سب سے پہلے اِسلام قُبُول کرنے والا بچہ NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1792 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



جب سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے نبی ہونے کا اِظہار فرمایا تو عورتوں میں سب سے پہلے اُمُّ المؤمنين حضرت خَدِيجَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پر ایمان لائیں ۔ کچھ دن بعد امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو رشتے میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے چچازاد بھائی بھی تھے (اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر تقریباً 10سال تھی)،ان کے يہاں آئے تو تاجدارِ رِسالَت،ماہِ نُبُوَّت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اورام المؤمنين حضرتِخديجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نماز پڑھتے ديکھا۔ جب نماز ادا کر چکے توعرض کی :٭ يہ کیا ہے؟٭ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ والہ وسلم نے اِرشاد فرمايا: ٭يہ اللہ عَزّوَجَلَّ کا وہ دين ہے جو اس نے اپنے لئے چنا اور اسے پھيلانے کے لئے اپنے رسول بھيجے ،ميں تمہيں اللہ اور اس کی عبادت کی طرف بلاتا ہوں اور لات و عُزَّی کا اِنکار کرنے کا کہتا ہوں۔٭ حضرتِ سیِّدُنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:٭يہ بات تو ميں نے آج سے پہلے کبھی نہيں سنی اس لئے ميں اپنے والد سے مشورہ کئے بغير کوئی فيصلہ نہيں کر سکتا۔
٭ نبی کريم صلی اللہ تعالیٰ عليہ واٰلہ وسلم نے فی الحال اس راز کاحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد پر ظاہر ہو جانا پسند نہ فرمايا اور ارشاد فرمايا٭اے علی! اگر تم اسلام قبول نہيں کر رہے تو خاموش رہنا۔٭ مگراسی رات اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل ميں اسلام کی محبت ڈال دی۔چنانچہ صبح ہوتے ہی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ عليہ والہ وسلم کی بارگاہ ميں حاضر ہو کر عرض کی :٭ آپ صلی اللہ تعالیٰ عليہ والہ وسلم نے مجھ پر کیا پيش فرمايا تھا؟٭ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ عليہ والہ وسلم نے ارشاد فرمايا٭تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہيں ،وہ ایک ہے، اس کا کوئی شريک نہيں اور لات و عُزَّی کا انکار کر دو اور اللہ تعالیٰ کا مثل ماننے سے بَرِی ہو جاؤ۔٭حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان باتوں کو مانتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔
(اسد الغابہ ،باب العين واللام،ج۴،ص۱۰۱)

اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو