگے اور پیشانی زمین پرجم جائے، نظر ناک پر رہے ، بازوؤں کو کروٹوں سے، پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پِنڈلیوں سے جُدا رکھئے۔(ہاں اگر صَف میں ہوں تو بازو کر وٹوں سے لگائے رکھئے) اوردونوں پاؤں کی دسوں اُنگلیوں کا رُخ اِس طرح قبلہ کی طر ف رہے کہ دسوں اُنگلیوں کے پیٹ ( یعنی اُنگلیوں کے تلووں کے اُبھرے ہوئے حصّے) زمین پرلگے رہیں۔ ہتھیلیاں بچھی رہیں اور اُنگلیاں ’’قبلہ ُرو‘‘ رہیں مگر کلائیاں زمین سے لگی ہو ئی مت رکھئے ۔
اور اب کم از کم تین بارسجدے کی تسبیح یعنی’’ سُبْحٰنَ رَ بِّیَ الْاَعْلٰی‘‘(پاک ہے میراپروردگار سب سے بلند)پڑھئے ۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> پھر سر اس طرح اٹھائیے کہ پہلے پیشانی پھرناک پھرہاتھ اٹھیں۔ پھرسیدھاقدم کھڑا کر کے اُس کی اُنگلیاں قِبلہ رُخ کر دیجئے اور اُلٹا قدم بچھاکر اس پرخو ب سیدھے بیٹھ جائیے اور ہتھیلیاں بچھاکر رانوں پر گھٹنوں کے پاس رکھئے کہ دونوں ہا تھو ں کی اُنگلیاں قِبلہ کی جانب اور اُنگلیوں کے سِرے گھٹنوں کے پاس ہوں۔ دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کوجَلْسہ کہتے ہیں ۔پھر کم از کم ایک بار سُبْحٰنَ اللہ کہنے کی مقدار ٹھہر ئیے (اِس وقفہ میں اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی’’ یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میری مغفرت فرما ‘‘کہہ لینا مُستحَب ہے )
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> پھر’’اللہُ اَ کْبَر‘‘ کہتے ہوئے پہلے سَجدے ہی کی طرح دوسراسجدہ کیجئے۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-
=>> اب اسی طرح پہلے سراُٹھائیے پھر ہاتھوں کو گھٹنوں پررکھ کرپنجوں کے بل کھڑے ہوجائیے۔
اُٹھتے وقت بغیر مجبوری زمین پر ہا تھ سے ٹیک مت لگائیے۔
یہ آپ کی ایک رَکعَت پوری ہو ئی۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> اب دوسری رکعت میں ’’بِسْمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّ حِیْم‘‘پڑھ کرالحمد اور سورت پڑ ھئے اور پہلے کی طر ح رُکوع اور سجدے کیجئے،
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> دوسرے سجدے سے سر اُ ٹھا نے کے بعد سید ھا قد م کھڑا کر کے اُ لٹا قدم بچھاکربیٹھ جائیے دو۲ رَکْعَت کے دوسرے سَجدے کے بعد بیٹھنا قَعْدَہ کہلاتا ہے اب قَعْدہ میں تشہد (تَ۔شَہْ۔ہُد) پڑ ھئے:

اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَ الصَّلَوَاتُ وَ الطَّیِّبٰتُ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ
تمام قَولی،فِعلی اورمالی عبادتیں اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کیلئے ہیں ۔سلام ہوآپ پر
اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَا تُہٗ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی
اے نبی! اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمتیں اوربَرَکتیں ۔ سلا م ہوہم پر اوراللہ کے
عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْنَ ط اَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰـہَ اِلَّا اللہُ
نیک بندوں پر،میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہ ٗ ط
اورمیں گواہی دیتاہوں کہ محمد(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) اس کے بندے اور رسول ہیں

جب تَشَہُّدمیں لفظ ’’لا‘‘ کے قریب پہنچیں تو سیدھے ہاتھ کی بیچ کی اُنگلی اوراَنگوٹھے کا حَلقہ بنالیجئے اور چھنگلیا (یعنی چھوٹی اُنگلی)اوربِنْصَر یعنی اس کے برابر والی اُنگلی کو ہتھیلی سے ملادیجئے اور(اَشْھَدُ اَ لْ کے فوراً بعد) لفظِ’’لا‘‘ کہتے ہی کلمے کی اُنگلی اٹھائیے مگر اس کو اِدھر اُدھر مت ہلائیے اورلفظ ’’اِلَّا‘‘ پر گرادیجئے اورفوراًسب اُنگلیاں سیدھی کر لیجئے ۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> اب اگر دو سے زِیادہ رکعتیں پڑھنی ہیں تو ’’اَللّٰہُ اَ کْبَر‘‘ کہتے ہوئے کھڑے ہوجائیے ۔
٭- اگر فرض نماز پڑھ رہے ہیں تو تیسری اور چوتھی رکعت کے قیام میں ’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ اور ’’ اَلْحَمْد‘‘ شریف پڑھئے! سورت ملانے کی ضرورت نہیں۔ باقی اَفعال اِسی طرح بجا لائیے
٭- اوراگر سُنَّت ونَفْل ہوں تو’’سورۂ فاتِحَہ‘‘کے بعد سُورت بھی مِلائیے
(ہاں اگر اِما م کے پیچھے نَماز پڑھ رہے ہیں تو کسی بھی رَکعت کے قِیام میں قرائَ ت نہ کیجئے خاموش کھڑے رہیے )
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-
=>> پھر چار رَکعَتیں پوری کرکے قعدۂ اخیرہ میں تَشَہُّد کے بعد دُرُودِ ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام پڑھئے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا
اے اللہ عزوجل! دُرود بھیج (ہمارے سردار ) محمد پر اوران کی آل پر جس طرح تُونے

صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَ عَلٰٓی اٰلِ اِبْرٰھِیْمَ اِ نَّکَ
دُرُود بھیجا (سیِّدُنا) ابراہیم پر اورانکی آل پر،بے شک تو

حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ط اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ
سَرا ہا ہوا بزرگ ہے ۔اے اللہ عَزَّوَجَل!برکت نازِل کر (ہمارے سردار ) محمد پر

عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ
ان کی آل پرجس طرح تُو نے بَرَکت نازِل کی (سیِّدُنا) ابراہیم

وَ عَلٰٓی اٰلِ اِبْرٰھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ ط
اورانکی آل پر، بے شک توسَراہا ہوا بزرگ ہے ۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> پھر کو ئی سی دُعا ئے ما ثُور ہ پڑ ھئے ،مَثَلاً یہ دُعا پڑ ھ لیجئے :

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً
اے اللہ !اے رب ہمارے ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے

وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ
اورہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذابِ دوزخ سے بچا۔
-٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭--٭-

=>> پھرنماز ختم کرنے کے لئے پہلے دائیں کندھے کی طرف منہ کرکے ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ‘‘کہئے اور اسی طرح بائیں طرف ۔
اب نَماز ختم ہو ئی ۔
===================
(مراقی الفلاح معہ حاشیۃ الطحطاوی، ص۲۷۸، غنیۃ المتملی،ص۲۹۸)