سفرنامہ لقمان سے NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 96 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



( میرا کافی وقت سفر میں گزرتاہے ، بعض احباب کے اِیما پرسفرنامہ مرتب کرنا شروع کیا تھا ، یہ سطور اسی سے مقتبس ہیں )

بیت اللہ شریف کی زیارت کے بعد:
١ تربہ
٢ خرما
٣ رنیہ
٤ بیشہ
٥ وادی بن اشبھل
٦ روضان السليل
٧ زبران
٨ خمیس مشیط
( ھراس ، الحفاير ، الشعبه ، جبل البراعيم ، العرقين
، مسره ، شقيب ، الجزلات وغیرہ )
پہاڑوں اور صحراؤں میں بہ سلسلہ عملیات پانچ دن اور راتیں گزاریں ۔
کچھ دوست معاون رہے جنھوں نے طَعام و قیام اور دیگر سہولیات کا بہت خیال رکھا ؛ گھنٹوں ساتھ سفر کیا ، پہاڑوں اور صحراؤں میں بھی دن رات ساتھ رہے ۔
میں جوں ہی وظائف سے فارغ ہوتا جنات کا موضوع چھیڑ دیتے ؛ یہ موضوع ان کے لیے خاصہ دل چسپ تھا ، میں بھی خوش دلی سے انھیں کچھ آپ بیتیاں اور کچھ جگ بیتیاں سناتا ۔
پینتالیس سالہ فہد عبدالرحمن الشھرانی تو تسخیر جنات کے لیے بھی تیار ہوگئے تھے ، جنھیں بڑی مشکل سے ٹالا ۔
مجھے عملیات کے لیے مخصوص قسم کے پہاڑی علاقے میں جانا تھا ، جس کے لیے مقامی رہبر کی ضرورت تھی ، میزبان مکرم نے اپنے کچھ دوستوں سے رابطہ کیا جو مجھے وہاں لے جانے کے لیے تیار ہوگئے ۔
میں تقریباًتین گھنٹے کے سفر کے بعد ان کے ہاں پہنچا ، وہ بڑے پرتپاک طریقے سے ملے \\\" جیسے آج کل عرب ملتے ہیں \\\" ، پھر مجھے ساتھ لے کر چل پڑے ۔
ہم نماز عشاکے بعد ایک صحرا میں داخل ہوئے ، تقریباً دو گھنٹے کے عجیب وغریب سفر کے بعد اس کنویں تک پہنچے ، جہاں سے سمت کا تعین کرکے پہاڑی تک پہنچنا تھا ۔
جب مطلوبہ مقام تک پہنچے تو انھوں نے مجھے گاڑی سے اتار دیا ، میں مصلا وغیرہ لیے اپنی منزل کی طرف چلا گیا ۔
فجر کے قریب جب واپس لوٹا تو دیکھا کہ کچھ لوگ پہاڑیوں کی مختلف چوٹیوں پر گھوم رہے ہیں ، میں نے پوچھا:
اس پہر ان لوگوں کا یہاں کیا کام ؟
کہنے لگے:
یہ سونا تلاش کررہے ہیں ، یہاں کچھ پہاڑیوں سے سونے کے ٹکڑے برآمد ہوئے تھے جس کی وجہ سے یہ علاقہ قسمت آزماؤں کا مرکزِ نظر بن گیا ۔
ہم وہاں سے پلٹے تو فجر کا وقت شروع ہو گیا تھا لیکن پانی کا دور دور تک نشان نہیں تھا ، گاڑی میں پینے والے پانی کا کاٹن پڑا تھا ، میں نے اسی سے مسنون وضو کیا ، جس پر چار چھوٹی بوتلیں استعمال ہوئیں ۔
جب وضو سے فارغ ہوا تو دیکھا کہ میرے \\\" چار \\\" سعودی رفقا \\\" ایک \\\" چھوٹی بوتل سے وضو کرکے با جماعت نماز پڑھ رہے تھے ؛ حیرانی اور ہنسی کی ملی جلی کیفیت میں مَیں انھیں دیکھتا رہا ، میرے ساتھ ایک پاکستانی دوست بھی تھے ، وہ کہنے لگے آپ انھیں کرنے دیں جو کرتے ہیں !!
میں نے کہا:
یہ لوگ میری بات سمجھیں نہ سمجھیں ، میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ ایک چھوٹی سی بوتل سے چار بندے کیسے وضو کرلیتے ہیں ؛ کیا سفر میں وضو کی بھی قصر ہوتی ہے؟؟

پھر جب ان کے وضو کی حقیقت معلوم ہوئی تو بڑی اماں کی بات یاد آگئی:

\\\" مکے کولے بدو \\\"

کاشکے! متشدد مطوعوں نے انھیں شرک و بدعت کے علاوہ بھی کچھ سکھایا ہوتا ۔

✍لقمان شاہد
19/7/2018
https://www.facebook.com/qari.luqman.92