قرآن کتاب ہدایت NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 2694 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



قرآن کتاب ہدایت
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نَحمَدُہُ ونُصَلِی وَنُسَلّمُ علٰی سَیّدِنَا و مَولَانَا مُحَمَّدِِ رَّسُولِہِ النَّبِیّ الاَ مِینِ المَکِینِ الرَّؤفِ الرَّحِیمِ۔امَّا بَعدُ: فَاَ عُوذُبِاللّہِ مِنَ الشَّیطنِ الرَّجِیمِ۔

بِسمِ اللّہِ الرَّحمنِ الرّحیم

قرآن کتاب ہدایت ہے۔
ْ قرآن پاک اپنا تعارف کرواتے ہوئے خود فرماتا ہے:

ذلِکَ الکِتبُ لَا رَیبَ فِیہِ ھُدَی للمُتَّقِینَ۔
ترجمہ: یہ وہ کتاب ہے جس میں کو شک کی گنجائش نہیں پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔

اِسی سورۃ المبارکہ میں ایک اور جگہ فرما یا ہے ہُدَی للّنَاسِ یعنی قرآن لوگو ں کے لیے ہدایت ہے۔ (سورۃبقرہ :۱۸۴)

وَاَنزَلنَااِلَیکُم نُورََا مُبِینَا۔ (سورۃالنساء: ۱۷۴)
ترجمہ: ہم نے تمہاری طرف نور مبین نارل کیا ہے۔

اِسی طرح قرآن پاک کی کئی اور شانیں بیان کی گئی ہیں۔کیونکہ آج ہمارا موضوع کتاب ہدایت ہے تو آج صرف اسی پر بات ہوگی۔

قرآن پاک میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۹ میں قرآن پاک کے بارے اللہ رب العزت فرماتا ہے:

یُضِلُّ بِہِ کَثِیرَا ویَھدِ بِہ کَثِیرَا وَما یُضِلُّ بِہ اِلَّا الفسِقِینَ۔ (البقرہ:۹)
ترجمہ: اللہ کریم اس کے ذریعے بہت سے لوگو ں کو گمراہ کرتاہے اور بہت
سے لوگوں کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے صرف نافرمانوں کو ہی گمراہ کرتاہے۔
یہاں میرے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے :
قرآن پاک جو سراپا ہدایت ہے وہ گمراہی کیسے؟

آپ کے سامنے دونوں طرح کی آیات مبارکہ پیش کیں ہیں۔ اُن سے ہمیں پتاچلا کہ قرآن پاک صرف پر ہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے ۔ اور ظالموں کے لیے گمراہی ہے۔

آئیے اب ہم قرآن پاک کا مطالعہ کرتے ہیں کہ وہ اس کے بارے کیافرماتاہے۔

وَمَا یُضِلُّ بِہ اِلَّاالفسِقِینَ۔
یعنی قرآن پاک پڑھ کے گمراہ ہونا یہ ان کے فسق کی وجہ سے ہوتا ہے

فکری و عملی کجی کانام ہی فسق ہے۔ المنجد میں ہے فسق کا مصدر فسقاّ ہو یا فسو قا اس کا معنی حق و صلاح کے راستے سے ہٹ جانا۔ یعنی جن لوگوں کو قرآن پاک پڑھ کر گمراہی ہوتی ہے وہ ان کے فکرو عمل کی وجہ سے ہوتی ہے۔

دوسری جگہ ارشاد گرامی ہے:
وَنُنَزّلُ مِنَ الْقُرْانِ مَا ھُوَشِفَآء وَّرَحْمَۃُ لِلْمُومِنِیْنِ ۔وَلَا یَزِیْدُالظّلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارَ۔ (بنی اسرائیل:۸۲)
ترجمہ: اور ہم نے قرآن میں شفا اور رحمت کومومنوں کے لیے نازل کیا۔ اور نہیں ہے ظالموں کے لیے سوائے خسارے کے۔

اس آیت مبارکہ سے ہمیں پتہ چلا کہ قرآن پاک صرف مومنوں کے لیے سراپا رحمت و ہدایت ہے۔ صر ف مومنین ہی اسے پڑھ کر اس سے شفاہ ،رحمت اور ہدایت حاصل کرسکتے ہیں۔ اور ظالم اسے پڑھ کرسوائے گمراہی کے کچھ نہیں حاصل کرسکتے۔

صحابی رسول ﷺ ان ظالموں کے بارے فرماتے ہیں:
کَان اِبْنُ عُمَریرَاھُمْ شِرارَ خلقِ اللّہ وَقَالَ اِنھُمْ اِنطَلَقُوْااِلٰی آیاتِ نَزَلَتْ فِیْ الْکُفَّارِ فَجَعَلُوْھَا عَلَی الْمُو مِنِیْنَ۔
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر ان لوگو ں کو سب سے بڑھ کر شرارتی اور بُرا سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ وہ بدبخت لوگ ہیں جو کفار کے بارے میں نازل ہونے والی آیات کو مومنوں پر چسپاں کرتے ہیں۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کُھلا

میں آپ کی خدمت میں ایک واقعہ گوش گزار کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتاہوں کے آپ کواس موضوع کی بخوبی سمجھ آجائے گی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا بعض معاملات میں اختلاف ہو گیا تو صحابہ کرام نے اس اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کی۔ جانبین کے اتفاق سے دو صحابہ کرام حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو حکم یعنی فیصلہ کرنے والا مقرر کیا گیا اور خارجیو ں سے یہ بات برداشت نہ ہوسکی۔تو اِن ظالموں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام پر شرک کا فتویٰ لگا دیا۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان ظالم خارجیوں سے سوال کیا کہ تم کس وجہ سے حضرت علی المرتضیٰ کو مشرک کہتے ہو۔
تو ان ظالم خارجیوں نے بڑے شاطرانہ انداز میں کہہ دیا۔ کہ ہم توقرآن پاک پڑھتے ہیں ۔ہم تو اللہ کی بات کرتے ہیں علی نے قرآن پاک کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔
انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت عمروبن عاص کو ثالث یا حکم مان لیاہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
اِنِ الحُکْمُ اِلَّا لِلّہِ (سورۃ یوسف:۴۰)
ترجمہ: حکم صرف اللہ کا ہے۔
لہذا اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی جگہ کسی اور کو حکم مانے گا تو بند ہ مشرک ہو جائے گا۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ عام آدمی تو تھے نہیں جو خاموش ہو جاتے آپ رضی اللہ عنہ تو ترجمان القرآن ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تو پورے قرآن پا ک کی تفسیر لکھی ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی ان خارجیوں سے کچھ سوالات کیے ۔ وہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ( غالبا یہاں مضمون نگار عبداللہ ابن عباس لکھنا چاہتے تھے مگر غلطی سے عبداللہ ابن عمر آ گیا کیوں کہ اوپر وہ بات حضرت عبداللہ بن عباس کی کر رہے ہیں){نفس اسلام ٹیم ایڈیٹر) ارشاد فرماتے ہیں۔

اے گروہ شیطان: مجھے چند سوالوں کے جواب دو۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃانساء آیت نمبر ۳۵ میں گھریلو لڑائی سے انتشار دور کرنے کا طریقہ بتایا ہے۔ اگر میاں بیوی میں لڑائی ہوجائے اور گھر ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو دونوں کی جانب سے ایک ایک حکم مقرر کرلو تو وہ جو فیصلہ کریں وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو بھی منظور ہے۔
اگر ایک گھر ٹوٹنے سے بچانے کے لیے حکم مقرر کیاجاسکتاہے ۔ تو امت مسلمہ کا اتفاق و اتحاد کے لیے حکم مقر ر کرنا کیسے شرک ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر( غالبا یہاں مضمون نگار عبداللہ ابن عباس لکھنا چاہتے تھے مگر غلطی سے عبداللہ ابن عمر آ گیا کیوں کہ اوپر وہ بات حضرت عبداللہ بن عباس کی کر رہے ہیں){نفس اسلام ٹیم ایڈیٹر) کا خارجیوں سے دوسراسوال:

سورۃ المائدہ آیت نمبر ۹۵ میں ارشاد گرامی ہے۔
ترجمہ: اے ایمان والو: نہ مارو جبکہ تم احرام باندھے ہوئے ہو اور جو قتل کرے شکار کو تم میں جان بوجھ کر تو اس کی جزا یہ ہے کہ اسی قسم کا جانور دے۔

یعنی اگر احرام کی حالت مین حرم شریف میں کو ئی شکار کو قتل کردے تو اس کو اس کی مثل جانور لا کے حرم میں ذبح کرنا ہوگا اور مثل کا فیصلہ کون کرے گا قرآن پاک کہتاہے۔ ذَوَاعَدْلِ مّنْکُمْ کہ دو عادل آدمی حکم کا کردار ادا کریں۔ اور فیصلہ کریں کہ کیسا جانور ذبح کیاجائے۔

اگر حرم پاک میں خرگوش کے لیے حکم مقرر کرنا قرآن پاک کا حکم ہے۔تو کیا امت مسلمہ کی بقاء کے لیے حکم مقرر کرنا شرک ہے۔

اسی طرح کے کئی واقعات تاریخ کی کتب میں موجود ہیں ۔
اس تمام واقعہ سے ہمیں پتہ چلا کہ ظالم خارجی بھی قرآن پاک پڑھتے تھے لیکن ان کو سوائے خسارے کے کچھ حاصل نہیں ہوتاتھاجو کہ ان کی کجی و لاعلمی کی وجہ سے تھا۔

دوسری طرف صحابہ کرام علیھم الرضوان تھے جو قرآن پاک سے راہنمائی اور ہدایت حاصل کرتے تھے۔

وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلغُ الْمُبِیْن۔