دو راویوں کے درمیان الفاظ ِحدیث میں موافقت کے اعتبار سے فردِ نسبی کی اقسام NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 570 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



اس اعتبار سے حدیث کی تین اقسام کی جاسکتی ہیں:

٭(۱)۔۔۔۔۔۔ متابِع
٭(۲)۔۔۔۔۔۔ متابَع
٭(۳)۔۔۔۔۔۔ شاہد

متابِع ،متابَع ، اور شاہِد:
٭٭٭٭٭٭٭
وہ حدیث جو فرد حدیث (فرد نسبی) کے ساتھ لفظا و معنی یا فقط معنی موافقت کرے٭ متابع کہلاتی ہے جبکہ جسکی موافقت کی جائے وہ٭ متابَع کہلاتی ہے ۔متابعت کے لیے شرط ہے کہ دونوں حدیثیں ایک ہی صحابی کی مسند ہوں اور اگر صحابی مختلف ہو تو موافقت کرنے والی حدیث کو ٭شاہد کہیں گے۔

متابع و متابَع کی مثال:
٭٭٭٭٭٭٭٭
رَوَی الشَّافِعِيُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا) أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللُّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ ٭ اَلشَّہْرُ تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ فَلاَ تَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوُا الہِلالَ وَلاَ تُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوْہ، فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدّۃَ ثَلاثِیْنَ٭۔

ترجمہ:امام شافعی نے امام مالک سے انھوں نے عبداللہ بن دینارسے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:مہینہ (کبھی) انتیس دن کا (بھی)ہوتا ہے لہذا روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند نہ دیکھ لو اور روزہ ترک نہ کرو یہاں تک کہ چاند نہ دیکھ لو اور اگر چاند دکھائی نہ دے تو تیس دن پورے کرو.

امام شافعی (رحمۃ اللہ علیہ ) اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کرنے میں امام مالک سے متفرد ہیں کیونکہ امام مالک کے دوسرے اصحاب (شاگردوں) نے اسی سند سے ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے۔ ٭ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدِرُوْا لَہٗ ٭امام شافعی کے متفرد ہونکی وجہ سے لوگوں نے یہ گمان کیا کہ امام شافعی کی یہ حدیث غریب ہے لیکن ہمیں ایک اور حدیث مل گئی جسے عبد اللہ بن مسلمہ القعنبی نے انہی الفاظ کے ساتھ امام مالک سے روایت کیا ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ بْنِ مَسْلِمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلشَّہْرُ تِسْعٌ وَّعِشْرُوْنَ ۔۔۔۔ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدّۃَ ثَلاثِیْنَ ۔

یہ دونوں حدیثیں ایک ہی صحابی حضرت عبدا للہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی سند سے ہیں ۔ لہذا امام شافعی سے مروی حدیث کو متابَع اور عبد اللہ بن مسلمہ کی حدیث کو متابِع کہیں گے۔

شاہد کی مثال:
٭٭٭٭٭
اسی حدیث کو دوسرے صحابی کی سند سے امام نسائی نے روایت کیا ہے حدیث یہ ہے۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ۔۔۔ فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدّۃَ ثَلاثِیْنَ ۔ لہذا امام نسائی سے مروی یہ حدیث شاہد ہے۔

حکم:
٭٭
٭متابِع ،٭متابَع اور٭ شاھد فردِ نسبی کی اقسام ہیں اور فرد نسبی خبر غریب کی ایک قسم ہے لہذا ان کا حکم وہی ہے جو خبر غریب کا یعنی ان سے ظن کا فائدہ حاصل ہو گا لیکن قرائن و شواہد سے قوت پا کر یہ واجب العمل حکم کا فائدہ دیں گی۔
------------------------------------------------------------
نصاب اصول حدیث
مع
افادات رضویۃ
پیشکش
مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی )
(شعبہ درسی کتب)